Episode 21 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 21 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 21 part (1)

۔۔۔۔۔کل اگر میں جلدی آیا تو جو کہو گی وہ بنا کر کھلاؤ گا ۔۔۔۔۔بریانی ، قورمہ ، روٹی ، بیسن کے آلو ، کوفتے ، پالک ، وائٹ کڑاہی ، جو بھی ۔۔۔۔۔دریاب نے ماہرانہ شیف کی طرح کہا ، ارے میں یہ کیسے بھول گئی میسنا ماسی کہیں کا ۔۔۔۔۔اسے تو سارے کام آتے ہیں ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے دل میں سوچا ، اور مسکرا کر دریاب کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔  شاہ ویر در ثمین کو پوری شاہ حویلی میں تلاشنے کے بعد ٹیرس پر آ پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین ہمیشہ کی طرح ٹیرس کے واحد روم میں نماز پڑھنے میں مشغول تھی ، شاہ ویر در ثمین کی نماز ختم ہونے کے انتظار میں ٹیرس پر ٹہلنے لگا ، در ثمین شاہ ویر سے بے خبر نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتی ہوئی رو رہی تھی ، اسکی گھنی پلکیں اسکے سفید نرم گالوں پر جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی شفاف موتی جیسے آنسو اسکے چہرے پر سے پھسل کر کبھی اسکی ہتھیلی تو کبھی اسکی کالی چادر میں جذب ہورہے تھے ، کالی چادر میں اسکا چہرہ کالی رات میں مہتاب کی طرح دمک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی نظر جب روتی ہوئی در ثمین پر پڑی تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا ، در ثمین روز نماز پڑھنے کے بعد ٹیرس پر ٹہلتے ہوئے اذکار کیا کرتی تھی ، آج بھی وہ اسی نیت سے روم سے باہر نکلی تو سامنے شاہ ویر کو بیٹھا دیکھ کر اسکا منہ کڑوا ہوگیا ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی نظریں خود پر پا کر وہ نیچے کا رخ کر گئی ۔۔۔۔۔۔ایک منٹ ۔۔۔۔ یہ کس خوشی میں ندیاں بہائی جارہی تھی ، بتانا پسند کرے گی شاہ ویر جو اس دن سے اس سے بات کرنے کے لیے ترس رہا تھا ، آج جب موقع ملا تو اسکو یوں بھاگتے دیکھ ایک لمحے کے لیے تلملا گیا ، مگر پھر خود پر کنٹرول کرتے ہوئے در ثمین کو مخاطب کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔

 

