Episode 21 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 21 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 21 part (2)

دریاب جلدی جلدی کر کے ساڑھے دس بجے جب کوارٹر میں پہنچا تھا، دو بار بجانے پر جب دروازہ نہیں کھولا گیا ، تو دریاب ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا قندیل کے بے ہوش ہونے کے پانچ منٹ بعد ہی لائٹ آ چکی تھی ، قندیل کے دروازہ نا کھولنے پر دریاب سمجھا قندیل سو گئی ہے ، لیکن اتنی جلدی ۔۔۔۔۔۔دریاب اپنی سوچوں میں مگن باہر کا دروازہ لاک کر کے کمرے کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ سامنے کا منظر دیکھ اسے حیرت کا جھٹکا لگا ، ڈائننگ ٹیبل کے پاس قندیل بے ہوش پڑی تھی ،ٹائلز پر کافی خون تھا ساتھ ہی اس کے ماتھے پر سے ہلکا ہلکا سا خون رس رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب ایک جست میں قندیل کے پاس پہنچا تھا ، قندیل۔۔۔۔۔۔ قندیل۔۔۔۔۔۔ دریاب نے جلدی سے آگے بڑھ کر قندیل کے بے ہوش وجود کو سیدھا کیا ، قندیل کو چھونے پر دریاب کو احساس ہوا کہ وہ تو تیز بخار میں بھی تپ رہی ہے ، اسکے پورے وجود سے آگ نکل رہی تھی دریاب نے قندیل کا سر اپنے گھٹنوں پر رکھ کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے اپنی جیب سے رومال نکال کر قندیل کے سر پر لگے زخم پر باندھا کہ کم سے کم خون تو بند ہو ، زخم زیادہ بڑا نہیں تھا مگر شاید اندرونی لگا تھا اسلئے خون زیادہ نکل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کو اس حالت میں دیکھ کر دریاب کی تو ہمت ہی جواب دے گئی ، ایسا معاملہ اسکے ساتھ پہلی بار پیش آیا تھا ، کہ اسکے کسی اپنے دل کے قریب انسان کو چوٹ لگی ہو ، قندیل یار اٹھو پلیز ۔۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کو اٹھا کر بیڈ روم میں لے آیا تھا ، قندیل کو ہوش میں نا آتا دیکھ دریاب نے ایک جاننے والے ڈاکٹر کو کال ملائی ۔۔۔۔السلام علیکم ڈاکٹر شمشاد۔۔۔۔۔۔ کیا اپ ابھی میرے گھر آ سکتے ہیں بہت ارجنٹ ہے ، ایمرجنسی ہے ۔۔۔۔دریاب نے موبائل کان پر لگا کر کہا ، تھینک یو ۔۔۔۔۔ تھینک یو سو مچ۔۔۔۔۔پلیز جلدی آئیے گا ۔۔۔۔۔۔دریاب نے اپنا موبائل بند کر کے سائیڈر پر رکھ دیا ، بخار بھی اتنا ، خون بھی اتنا بہہ گیا ہے ، یہ سب کیسے ہوگیا ، کم از کم بخار کا تو مجھے کال پر بتا سکتی تھی۔۔۔۔۔۔

 

 

دریاب نے قندیل پر کمبل سیٹ کر کے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے منہ پر پریشانی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا ، قندیل ۔۔۔۔۔قندیل اٹھو کیا ہوا ہے یار تمہیں قندیل دریاب نے قندیل کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ، ڈور بیل بجی تو دریاب نے بھاگ کر دروازہ کھولا تھا ، کیا بات ہے دریاب ڈاکٹر شمشاد نے پریشان ہو کر کہا ڈاکٹر شمشاد ساٹھ سال کے رعب دار اور سمجھدار انسان تھے ، سر میری وائف پلیز ان کو دیکھ لیں ان کو بخار بھی اور تو سر پر بھی چوٹ آئی ہے۔۔۔۔۔دریاب نے ڈاکٹر شمشاد کو بیڈ روم تک لے جاتے ہوئے بتایا ، اوہ نو ۔۔۔۔ ان کا بی پی تو بہت ہی زیادہ لو ہے اور بخار بھی بہت تیز ہے ، لگتا ہےان کا بلڈ کافی بہہ چکا ہے ڈاکٹر شمشاد نے معائنہ کرنے کے بعد کہا جی سر دریاب نے پریشانی سے کہا اینی پرابلم ۔۔۔۔دریاب میرا مطلب یہ سب کیسے ہوا ، آپ دونوں کی کوئی لڑائی جھگڑا ڈاکٹر شمشاد نے رومال کھول کر بینڈیج کرتے ہوئے کہا۔۔۔نو ۔۔۔۔ نو سر دراصل میں ڈیوٹی پر تھا آنے میں دیر ہو گئی تھی آج جب میں کوارٹر میں آیا تو قندیل مجھے اس حالت میں ملی شاید گر گئی ہے اور ڈائننگ ٹیبل کا کونا لگ گیا ۔۔۔۔ دریاب نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ان کو بخار ہے شاید صبح سے تم انہیں ہاسپٹل نہیں لے کے گئے ، اور دوسری بات آپکی وائف کسی بات کو لیکر اسٹریس یا ڈپریشن میں ۔۔۔ڈاکٹر نے انجیکشن لگاتے ہوئے کہا سر میں مانتا ہوں اس میں کہیں نہ کہیں میری بھی غلطی ہے ۔۔۔۔۔سر آج کل کام کا پریشر بہت آیا ہوا ہے تو اس لئے قندیل پر دھیان نہیں دے سکا دریاب نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا ، دریاب قندیل کو میں نے ڈرپ لگا دی ہے دعا کریں انہیں جلدی ہوش آ جائے ۔۔۔۔۔ جتنی جلدی ہوش آئے گا اتنی ہی جلدی ریکوری ہوگی ، اوکے آپ کل ایک بار چیک اپ کے لئے کلینک لے آنا اور یہ دو میڈیسن کھلانی ہے دو گھنٹے بعد ۔۔۔۔۔اسکے بعد صبح ناشتے کے بعد ڈاکٹر شمشاد نے اپنے سوٹ کیس میں سے میڈیسن نکال کر دریاب کو د

 

Author Image

مصنف کے بارے میں

رائٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *