ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 22 part (1)
ایسا کرتا ہوں میں جاتا ہی نہیں ہوں چینج کرنے دریاب نے واپس قندیل کے پاس بیٹھتے ہوئے نرم لہجے میں کہا قندیل کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ نرم پڑ گیا تھا ، بلاشبہ وہ اتنا تھکا ہوا ہونے کے بعد بھی حسین اور جازب نظر آ رہا تھا ، دوسرا اسکا بار بار پڑتا نرم لہجہ قندیل اسکی دیوانی ہوتی جارہی تھی میں نے ۔۔۔ یہ نہیں کہا کہ آپ چینج نہ کریں ، بس آپ جلدی آ جائیں میرے پاس واپس قندیل نے نظر چراتے ہوئے سوں سوں کرتی ناک کے ساتھ آہستہ سے کہا ۔۔۔۔۔۔ اچھا بھئی دریاب نے اٹھ کر وارڈوب سے بلو شرٹ نکال لی تھی ۔۔۔۔۔۔۔معمول کے حساب سے شاور لینے کا دل تھا مگر قندیل کا ڈر دیکھ کر دریاب نے بس شرٹ چینج کرنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔۔ قندیل کے سامنے ہی دریاب نے شرٹ چینج کرلی تھی ، شرٹ چینج کرنے کے بعد دریاب واپس بیڈ پر قندیل کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اور پھر گردن اسکے بعد ہاتھ پکڑ کر قندیل کا بخار چیک کیا تو وہ اب بھی گرم تھی ، مگر پہلے سے کچھ کم ، سر دباؤ ۔۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل سے کہا ، تو قندیل نے زبان سے کچھ کہے بنا آنکھوں سے ہاں کا اشارہ دے گئی تھی دریاب نے ہلکے ہلکے ہاتھ سے قندیل کا سر دبایا ۔۔۔۔۔تو وہ دریاب کا محبت بھرا مہربان لمس محسوس کرکے آنکھیں موند گئی ، اسکے چہرے پر سکون اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے ، قندیل کی سانسیں بھاری ہوگئی تھی وہ سو چکی تھی دوائیوں کے اثر میں دریاب نے قندیل کے سر سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اسکی گرم پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے وہ مسکرا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کو روم میں سوتا ہوا چھوڑ کر دریاب باہر آگیا صفائی کرنے پہلے
دریاب نے پینٹ چینج کی اور پورے برآمدے میں پونچا لگا کر فرش کو صاف کیا۔۔۔۔۔
اسکے بعد آرام سے وارڈروب میں سے دوسرے کپڑے لے کر باہر ہی والے واشروم میں شاور لینے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔یہ سوچ کر کہ وہاں قندیل کی نیند میں خلل نا ہو ، نہانے کے بعد دریاب باہر ہی بیٹھا تھا کہ لائٹ چلی گئی۔۔۔۔ اوہ نو دریاب نے کہا ، تبھی اس کے کانوں میں قندیل کے چیخنے کی آواز آئی دریاب فوراً کمرے کی طرف بڑھا تھا کہ اندھیرے میں بجلی کی تیزی سے آتی ہوئی قندیل کی دریاب سے ٹکر ہو گئی ، کیا ہوا قندیل تم چیخی کیوں ، میں ابھی اندر ہی آ رہا تھا دریاب نے قندیل کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لیتے ہوئے کہا وہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھے مار دے گی ۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔مجھے بچا ۔۔۔۔۔لے دریاب ۔۔۔۔۔۔ قندیل دریاب کے سینے سے لگی ہوئی سسک رہی تھی۔۔۔۔۔۔ کون ۔۔۔دریاب نے کہا دریاب مجھے بچا لو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ، قندیل خوف سے سسکنے کے ساتھ کانپ بھی رہی تھی اور ڈر کر دریاب میں گھسے جارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔قندیل کس سے ڈر لگ رہا ہے میری جان مجھے بتاؤ تو صحیح دریاب نے اندھیرے میں ہی قندیل کے سر پر لب رکھتے ہوئے کہا ، اتنا ڈر ہونے کے بعد بھی قندیل نے جاگتی حالت میں دوسری بار دریاب کا لمس محسوس کیا ، تو اسے کچھ دلاسہ ہوا۔۔۔۔۔۔ دریاب۔۔۔۔۔۔دریاب وہ مجھے چڑیل۔۔۔۔۔۔۔چڑیل نظر آرہی ہے نا۔۔۔۔۔۔ اس سے ڈر لگ۔۔۔۔۔ رہا ہے قندیل نے اٹکتے ہوئے کہا قندیل اچھا اندر چلو ٹارچ آن کرتے ہیں میں بھی تو دیکھوں نا کیسی چڑیل ہے کہیں میری بیوی سے زیادہ حسین تو نہیں دریاب نے اپنے سینے سے لگی قندیل کو چھیڑا ۔۔۔۔دریاب میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔دریاب میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔ہر وقت مذاق کرتے رہتے ہیں قندیل نے روتے ہوئے کہا قندیل لائٹ آگئی ہے چلو کمرے میں ، دریاب مجھے چکر آ رہے ہیں قندیل نے دریاب سے دور ہوتے ہوئے کہا قندیل گرنے ہی والی تھی کہ دریاب نے بروقت قندیل کو تھام کر گود میں اٹھا کر بیڈ تک لا کر احتیاط سے لٹا دیا۔۔۔۔۔۔۔قندیل ۔۔۔۔۔دریاب نے قندیل کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تو قندیل آنکھیں کھول گئی ، قندیل تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔دریاب نے فکر مند ہو کر پوچھا ، جی قندیل بس اتنا ہی بول پائی ۔۔۔۔۔ایک بات بتاؤ قندیل کیا تم نے آج ڈراؤنی فلم دیکھی تھی دریاب نے تجسس بھرے انداز میں قندیل کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ ن۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔آج تو نہیں دیکھی قندیل نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ، اور اٹھ کر بیٹھ گئی آج نہیں دیکھی مطلب ۔۔۔۔۔کچھ چھپا رہی ہو نا تم مجھ سے دریاب نے قندیل کو گھورا ہاں وہ ابھی نہیں بہت پہلے دیکھی تھی ڈراونی فلمیں قندیل نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ مگر کیوں دریاب نے تھوڑا سا غصے میں کہا تمہیں جب ڈر لگتا ہے تو تم نے کیوں دیکھی قندیل واپس رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔قندیل یار جب تمہیں پتہ ہے وہ تمہارے دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے تو تم نے ایسی حرکت کیوں کی ، پاگل ہو کیا دریاب نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ پاگل ہوں۔۔۔۔۔۔ پر اپ کو اس سے کیا ، قندیل نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا قندیل میں تمھارے ڈر کی وجہ سے ہی کہہ رہا ہوں کیوں دیکھی دریاب نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ آپ کی وجہ سے ، آپ کو پس ۔۔۔۔۔ پسند ڈراؤنی فلمیں۔۔۔۔ اسلیے دیکھی۔۔۔۔۔۔ تاکہ آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔آپ کے لیے کیا سب ۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ۔۔۔۔ آپ ہی ڈانٹ رہے ہیں مجھے ، قندیل نے روتے ہوئے نظریں جھکائے ہوئے کہا ، دریاب ایک لمحے کے لیے دنگ رہ گیا کیا واقعی قندیل اس کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ، واقعی دریاب کے لئے اسے اپنے دماغ کی بھی پرواہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مگر آپ کو کیا۔۔۔۔۔ بدلے لیں آپ ۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔اور ائندہ فضول میں میری فکر مت کیجئے گا ۔۔۔۔۔ میں خود کو سنبھال سکتی ہوں جائیں ،
شکریہ بہت خیال رکھنے کا میرا قندیل نے اپنے آنسو صاف کیے جو تواتر اسکی آنکھوں سے جاری تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل کو اپنا سر درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ، وہ اپنے چکراتے سر کو تھام گئی ۔۔۔۔۔قندیل ، یار سوری ۔۔۔۔۔۔کیا ہورہا ہے ، چکر آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ تم لیٹو دریاب نے قندیل کو احتیاط سے لٹاتے ہوئے کہا ، قندیل کا جسم پھر سے گرم ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔دریاب قندیل کے دوسری طرف آکر بیٹھ گیا ، اور ہلکے ہاتھ سے سر کو دبانے لگا قندیل کی بار بار بگڑتی حالت دریاب کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی قندیل یار سوری میں نے غصہ کیا پلیز تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر عقیدت سے چوما تھا ، قندیل کے آنسو اب بھی نکل نکل کر تکیے میں جذب ہورہے تھے وہ ایک نظر دریاب کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ یار قسم لے لو میں نے کوئی بدلہ نہیں لیا تم سے اور نا لے سکا ، میری نیت تھی نکاح سے پہلے تک یہی مگر تمھیں دیکھ کر میں سب بھول گیا ۔۔۔۔۔۔ بس جو کیا تمھیں چھیڑنے کے لیے تنگ کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔ سچ بتاؤ ۔۔۔۔۔ مجھ سے نہیں دیکھا جارہا تمھیں اس حالت میں اسلئے بس غصہ کرگیا ، سوری دریاب قندیل پر جھکا ہوا آہستہ آہستہ اپنی اس محبت کا اعتراف کررہا تھا جسکا اسے خود علم نہ تھا ۔۔۔۔۔ دریاب نے جھک کر اپنے لبوں سے قندیل کے آنسو چنے تھے ، اس عمل کے درمیان قندیل اپنا سانس روک چکی تھی ، میرے سامنے روؤ گی تو اب میں یہی کرونگا آئی سمجھ مسسز دریاب۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کے ماتھے پر عقیدت بھرا لمس چھوڑ کر مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔۔اب تم آرام کرو میں باہر جارہا ہوں باقی باتیں صبح کرینگے دریاب اپنی بات کہہ کر قندیل سے دور ہوا تھا کہ قندیل نے دریاب کی شرٹ پکڑ لی ۔۔۔۔۔۔ ہممم کیا ہوا نہیں جاؤ باہر ، قندیل بھیگی آنکھوں سے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے یہی لیٹ جاتا ہوں دریاب نے قندیل سے تھوڑی دوری بنا کر لیٹتے ہوئے کہا
قندیل سے تھوڑی دوری بنا کر لیٹتے ہوئے کہا ، میرے ۔۔۔۔۔پاس ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔نیند نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔ڈر ۔۔۔۔۔قندیل نے دریاب سے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ میری جان کو میرے ہوتے ہوئے کس سے لگ رہا ڈر ۔۔۔۔دریاب قندیل کے نزدیک ہو کر لیٹ گیا تھا ، قندیل کچھ پل سوچنے کے بعد دریاب کے پاس کھسکتی ہوئی اسکے سینے پر سر رکھ گئی ، اب نہیں۔۔۔۔ ہے ڈر۔۔۔۔۔قندیل لڑنے اور بیماری کی وجہ سے دریاب کے سینے پر نڈھال سی آنکھیں بند کئے لیٹ چکی تھی ، دریاب نے بھی قندیل کے گرد اپنے بازوؤں کا حصار بنالیا تھا ۔۔۔۔۔۔ جہاں دریاب کا وجود قندیل کے لئے محرم اور محفوظ پناہ گاہ تھا وہیں قندیل کا وجود بھی دریاب کے لئے سکون کا باعث تھا ۔۔۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں قندیل سو چکی تھی ، دریاب مسلسل قندیل کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کوئی انسان ایسا کیسے کر سکتا ہے جان بوجھ کر ، شاید میں شروع سے ہی غلط تھا ۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے انتقام کی آگ میں اپنے دل کو تو جلایا ساتھ میں قندیل کے دل کو بھی جلا کر راکھ کر دیا ۔۔۔۔۔ وہ بچاری مجھ سے کتنی محبت کرتی رہی اور میں بس اپنے انتقام کو سوچتا رہا ۔۔۔۔۔مگر میں یہ کیوں بھول گیا ہر کام خدا ہماری بہتری ہی کے لیے کرتا ہے۔۔۔۔ قندیل نے تو میرے ساتھ کچھ غلط کیا ہی نہیں کبھی ، وہ تو میرا اچھا چاہتی تھی ، اور اگر قندیل نے میرے ساتھ کچھ غلط کیا بھی ہوتا تو میں اس کا اختیار خدا کو دیتا ۔۔۔۔۔۔میں کون ہوتا ہوں کسی کو سزا دینے والا ہے ۔۔۔۔۔ یااللہ مجھے معاف فرما دے ، جانے انجانے میں کئی غلطیاں کر بیٹھا ہوں کیا منہ لے کر حاضر ہوں گا بروز قیامت تیرے اور تیرے محبوب محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کہ میں۔۔۔۔۔میں وہ انسان ہوں جو خود کو اتنا بڑا سمجھتا ہے کہ اسے خدا سے انصاف مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی ۔۔۔۔۔۔۔استغفراللہ ۔۔۔۔اس انتقام کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی جو مجھے چاہتی ہے محبت کرتی مجھ سے ۔۔۔۔میں نے اس کا ایک بھی حقوق طریقے سے ادا نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔دریاب رو رہا تھا وہ اپنی خطاؤں پر نادم تھا ۔۔۔۔۔۔
