ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 20 part (1)
اچھا کوشش کروں گا ایسا کبھی نا ہو ، لیکن قندیل فوجیوں کی بیویوں کو ڈرپوک نہیں ہونا چاہیے ، آئی سمجھ دریاب نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ میں تو ایسی ہی ہوں یا تو آپ دوسری شادی کر لیں بہادر بیوی لانے کے لیے قندیل نے دریاب کی بات کو الٹا مطلب سمجھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ اللہ خیر کرے ۔۔۔۔ میرا تو ایک سے ہی دل بھر گیا دوسری کا تو مر کر بھی نا سوچوں دریاب نے مذاق کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ایسا بھی کوئی ظلم نہیں کیا میں نے آپ کے ساتھ دریاب قندیل نے جل بھن کر کہا ۔۔۔۔۔۔ بی جان ۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔میں تیار ہوں ۔۔۔۔۔در ثمین نے نظریں جھکائے کہا۔۔۔۔۔۔ تیار ، رخصتی کے لیے ، ادھر دیکھو میری طرف ۔۔۔۔۔ بی جان نے در ثمین کا سفید چہرہ اپنے دایاں ہاتھ سے اونچا کر کے اسکی آنکھیں پڑھنے کی کوشش کی ، بی جان کی جان کچھ دن پہلے آپ نے منع کیا تھا اب یوں اچانک ۔۔۔۔۔کہیں شاہ ویر نے تو کچھ نہیں کہا ،بی جان نے در ثمین کی روئی ہوئی آنکھیں دیکھتے ہوئے بات کی تہہ پر پہنچی ۔۔۔۔۔ ابھی بلاتے ہیں اسکو ، شاہ ویر ، یہاں آؤ فوراً ہمارے کمرے میں ، بی جان کو شاہ ویر سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ در ثمین کو دھمکا کر اپنی بات منوائے گا ۔۔۔۔۔ ن۔۔۔۔نہیں بی ۔۔۔۔۔بی جان ۔۔۔۔انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔ بس کل سے میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی ، در ثمین نے بی جان کو غصہ میں آتا دیکھ فوراً کہا ، شاہ ویر جو ڈرائنگ روم میں لیپ ٹاپ پر کچھ کام کررہا تھا وہ بی جان کے بلانے پر فوراً کمرے میں آیا ۔۔۔۔۔ در ثمین کا اخری جملہ شاہ ویر نے بھی باخوبی سنا تھا جی بی جان آپ نے بلایا ۔۔۔۔۔ خیریت ہے ، آپ غصے میں لگ رہی ہے ۔۔۔۔شاہ ویر نے در ثمین پر ایک بھر پور نظر ڈالتے ہوئے بی جان سے پوچھا ۔۔ بی جان میں کہہ رہی ہوں ناں رات کو اچھے سے نیند نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ بس اسلئے ، در ثمین نے ایک نظر شاہ ویر کو دیکھنے کے بعد واپس بی جان کو دیکھتے ہوئے کہا ، ہم یہ کیا سن رہے ہیں ۔۔۔۔۔شاہ ویر ہمیں آپ سے یہ توقع نہیں تھی ، بی جان نے اپنی بات کر کے شاہ ویر کو گھورا ، کیا بی جان ۔۔۔۔۔ کیا کیا میں نے ، جو آپ مجھ سے ناراض ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے لب بھینچتے ہوئے کہا ، اور ساتھ ہی بی جان سے نظر بچا کر در ثمین کو گھورا ۔۔۔۔۔ در ثمین رخصتی کی بات کررہی ہے ، ہمیں پتہ اسکے پیچھے آپ ہی ہے ، اب بچی کو کیا دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔
جواب دے ہمیں ، بی جان نے شاہ ویر کی حرکت پر اپنی ہنسی دبائی تھی ۔۔۔۔ آپ کی پوتی صاحبہ بات کررہی ہے رخصتی کی ۔۔۔۔ان سے پوچھے ، مجھے کوئی جلدی نہیں میں تو آرام سے اور دو چار سال نکال سکتا ہوں شاہ ویر نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے سارا ملبہ در ثمین پر ڈال دیا ۔۔۔۔۔۔ ن۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔بی جان مجھے بھی کوئی جلدی نہیں ، اگر یہ رک سکتے ہیں تو در ثمین نے شاہ ویر کے جھوٹ پر کلس کر فوراً اپنا مدعا رکھا ، ایسے کیسے اب درے تم اپنی بات سے مکر رہی ہو دیکھا بی جان ، اب جب درے نے خود آپ کے پاس آ کر کہا ہے تو اب تو ہونی چاہیے رخصتی ہے ناں بی جان ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر ایسے کیسے موقع ہاتھ سے جانے دیتا ، آپ تو رک سکتے ہیں اگلے سال کرے گے رخصتی ہے ناں بی جان ، در ثمین نے شاہ ویر کی بات سنکر فوراً کہا ، نہیں رخصتی اسی سال ہونی ،بلکہ اگلے ہی مہینے ہونی ۔۔۔۔ شاہ ویر نے اپنا فیصلہ سنایا اب آپ کو جلدی کیوں ہورہی آپ تو پانچ سال بھی رک سکتے ۔۔۔۔ دیکھا بی جان ، در ثمین نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ان دونوں کی نوک جھونک دیکھ کر بی جان منہ پر ہاتھ رکھے ہنسے جارہی تھی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی بیتابی اور در ثمین کا شاہ ویر سے دور بھاگنا دونوں ہی بی جان کے سامنے تھے اچھا اب آپ دونوں لڑنا بند کرے ہم بڑے ہیں فیصلوں کے لیے آنے دو تمھارے دادا جان کو پھر رات تک فیصلہ سناتے ہیں شادی ابھی کرنی یا پانچ سال بعد ۔۔۔۔۔
پانچ سال بعد ۔۔۔۔۔ بی جان کی بات پر دونوں وجودوں پر ایک سیکنڈ کی خوشی اور صدمہ طاری ہوا ، اگر بی جان پانچ سال رک گئی میں کیسے رہوں گا در ثمین کے بغیر ، شاہ ویر نے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔۔اگر بی جان نے ابھی ہاں کردی شادی کو تو در ثمین تیری آزادی کے دن ختم ، اس کھڑوس کے ساتھ رہنا پڑے گا اس کو تو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ ایک بار شادی ہونے دو ، سارے ارمان ختم نہیں کیے تو یاد رکھے گا ۔۔۔۔در ثمین نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔۔۔رات تک بڑوں کا فیصلہ شاہ ویر کے حق میں آ چکا تھا ، کیوں کہ سب کی دلی خواہش تھی کہ در ثمین اور شاہ ویر کی شادی کردی جائے ۔۔۔۔ واقعی بی جان یہ بات درے اور شاہ ویر نے خود کی ۔۔۔۔۔۔۔ درے خوش تو ہے ناں ۔۔۔۔۔ اگر وہ آپ کے پاس ہے تو میری بات کروائے ، دریاب نے موبائل پر بات کرتے ہوئے بی جان سے کہا۔۔۔۔۔ اچھا تو پھر ٹھیک ہے آپ لوگ تیاریاں کریں میں بھی چھٹی کے لیے اپلائی کرتا ہوں مہینے کی نہ سہی تو دس پندرہ دن کی ہی لے کر آ جاؤں گا۔۔۔۔۔ اچھا ٹھیک پھر بی جان خدا حافظ اور بی جان سب کو سلام دیجئے گا میری طرف سے ، دریاب نے کال بند کرنے کے بعد موبائل کو پینٹ کی جیب میں رکھ کر تازہ ہوا میں ایک لمبی سانس لی جیسے آج اس کے دل کا کتنا بڑا بوجھ ہلکا ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔یہ خبر اس کے لئے بہت بڑی تھی ، جب گھر کے بڑوں نے در ثمین کا رشتہ شاہ ویر سے جوڑا تھا وہ بہت خوش ہوا تھا در ثمین کو لیکر کہ چلو میری ساری زندگی میرے سامنے رہے گی اور دوسرا اپنوں میں ، انجمن بیگم تو ویسے ہی در ثمین کی دوسری ماں تھی وہ بے فکر تھا در ثمین کی طرف سے ، اور پھر شاہ ویر جیسا ذہین ، اعلیٰ اخلاق اور خیال کرنے والا لڑکا اسے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ، یہ الگ بات وہ شادی میں تاخیر کررہا تھا ، یہ بات دریاب کو بھی کھٹکتی تھی کہ اب رخصتی ہونی چاہیے ، لیکن وہ دوسری طرف شاہ ویر کو بھی سمجھتا تھا کہ اگر وہ تاخیر کر بھی رہا ہے تب بھی اسکی بہن کو وہ ہی اپنائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے کبھی چھوڑے گا نہیں۔۔۔۔۔ اسلئے دریاب نے کبھی شاہ ویر سے سوال نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔
ڈور بیل بجی تو قندیل نے جا کر دروازہ کھولا تو دروازہ کھلتے ہی دریاب نے فوراً آگے بڑھ کر قندیل کو بازوؤں سے پکڑ کر پورے کوارٹر میں گول گول گھوما دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔دریا۔۔۔۔۔ب ، دریاب مجھے چکر آ جائیں گے، کیا کررہے ہیں آپ ۔۔۔۔قندیل نے دریاب کے چہرے پر خوشی اور انکھوں کی چمک کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ قندیل مائی ڈیئر۔۔۔۔۔آج میں بہت بہت خوش ہوں دریاب نے قندیل کو روک کر گلے لگاتے ہوئے کہا ، آج پہلی بار دریاب نے اسے خود اپنایا تھا ، قندیل کو اس سے خوشی کی وجہ پوچھنے والی تھی ، دریاب کے لمس سے اس کے سارے کے سارے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔۔۔ قندیل کو یقین نہیں آ رہا تھا اسے سب کچھ خواب کی طرح لگ رہا تھا ، مگر اتنے حسین خواب کا تو اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔مجھے نہیں بتائے گے ، کیا بات ہے جو آپ اتنا خوش ہے ۔۔۔۔۔ وہ ابھی بھی اسکے گلے لگی ہوئی تھی ، قندیل نے اپنی الجھتی ہوئی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے کہا ، ارے یار تمھیں نہیں بتاؤں گا تو کس کو بتاؤں گا۔۔۔۔دریاب نے قندیل کو خود سے الگ کرتے ہوئے کہا لیکن اب بھی قندیل کے ہاتھ دریاب کے ہاتھوں میں تھے ۔۔۔۔۔ ایک منٹ دریاب میں نے دودھ کو ابلنے کے لئے رکھا تھا ، اسکو دیکھ کر اتی ہوں نہیں تو وہ ابل جائے گا ، قندیل نے مسکراتے ہوئے کہا اور دریاب سے ہاتھ چھڑا کر جانے لگی تھی کہ دریاب نے قندیل کا ہاتھ چھوڑنے کے بجائے مضبوطی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، قندیل جو اپنی دھن میں جا رہی تھی وہ ہاتھ کے کھینچنے اور پاؤں میں دوپٹے کے الجھنے سے واپس پلٹ کر دریاب پر گری ، دریاب اپنا توازن کھو کر قندیل کو لئے صوفے پر گر گیا۔۔۔۔۔قندیل دریاب کے اوپر تھی ۔۔۔۔۔ دریاب بدتمیز ۔۔۔۔۔ خفت کے مارے قندیل نے دریاب کے اوپر سے ہٹنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا پہلے میری بات پوری سنو ۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو خود کے اور نزدیک کرکے اسکے اٹھنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے کہا دونوں کے چہروں کے درمیان تین چار انچ کا فاصلہ بھی بمشکل تھا ، دریاب پر ایک انجانی خوشی سوار تھی۔۔۔۔۔۔