Episode 19 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 19 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 19 part (1)

 

عوت کے بعد سے دونوں کے درمیان بات چیت بند ہوگئی تھی ، دریاب قندیل کی ڈانٹ کھانے کے بعد اپنی بے خودی پر الجھا ہوا تھا ، اس لئے خود ہی اس سے دوری پر تھا۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔وہ اچھا تو شاہ ویر بھائی گھر آگئے ہیں ، آج اتنے دنوں بعد قندیل نے خود ہی دریاب سے بات کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔ ہاں جی ۔۔۔۔۔دریاب نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا ، ہم چلیں ان سے ملنے قندیل نے پوچھا ، اس کی کوئی ضرورت نہیں اور مہربانی کر کے مجھے سونے دو ، دریاب اس دن کے بعد سے خود کو قندیل سے دور رکھنے کی کوشش کر رہا تھا اس لیے دو چار بات جو معمول کے مطابق ان کے درمیان ہوتی تھی اس نے وہ بھی ختم کر دی تھی ۔۔۔۔ اگر ۔۔۔ اگر میں آپ کو سونے نہ دوں تو ، قندیل نے دریاب کو چھیڑتے ہوئے کہا ، کیا کرو گی دریاب نے لیٹے لیٹے ہی قندیل کو گھورا ، میں ۔۔۔۔۔قندیل نے دریاب کے پاس آتے ہوئے میں کو لمبا کھینچ کر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے دریاب کو گدگدی کرنے لگی ۔۔۔۔۔قندیل یہ کیا بچپنا ہے دریاب نے قندیل کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا قندیل پھر بھی شرارت سے باز نہیں آئی تھی اپنی انگلیاں دریاب تک پہنچا رہی تھی۔۔۔۔۔ آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ قندیل دریاب نے قندیل کے ہاتھوں پر اپنی سختی بڑھائی تھی ، آپ کو پتہ ہے کتنے دن ہو گئے آپ مجھ سے بات نہیں کر رہے ہیں پورا دن میں گھر میں اکیلی رہتی ہوں۔۔۔۔۔۔ کیا میرا دل نہیں کرتا کوئی مجھ سے بات کرے ، اور اگر آپ کو بھی مجھ سے بات نہیں کرنی ہوتی تو مجھے گھر چھوڑ آئیں۔۔۔۔۔کچھ دریاب کے ہاتھوں کی سختی کچھ اپنے اکیلے پن کو لے کر قندیل کی آنکھیں بھرنے لگی ، اگر نہیں چھوڑ کے آؤں میں تو دریاب نے کہا ہاں کیوں چھوڑ کر آئیں گے آپ۔۔آپ مجھے مفت کی نوکرانی جو مل گئی ہے کام کرنے کے لیے قندیل نے روتے ہوئے کہا ، دیکھا کیسا محسوس ہوتا ہے جب آپ کے ساتھ خود ہوتی ہوتی ہے وہ زیادتی دریاب نے قندیل کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا ، قندیل شاید تمہیں یاد نہیں بچپن میں مما پاپا کے دنیا سے چلے جانے کے بعد میں اور درے کتنے اکیلے اور اداس پڑ گئے تھے ۔۔۔۔۔ درے بہت حساس تھی ، اس لیے اسے تائی امی نے سنبھال لیا تھا درے آپی کو دیکھ کر میں نے خود کو مضبوط بنایا ۔۔۔

 

۔کہ میں چھوٹا بچہ تھوڑی نا ہوں ، جو چھوٹی چھوٹی بات پر روؤں گا ۔۔۔۔۔ لیکن کچھ بھی ہے ، تھا تو میں اس وقت بچہ ہی ناں ، شرارتیں اوٹ پٹانگ حرکتیں کر کے میں خود کو بڑا سمجھتا تھا ۔۔۔شاید یہی چیزیں میرے لیے بہتر تھی کیونکہ کھیل کود کے ان چند سالوں میں کبھی ماں بابا یاد ہی نہیں ائے تھے ، اور پھر میری عمر کے بڑھتے ساتھ میرے شوق بھی بدلتے گئے میرے جو اس وقت کلاس میٹ ہوا کرتے تھے وہ فلمیں دیکھتے تھے ان کے بارے میں باتیں کرتے تھے اور میں ہونقوں کی طرح سنتا تھا۔۔۔۔۔ پھر میں نے سوچا جنہیں سننے میں مجھے اتنا مزہ آ رہا ہے ، وہ دیکھنے میں کیسی ہوں گی اور پھر یوں میں چھپکے چھپکے فلمیں دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ کوئی ڈرائنگ روم میں آتا تھا تو میں ریموٹ سے چینل چینج کر کے کارٹون لگا دیتا تھا ، دریاب اپنی بات مکمل کر کے بچپن کو سوچ کر ہنسنے لگا ، قندیل دریاب کی اس مکمل ہنسی میں ایک لمحے کے لئے کھو گئی ۔۔۔۔۔پتہ ہے قندیل ایک دو بار چاچو نے مجھے پکڑا بھی تھا ، وہ بھی پتہ ہے جلدی میں چینل چینج نہیں ہو سکا اس لیے ، اور جو تم یہ سوچتی ہو کہ میں بچپن میں گندی فلمیں دیکھتا تھا ، تو یہ گندی سوچ اپنے دماغ سے نکال دو کیونکہ میں صرف فلمیں دیکھتا تھا ۔۔۔۔۔ نہ کہ ان کا وہ سب ۔۔۔۔دریاب نے اپنا پرانا حساب برابر کیا ، دریاب کی بات کا مطلب سمجھ کر قندیل نے نظریں چرائیں ۔۔۔۔۔ ایڈوانچر لائف مجھے شروع سے ہی بہت پسند تھی میرے جو دوست تھے انہوں نے مجھ سے بیٹ لگائی تھی ڈراؤنی انگلش فلم تھی جو مجھے دیکھنی تھی اور فلم میں نے پوری دیکھی تھی بنا ڈرے ۔۔۔۔۔

 

اور شاید اس طرح میں کب شرطوں کے چکروں میں میں ڈراؤنی فلموں کا شوقین ہوتا چلا گیا پتہ ہی نہیں چلا اس وقت شاید میری عمر بارہ سال تھی ۔۔۔۔۔۔ پھر میں شوق شوق میں شاہ حویلی میں بھی فلمیں دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ ہر وقت میں فلموں کی باتیں کرتا تھا ، ایک بار غلطی سے تمہیں بھی دکھا دی تھی وہ بھی تمہارے کہنے پر اور پھر چاچو نے جو مجھے باتیں سنائی تھی ، ڈانٹا تھا الگ ، ناراض بھی رہے مجھ سے ، اس کے بعد پتہ نہیں تمہیں کیا ہو گیا تھا جو میری جاسوسی کرنے لگ گئی تھی، ویسے کیوں کرتی تھی تم میری جاسوسی ۔۔۔ تب تو ہمارا رشتہ یا ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی ، دریاب نے قندیل کو گھورتے ہوئے کہا ہاں ۔۔۔۔ہاں مجھے یاد آیا میں نے کوئی تمہاری جاسوسی سے واسوسی شوق سے نہیں کی تھی میں تو تمہیں غلط راستے پر چلنے سے بچا رہی تھی قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اوہ اچھا ایسا کیا غلط کر رہا تھا میں جو تم مجھے بچا رہی تھی دریاب نے حیران ہوتے ہوئے کہا ، میں نے خود کئی بار دیکھا تھا کہ تم فلموں میں غلط اور جو وہ بولڈ سین ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔وہ آپ جناب نہایت ہی دلچسپی سے دیکھا کرتے تھے ، ہماری کلاس میں کچھ لڑکے تھے جو عجیب عجیب حرکتیں کرتے تھے لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ بھی کبھی کبھی اور ٹیچرز سے بھی نہیں ڈرتے تھے ۔۔۔۔ تو انکے بارے میں کلاس بولتی تھی یہ گندی فلمیں دیکھنے ہیں ۔۔۔۔۔بہت والی گندی انکے ماں باپ اور انکے بڑے ان پر نظر نہیں رکھتے اسلئے یہ ایسے ہوگئے ، آخر میں تنگ آ کر میم نے انکو اسکول سے نکال دیا تھا ۔۔۔۔قندیل نے نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہا ، استغفر اللہ قندیل دریاب ہنسا تھا ۔۔۔۔

واقعی تم اس وقت عمر سے پہلے ہی بڑی ہوچکی تھی جو تم اتنا کچھ سوچ لیتی تھی ۔۔۔۔۔۔ اور دوسری بات میں ایسا لڑکا نہیں تھا ، وہ لڑکے تو بہت زیادہ ہی خراب ہوتے ۔۔۔۔اور وہ یہ فلمیں دیکھ کر تھوڑی خراب ہوتے وہ بھی کوئی اور ہی فلمیں ہوتی ، دریاب نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کوئی اور مطلب دریاب ۔۔۔وہ بھی آپ نے دیکھی ہوئی ہے ۔۔۔۔توبہ توبہ ، میں سمجھتی تھی یہ انگلش فلمیں ، انکو دیکھ کر لڑکے خراب ہوتے ہیں ، ان سے بھی گندی ہوتی اور کوئی فلم ۔۔۔۔۔توبہ توبہ توبہ قندیل شرم سے دوہری ہوتی ہوئی کانوں کو ہاتھ لگا کر باقاعدہ توبہ کررہی تھی ، کیونکہ دریاب کے جانے کے بعد وہ انگش ڈراؤنی فلمز ہی دیکھتی تھی تب ہی قندیل کا انکے سینز پر ، انکو جہنم رسید کرنے کا دل کرتا تھا ۔۔۔۔۔اب جو کوئی اس سے خراب فلم ہوگی تو کیا ہوگی ۔۔۔۔ اور تو اور دریاب نے بھی دیکھی یہ سوچ سوچ کر قندیل استغفار کررہی تھی ، قندیل کی حالت دیکھ کر دریاب کی ہنسی بند نہیں ہورہی تھی ۔۔۔۔ یار قندیل میں نے نہیں دیکھی ، بس نام سنا تھا اور پھر دوستوں نے دیکھائی تھی دو چار بار ۔۔۔۔۔ جب میں کیڈٹ کالج سے آنے کے بعد آگے کی کلاسز کے لیے یونیورسٹی میں اپلائی کررہا تھا اسوقت کی بات ، کچھ نئے دوست بنے تھے تب ۔۔۔۔۔ پر جلد ہی مجھے آگئی تھی سمجھ یہ لڑکے ٹھیک نہیں اور نا یہ فلمز ، تو میں نے ان سے دوستی ختم کردی تھی ، اتنا تو مجھے بھی صحیح غلط کا پتہ ۔۔۔۔۔ دریاب اب بھی ہنس رہا تھا ، دو چار میرے سامنے بول رہے آپ دو چار ملا کر چھ ہوتے ، آپ نے دس بار دیکھی ہوگی یقیناً توبہ ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے دوبارہ کانوں پر ہاتھ لگائے ۔۔۔۔

 

اب بس کتنی بار بھی دیکھی آ تو گئی نا سمجھ ، کہ ٹھیک نہیں ۔۔۔۔۔اور دوسری بات شاہ حویلی کی بات ، جب کچھ اسکرین پر چل رہا ہوگا تو انکھیں تو بند نہیں کی جا سکتی اور ٹی وی اسکرین کے ریموٹ میں فاروڈ کا بٹن بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ، اور مجھے کیا پتہ تھا تمھارا دماغ اتنا چلتا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا تم وہ دیکھ کر سب کچھ سوچ لو گی ۔۔۔۔فارورڈ کا نہیں ہوتا چینج کا تو ہوتا ہے نا قندیل نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ ہاں ہوتا ہے۔۔۔۔۔ تمھیں کیا لگتا میں پاگل ہوں جو کسی کے آنے پر چینج نہیں کرو گا ۔۔۔۔ لیکن ریموٹ صبا کا فیورٹ کھلونا تھا جو اکثر وہ کھیلتی ہوئی ڈرائنگ روم سے لے جاتی تھی ، اس طرح اکثر ریموٹ ڈرائنگ روم میں ہوتا ہی نہیں تھا تو کیا میں جادو سے چینل چینج کرتا۔۔۔۔۔۔ دریاب نے بچپن کی بات یاد دلاتے ہوئے کہا تو ۔۔۔تو مجھے تھوڑی پتہ تھا یہ سب بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔اور میں نے جو دیکھا اپنی عمر کے حساب سے وہ ۔۔۔۔۔مجھے صحیح لگا ، قندیل نے شرمندہ ہو کر کہا ۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔یہی تو تمہاری بات غلط ہے جو دیکھا وہی سچ سمجھ لیا ، اوپر سے چاچو کو بھی بتا دیا ۔۔۔۔ اگر میں واقعی میں ایسا ویسا کچھ دیکھنے والا ہوتا تو اب تک میری وہ کمزوری تمہارے سامنے آ چکی ہوتی بولو دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔تو کیا کروں میں اب ۔۔۔۔ اب جو ہو گیا سو ہو گیا قندیل نے اپنی انگلیوں کو موڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

Author Image

مصنف کے بارے میں

رائٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *