ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 23 part (1)
شاہ ویر ایک ٹک در ثمین کو دیکھنے لگا تھا اسے یہ بھی ہوش نہیں تھا کہ اسکا کان شبانہ بیگم کے ہاتھ میں ہے ، شاہ ویر کو خود کو دیکھتا پا کر در ثمین اپنی ہنسی روک گئی تھی اب سب شاہ ویر کی بے اختیاری پر ہنس رہے تھے شبانہ بیگم نے تھوڑا اور زور سے شاہ ویر کا کان کھینچا تو وہ ہوش میں آیا تھا ۔۔۔۔۔۔چاچی آپ نے تو سچ میں بدلہ لے لیا ، شاہ ویر نے کان کو سہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ اب کرو گے میری بیٹی کو تنگ شبانہ بیگم نے کہا ، چاچی ابھی تو تنگ کیا نہیں ہے ابھی تو تنگ کرنا باقی ہے شاہ ویر نے در ثمین کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی ایک آنکھ ونک کی تھی وہ تو شکر ہے کسی نے دیکھا نہیں اور نا شاہ ویر کی بات پر دھیان دیا ۔۔۔۔ تائی ۔۔۔۔۔امی ۔۔۔ میں نماز پڑھ کے آتی ہوں ، شاہ ویر کی بے باک باتیں اب در ثمین کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی تھی اسلیے اس نے وہاں سے رفو چکر ہونے میں ہی اپنی بھلائی سمجھی ۔۔۔۔۔۔ ہاں بیٹا جاؤ ۔۔۔۔۔انجمن بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا اور سب کو اور دوسری شاپنگ دکھانے لگی ، جب کہ شاہ ویر اپنے ذہن میں سے در ثمین کا ہنستا چہرہ بھلا نہیں پا رہا تھا اتنا مکمل اور حسین حسن وہ دل ہی دل میں اپنی قسمت پر رشک کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے اوپر وزن کو محسوس کر کے دریاب کی آنکھ کھلی تھی ، دیکھا تو قندیل دریاب کے سینے پر سوئی ہوئی تھی دریاب مسکرا کر رہ گیا تھا ، سامنے والا کلاک میں ٹائم دیکھا تو دن کے دس بج رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔دریاب حیران تھا زندگی میں پہلی بار اسے اتنی پُرسکون نیند آئی تھی ، یا شاید محرم کا لمس تھا ۔۔۔اور پھر اپنی ماں کا لمس تو وہ کب کا بھول چکا تھا مگر قندیل کے پاس آ کر اسے اتنی راحت ملے گی یہ آج اسے اندازہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔دریاب قندیل کی نیند کا خیال کرتے ہوئے اسے آرام سے کروٹ دلاکر اپنے سینے سے بیڈ پر منتقل کر گیا تھا ، قندیل کی پشت اپنے سینے سے لگائے اسے دوبارہ بانہوں میں بھر کر وہ آنکھیں موند چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب چاہتا تھا یہ حسین پل کبھی ختم ہی نا ہو ، واپس سوئے ہوئے مزید دو گھنٹے اور گزر گئے ، اب قندیل کی آنکھ کھلی تھی اسے واشروم جانا تھا ، اپنے اتنے قریب دریاب کو سویا دیکھ قندیل بلش کر گئی ۔۔۔۔۔ کل دریاب کی فکر دیکھ کر اسے اس بات کا تو اندازہ ہوگیا تھا کہ دریاب اسکی فکر کرتا ہے اور شاید محبت بھی مگر اسے جتانا نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔۔۔قندیل چاہتی تھی وہ اظہار کرے خود اپنی محبت کا ، قندیل نے آرام سے دریاب کا ہاتھ خود پر سے ہٹا کر واشروم جانا چاہا تھا ، دریاب کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔۔کہاں جارہی ہو دریاب نے قندیل کو خود سے دور ہوتا دیکھ کر کہا وا۔۔۔۔واشروم جانا ہے قندیل نے نظریں جھکائے ہوئے ہی کہا آو میں لے کر چلتا ہوں دریاب نے کہا ۔۔۔۔می۔۔۔۔۔۔میں چلی جاؤ گی آپ آرام کریں ۔۔۔۔۔
آپ آرام کریں ۔۔۔۔۔قندیل نے ایک نظر دریاب کی نیند کے خمار سے بھری آنکھوں میں دیکھ کر کہا ، یار چکرا کر گر گرا جاؤ گی میں ہوں ناں ۔۔۔ ویسے بھی تم نے کل سے کچھ کھایا ہوا بھی نہیں ہے تم پہلے باتھروم جاؤ فریش ہو کر آؤ میں جب تک ڈاکٹر سے پوچھ کر تمھارے لئے ناشتا تیار کرتا ہوں ، دریاب بیڈ سے اٹھ کر قندیل کے پاس آگیا تھا میں چلی جاؤ گی ابھی میں ٹھیک ہوں اور ۔۔۔۔۔اور ناشتا بھی خود بنالو گی ، قندیل نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا ، ایسے نہیں مانو گی تم دریاب نے کہتے ہی قندیل کے بات سمجھنے سے پہلے اس کو بانہوں میں اٹھا کر باتھروم میں لا کر کھڑا کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔اس سارے عمل کے دوران قندیل دریاب کے ایک انوکھے روپ سے متعارف ہورہی تھی ، دریاب کے چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔اور کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ بھی لا دونگا ، دریاب نے قندیل کو پریشان سا کھڑا دیکھ کر چھیڑا ، دریاب ۔۔۔۔۔آپ جائیں یہاں سے مجھے کچھ نہیں چاہئے ، قندیل نے بلش کرتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا تھا تو دریاب قندیل کا خیال کرتے ہوئے روم سے باہر آ چکا تھا ڈاکٹر شمشاد کو کال کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے وقت در ثمین جلدی جلدی کچن سمیٹ کر اپنے کمرے میں جانے کا سوچ رہی تھی ، ایک کپ چائے بنادو ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے کچن میں کھٹ پٹ کی آواز سنکر کچن میں جھانکتے ہوئے در ثمین کو کام سمیٹتا دیکھ کر کہا ، انکو بھی اس ٹائم آنا ضروری تھا در ثمین منہ بناتے ہوئے منہ میں ہی بڑبڑائی تھی ، کیا کہا ۔۔۔ شاہ ویر نے در ثمین کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی ، کچھ ۔۔۔۔۔نہیں بنارہی ہوں در ثمین نے شاہ ویر کی طرف بغیر دیکھے کہا تھا ساتھ ہی چائے بنانے لگی ، ویسے جب سے میں آیا ہوں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تم مجھ سے چھپتی پھرتی ہو ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے در ثمین کے پاس آتے ہوئے کہا نہیں تو ۔۔۔۔۔در ثمین نے فوراً نفی کی ، اچھا تو ایسی بات ہے۔۔۔۔۔۔ ایک بات سچ بتاؤ در ثمین ، کل تم عروسی کے دوپٹے میں واقعی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ جب تم مکمل عروسی کے لباس میں تیار ہوگی تب میرا کہا بنے گا میں کیسے خود پر قا۔۔۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔آپکی چائے بن گئی ہے ، شاہ ویر کی موجودگی اور پھر اس کی باتیں سن کر در ثمین کے ہاتھ اور پلکیں حیا سے لرز رہی تھی ، اس نے جلدی جلدی چائے بنا کر شاہ ویر سے اپنی جان چھڑانی چاہی ، اسلئے وہ شاہ ویر کی بات مکمل ہونے سے پہلے کاٹ گئی ۔۔۔۔۔۔ درے میری بات پوری سن تو لو اچھا اسے چھوڑو یہ بتاؤ جو فائز کہہ رہا تھا اس کے بارے میں کیا خیال ہے ، شاہ ویر نے ہنسی دباتے ہوئے کہا در ثمین جو جلدی جلدی کپکپاتے ہاتھوں سے چائے کے ساس پین کو دھو رہی تھی ایک لمحے کے لئے اسکے ہاتھ تھمے تھے شاہ ویر دیکھ چکا تھا در ثمین کی شرم سے سرخ پڑتا وجود اسلئے اسے چھیڑنے سے باز نہ آیا ۔۔۔۔۔۔ در ثمین شاہ ویر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے برتن کو دھو کر سنک میں رکھنے لگی تھی فائز تو پانچ کی بات کررہا تھا ، میں سوچ رہا ہوں دس ٹھیک ہے بچے ۔۔۔۔۔
اتنی بڑی شاہ حویلی ہے ویران سی لگتی بچے زیادہ ہونگے تو کچھ رونق تو ہوگی شاہ ویر در ثمین سے چار قدم کے فاصلے پر تھا ، در ثمین نے اب بھی کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔لگتا ہے تمھیں برا لگ گیا کم ہے نا ابھی بھی بچے ، اچھا تمھاری مرضی سے بارہ بچے ٹھیک ہے اس سے زیادہ نہیں ہونے چاہیے بچے درے ۔۔۔۔۔پھر ہم دونوں کی بھی لائف ہے کیا ساری زندگی ہم بچے ہی پالتے رہے گے ، در ثمین کا منہ دوسری طرف تھا اسلئے وہ دیکھ نہیں پا رہی تھی کہ شاہ ویر اپنی ہنسی کو کیسے کنٹرول کئے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔۔۔ بارہ بچے چاہیے در ثمین حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی کہ شاہ ویر باہر ملک سے آیا یا کسی بھینس کے باڑے میں رہ کر ۔۔۔۔۔۔ اب تو در ثمین کی بس ہوچکی تھی اس نے سوچا کب سے تنگ کررہا ہے شاہ ویر جاتے جاتے تو اسے سنا ہی دو نہیں تو سمجھے گا میں اس سے ڈر گئی ہوں اور بچوں کے لیے راضی ہوں بد تمیز کہی کا ، آپ کو بارہ بچے چاہیے تو جاکر کسی بھینس سے شادی کرلے مجھے چھوڑ دے ۔۔۔۔در ثمین نے پلٹ کر شاہ ویر کو گھورتے ہوئے کہا اور کچن سے نکلنے لگی تھی در ثمین کے پلٹتے ہی شاہ ویر اپنی دانت بند کر چکا تھا ، لیکن در ثمین کی بات سن کر شاہ ویر کو ہنسی آگئی تھی جو در ثمین کو آگ لگانے کے لیے کافی تھی ۔۔۔۔۔ شادی بھی تم سے ہی کرنی اور بچے بھی ، پھر وہ دس ہو یا بارہ شاہ ویر نے کچن سے نکلتی ہوئی در ثمین کا ہاتھ اپنی طرف کھینچا تھا تو وہ کٹی ہوئی ڈال کی طرح اسکے سینے سے آ لگی تھی ۔۔۔۔۔در ثمین شاہ ویر کے سینے پر ہاتھ فاصلہ بنا گئی تھی لیکن اسکا ایک ہاتھ اب بھی شاہ ویر کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔۔بولنا زرا کیا بول رہی تھی ، ابھی شاہ ویر نے در ثمین کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
۔۔۔۔۔در ثمین شاہ ویر کے سینے پر ہاتھ فاصلہ بنا گئی تھی لیکن اسکا ایک ہاتھ اب بھی شاہ ویر کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔۔بولنا زرا کیا بول رہی تھی ، ابھی شاہ ویر نے در ثمین کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ، ک۔۔۔۔۔کچھ ۔۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔در ثمین بمشکل بول پائی تھی، شاہ ویر ہنسا تھا در ثمین کی حالت پر ۔۔۔۔۔۔یاد آیا ۔۔۔۔۔میں نے ابھی تک تمھاری نظر نہیں اتاری اپنے طریقے سے۔۔۔۔۔شاہ ویر کی بے باک بات پر در ثمین نے نظر اٹھا کر شاہ ویر کو دیکھا تھا جسکی گہری براؤن آنکھوں میں شرارت صاف ظاہر تھی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کا ارادہ تھا در ثمین کے ماتھے پر محبت بھرا لمس چھوڑنے کا تاکہ وہ شادی کے دن تک اسکے حصار سے نکل نا پائے ۔۔۔۔۔ شاہ ویر در ثمین کی طرف ابھی جھک ہی رہا تھا ، شاہ ویر تائی امی۔۔۔۔۔ در ثمین نے اچانک سے کہا تو شاہ ویر نے گھبرا کر سیدھے ہوتے ہوئے در ثمین کا ہاتھ چھوڑ کر دوسری طرف چہرہ کرلیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین شاہ ویر کی حالت دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگی تھی ، در ثمین کی ہنسی کی آواز سن کر شاہ ویر مڑا تھا شاہ ویر ایک سیکنڈ میں سمجھ گیا تھا یہ در ثمین نے اس سے بدلہ لیا ۔۔۔۔۔۔ درے رکو ابھی بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔شاہ ویر ہنسا تھا ، شاہ ویر ابھی در ثمین کو پکڑنے کے لیے اس کے قریب آتا اس سے پہلے وہ ہنستی ہوئی بھاگ کر سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا دی تھی ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر کچن میں کھڑا ہوا در ثمین کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ، بس کچھ دن اور پھر تم نے بھاگ کر بھی واپس میرے ہی پاس لوٹنا ہے شاہ ویر کچن میں سے چائے کا کپ اٹھائے سوچتا ہوا اپنے کمرے میں آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