اٹس ناٹ یور بزنس ۔۔۔۔۔its not ur business… یہ تمھارا معاملہ نہیں ہے ۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر کو غصے میں دیکھتے ہوئے اپنی بات مکمل کر کے پلٹ کر جانے والی تھی ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر ایک ہی جست میں اس تک پہنچا تھا ، درے یہ اتنا ایٹیٹیوڈ کس لئے دکھا رہی ہو تم۔۔۔۔ میں پیار سے پیش آ رہا ہوں اسکا یہ مطلب نہیں تم بدتمیزی سے پیش آؤ مجھے سے ، شاہ ویر نے در ثمین کے سامنے آ کر اسکا راستہ روکا تھا ۔۔۔۔۔۔پلیز شاہ ویر میرے منہ نہ لگے ورنہ میں اس سے بھی زیادہ برا پیش آؤ گی ۔۔۔۔۔در ثمین کو ایک لمحے کے لیے اپنی غلطی کا احساس ہوا ، کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی غصے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ روئی اجلی سی آنکھیں ، رونے کے باعث سرخ ناک ، سفید گال، گلاب جیسے ہونٹ ، اور ہونٹوں سے نکلتے سخت الفاظ شاہ ویر نے در ثمین کا جائزہ لیتے ہوئے سوچا ، میں کب لگا تمھارے منہ ۔۔۔۔۔۔ اگر لگا ہوتا تو ابھی یہ آگ نہیں برسا رہی ہوتی تم ، شاہ ویر نے در ثمین کے قریب ہو کر آہستہ آواز میں کہا اور مسکرا گیا ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی بات سنتے ہی ایک لمحے میں در ثمین کے گال سفید سے سرخ ہوتے تھے ، ابھی جو آنکھیں ملا کر شاہ ویر سے بات کررہی تھی وہ شرم سے جھک گئی ، اور زبان جیسے تالو سے چپک گئی ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کب شاہ ویر سے ایسے جملے کی امید کی تھی ، وہ خود کو نارمل کرکے کچھ بولنے کی ہمت ہی کررہی تھی کہ صبا آگئی ، ویر بھائی ، ویر بھائی آپ کے چکر میں میری ٹانگیں ٹوٹ گئی ۔۔۔۔۔۔صبا آواز دیتی ہوئی اوپر پہنچی تو شاہ ویر بھی در ثمین سے فاصلے پر ہوگیا تھا ، کوئی بات نہیں اپنی پیاری بہن کے لیے میں ویل چیئر کا انتظام کر دونگا ۔۔۔۔۔مگر دوبارہ اگر میں ٹیرس پر ہوں تو بلانے نہیں آنا ، شاہ ویر نے بدمزہ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ آپ اکیلے ہو تب بھی نا آؤ ، ایک بار ہی بتادے ، گھر والوں کو میں ہی ملتی ہوں ہر کام کے لئے ، اور غصہ اتارنے کے لئے بھی ،صبا نے در ثمین اور شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگالیا تھا کہ وہ کباب میں ہڈی بن چکی ہے اس لیے شاہ ویر بھائی انگارے چبا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ صبا۔۔۔۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ہے ، تم جب چاہو ، جہاں چاہو آ جا سکتی ہو ۔۔۔۔ تمھارے بھائی کو تو فضول بات کرنے کی عادت ہے ۔۔۔۔۔

 

مذاق کر رہے ہیں تم سے ، ہے نا شاہ ویر ، در ثمین نے صبا کا موڈ آف ہوتے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔میں مذاق کررہا تھا ، اور تم میری چھوٹی سی گڑیا ہو ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے صبا کی بات اور در ثمین کی بات پر ہنسی دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ آپ کو تائی امی بلا رہی تھی ، اسلئے میں آگئی مجھے پتہ میں نے آپ دونوں کا سین خراب کردیا ، ایسا میں نے دیکھا تھا ڈرامے میں ۔۔۔۔۔۔صبا کی بات سنکر در ثمین تو حیران اور پریشان ہوگئی ۔۔۔۔۔جبکہ شاہ ویر کا قہقہہ بلند ہوا تھا ، بیٹا نیچے چلو تمھارے ڈرامے بند کرواتی ہوں ، صحیح کہتی تھی قندیل ، پتہ نہیں کیا کیا دیکھتی اور سوچتی رہتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا یہاں ، در ثمین نے شاہ ویر کے سامنے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا اور صبا کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈانٹتی ہوئی نیچے لے گئی ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر بھی انکے پیچھے ہنستے ہوئے آگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔   رات کے آٹھ بج چکے تھے ، اور دریاب اب تک ڈیوٹی سے نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔قندیل پورے کوارٹرز میں دریاب کے انتظار میں پاگلوں کی طرح گھوم رہی تھی ، خود کو مصروف کرنے کے لیے وہ کتاب کا مطالعہ کرنے لگی ۔۔۔مگر اس سے بھی جلد ہی بوریت ہوگئی ، وہ اٹھ کر کوارٹر میں لگے ہی ٹی سی ایل کی طرف آگئی ۔۔۔۔۔السلام وعلیکم دریاب ۔۔۔۔۔۔ آپ ابھی تک نہیں آئے کہاں رہ گئے قندیل نے پی ٹی سی ایل پر دریاب سے بات کرتے ہوئے کہا ، ہاں یار وہ تھوڑا مسئلہ ہو گیا میں صبح تک آ جاؤں گا ، تم کھانا کھا کر سوجاؤ چابی ہے میرے پاس کوارٹر کی ۔۔۔۔۔۔ دریاب کی آواز پی ٹی سی ایل پر ابھری تھی کہ لائٹ چلی گئی ، اب تو قندیل کو خوف نے اور آ گھیرا ۔۔۔۔۔۔دریاب مجھے ڈر لگ رہا ہے لائٹ بھی چلی گئی ہے ، اور جنریٹر بھی نہیں چلا ، کل بھی آپکے سامنے دو گھنٹے تک نہیں چلا تھا ۔۔۔۔۔۔پلیز دریاب آپ وہاں رات رکیے گا

 

کل بھی آپکے سامنے دو گھنٹے تک نہیں چلا تھا ۔۔۔۔۔۔پلیز دریاب آپ وہاں رات رکیے گا نہیں جلدی آنے کی کرے ، قندیل نے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا قندیل یار گھبراؤ نہیں ۔۔۔۔۔کچھ بھی تو نہیں ہے کواٹر میں ، میں کوشش کروں گا جلدی آنے کی ٹارچ ہوگی ناں وہ آن کرلو ۔۔۔۔۔اوکے مجھے سر بلا رہے ہیں دریاب نے قندیل کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔دریاب مجھے نہیں پتہ آپ ائے ، قندیل بولنے ہی لگی تھی۔۔۔۔۔ فون پر کال ڈسکنکٹ ہوگئی ، بند کر دیا فون بدتمیز دریاب نے کیا کروں میں اب ، قندیل نے فون کریڈل پر رکھ کر ڈرتے ہوئے سوچا ، آج صبح سے اسے اپنے سر میں درد محسوس ہو رہا تھا ، اور اب تو جسم بھی گرم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔اوپر سے اندھیرے میں آتے ہوئے ڈراونے خیالات اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے کبھی کٹا ہوا سر ، تو کبھی خون سے لت پت بھری لاش ، تو کبھی خوفناک چہروں کی چڑیلیں ٹوٹے ہوئے ہاتھ پاؤں کیساتھ اسے ادھر سے ادھر چلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ قندیل ٹارچ لئے ان خیالات سے ڈر کر کبھی ڈرائنگ روم میں تو کبھی بیڈ روم میں تو کبھی کچن یا برآمدے میں گھوم کر اپنا وقت گزار رہی تھی ، دس بجے گئے تھے اسے ایسے گھومتے ہوئے اور خوف کھاتے ہوئے ، اب تو اسکی ٹانگیں بھی جواب دے گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ڈھے کر ہال میں لگے صوفے پر پشت لگا کر سانس لینے لگی ۔۔۔۔۔تبھی اسے لگا کہ دیوار سے دو جلے ہوئے ہاتھ نکل کر اسے اپنی طرف کھینچنے والے ہیں وہ ٹارچ ہاتھ میں لئے ان سے بچنے کے لیے بھاگنے لگی تو اس کا پاؤں مڑا تھا جس سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی سامنے بنی ڈائننگ ٹیبل سے اسکا سر بہت زور سے ٹکرایا ، اسکے گرنے ساتھ ہی لائٹ اسکے ہاتھ سے گری تھی ، وہ اوندھے منہ گری ہوئی تھی اسکے ماتھے سے خون فوارے کی طرف ابل رہا تھا، دریا۔۔۔۔۔۔۔۔ب۔۔۔۔۔ غشی میں جانے سے پہلے اس نے دریاب کا نام پکارا تھا ، اسکے بے ہوش ہوتے ہی ڈراؤنے خیالات بھی ختم ہوچکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Author Image

مصنف کے بارے میں

رائٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *