ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 17 part (1)
میں پاگل نہیں ہوں ، آج سنڈے ہے اس لیے وردی دھونے کے لیے لے جا رہی لے ہوں ۔۔۔۔۔ قندیل نے وردی کو اٹھاتے ہوئے کہا جو دریاب کے کھینچتے سے اسکے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔اوہ مسسز قندیل آپ کو مجھ پر اتنا مہربان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، مجھے اپنا کام خود کرنے کی عادت ہے تو اس لیے یہ مجھے دے دیں ، دریاب نے حیران ہوتے ہوئے کہا اور قندیل کے ہاتھ سے وردی لے لی ۔۔۔۔۔ قندیل دریاب کو گھورتی ہوئی پیر پٹختی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔ انجمن بہو۔۔۔۔۔۔۔ اس بار مجھے نجانے کیوں مگر شاہ ویر میں بدلاؤ محسوس ہوا ، کہاں تو میں ہی فون اسے کرتی تھی اور اس بار تو تم خود دیکھ رہی ہو نا ہر دو دن بعد اس کی کال آرہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا جی بی جان یہ بات تو ہے کہیں وجہ اپنی در ثمین تو نہیں ، انجمن بیگم نے بات کی تہہ تک پہنچتے ہوئے کہا ، اللّٰہ کرے ایسا ہی ہو ، اگر ایسا ہے تو بی جان آپ شاہ ویر سے رخصتی کی بات کیجئے نا یتیم بچی ہے کہیں ہم سے نا انصافی نہ ہو جائے ، مجھے تو بہت ڈر سا لگا رہتا ہے ۔۔۔۔۔ اور پھر اجالا اور قندیل کی بھی شادی کر دی ہم نے ، ماشاءاللہ اجالا کا ثمامہ ہے اور پھر قندیل کو بھی اللّٰہ تعالیٰ خوشیاں دکھائے ، جبکہ ہماری در ثمین تو ان دونوں سے بڑی ہے انجمن بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ، کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو بس اب میں شاہ ویر سے سیدھا سیدھا رخصتی کا کہوں گی میری بھی عمر ہو رہی ہے اور میں اس دنیا سے جاتے وقت کسی یتیم کا بوجھ اپنے دل پر لے کر جانا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔بی جان نے گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد قندیل جب کمرے میں سونے آئی تو دریاب اپنے پسندیدہ مشغلے یعنی کہ فلم دیکھنے میں مصروف تھا قندیل کے ذہن میں آیا کہ فلم دیکھنے سے اچھا ہے کہ باہر چلی جاؤ۔۔۔۔ پر تبھی اس کے دل نے اس کے قدم روک دیے کیونکہ اسے اپنا آپ ثابت کرنا تھا اس سنگ دل کے سامنے وہ بیڈ پر دوسری طرف آ کر لیٹ گئی۔۔۔۔ مگر فلم دیکھنے سے پہلے ہی اس کی ہمت جواب دے گئی اس نے ڈر کے آنکھیں میچ لی ۔۔۔۔ نہیں قندیل ڈرمت یہ کھا تھوڑی جائے گا اور تیری ہمت تیری محبت دریاب اس کے لیے تجھے اپنے ڈر سے لڑنا ہوگا اگر تو ہارے گی تو تیری محبت کی ناکامی ہوگی قندیل۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دل ہی دل میں خود کو ہمت دلائی اور فلم کی طرف متوجہ ہوئی جب بھی کوئی ڈراؤنا سین آتا تو قندیل اپنی انکھیں میچ لیتی تھی ۔۔۔۔۔
کافی دیر گزرنے کے بعد جب فلم آدھی ہوئی تو قندیل نے سکھ کا سانس لیا اور ایک ادا سے دریاب کی طرف دیکھا تاکہ اسے آج اپنی پہلی جیت پر اترا کر بتائے کہ دیکھو میں بھی دیکھ سکتی ہوں ڈراؤنی فلمز پر یہ کیا دریاب تو پہلے ہی سو چکا تھا کوئی بات نہیں قندیل یو ار بریو گرل ، u r brave girl آج نہیں تو کل سہی ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے منہ بناتے ہوئے سوچا اسکرین کو آف کر کے لیٹ گئی ، ڈراؤنی فلم اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی وہ فلم کو بھلانے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ اسکے ذہن میں بار بار گردش کررہی تھی ۔۔۔۔ ابھی لیٹے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ قندیل کو اور زیادہ ڈر محسوس ہوا ، اس نے سورہ الناس کا ورد شروع کردیا۔۔۔۔۔۔۔ اس دن تو دریاب پر الزام لگا کر اس کا ہاتھ تھام کر سوگئی تھی یہ سوچ کر کہ دریاب اٹھا ہوا ہے اگر مجھے کچھ ہوگا تو وہ دیکھ لے گا ، مگر آج تو دریاب سویا ہوا ہے وہ فلم کو دیکھ کر اب مشکل میں پھنس چکی تھی قندیل اب رونے کو تھی ۔۔۔۔۔وہ کھسک کر دریاب کے تھوڑا قریب ہو گئی ، اسکو ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے پیچھے کوئی ہے ۔۔۔۔۔ تو وہ مسلسل سورہ الناس کا ورد کرتی ہوئی ڈرتے ڈرتے دریاب کی طرف پشت کر گئی ۔۔۔۔ تو دیکھا سامنے کچھ بھی نہیں تھا ، وہ دوبارہ تھوڑا اور پیچھے ہو کر دریاب کی طرف کھسک گئی ، کافی دیر گزرنے کے بعد بھی اسے نیند نہیں آئی تھی ، جبکہ فلم لمحہ بھر بھی اسکے ذہن سے دور نہیں ہوئی ، وہ رو رہی تھی اسے بہت ڈر لگ رہا تھا ، روم میں لائٹ آن تھی پھر بھی ، وہ آنکھیں بند کرتی اور ڈراؤنی شکلیں اسکے ذہن میں چلنا شروع ہو جاتی ۔۔۔۔۔ وہ دل ہی دل میں اللّٰہ سے مدد طلب کررہی تھی کہ اسے نیند آ جائے یا وہ یہ سب فلم کے سینز کو بھول جائے ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے گہری نیند میں سوتے ہوئے قندیل کی طرف کروٹ لی تھی ، دریاب کا ایک ہاتھ قندیل کے اوپر آگیا تھا ، قندیل نے اپنی روئی ہوئی آنکھوں سے فوراً اپنا چہرہ موڑ کر دریاب کی طرف دیکھا
دریاب کی طرف دیکھا تو وہ گہری نیند میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب کی نیند کی تسلی کرکے اس نے اپنا ہاتھ دریاب کے ہاتھ پر رکھ دیا دریاب کے ساتھ رہتے اسے یہ تو پتہ چل چکا تھا کہ وہ نیند کا پکا ہے اسے سوتے میں کچھ پتہ نہیں چلتا دریاب کے حصار میں آتے ہی اسکا ڈر ختم ہونے لگا تھا ڈر کے ختم ہونے کی دیر تھی کہ نیند اس پر حاوی ہوگئی وہ جو کب سے نیند کے لیے تڑپ رہی تھی وہ اب بنا ڈرے اپنے شریک حیات کے حصار میں سکون سے سورہی تھی ۔۔۔ صبح دریاب کی ہمیشہ کی طرح نماز کے وقت آنکھ کھلی تو قندیل کو خود کے اتنا نزدیک دیکھ کر دریاب کو حیرانی ہوئی ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے آہستگی سے اپنا ہاتھ قندیل پر سے ہٹایا اور نماز کے لیے اٹھ گیا ، قندیل اٹھو نماز کی دیر ہورہی ہے ، دریاب نے روم سے باہر جاتے ہوئے کہا اور خود مسجد نماز پڑھنے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔دریاب کے جاتے ہی قندیل اٹھ کر باتھ روم میں چلی گئی ۔۔۔۔۔۔ در ے بیٹا میں سوچ رہی تھی شاہ ویر آئے گا تو میں تمہاری رخصتی اور شاہ ویر کے ولیمے کی تقریب ایک ساتھ کر دوں گی ۔۔۔۔تمہاری کیا رائے بی جان نے اپنے پیر دباتی ہوئی در ثمین سے پوچھا۔۔۔۔۔ بی جان۔۔۔۔۔ وہ مجھے ۔۔۔۔۔ابھی ۔۔۔۔۔مجھے ابھی رخصتی نہیں کروانی در ثمین نہیں ہمت جمع کر کے بی جان سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر کیوں درے بی جان نے اس کے چہرے پر نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا ، بی جان آپ اتنے سالوں سے اپنے پوتے کی بات مانتی آرہی ہیں تو کیا اب آپ میری بات نہیں مان سکتی ، کیا میری بات کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔۔۔۔ در ثمین کی انکھوں میں پانی بھر گیا نہیں۔۔۔۔ نہیں میری جان کیسی باتیں کر رہی ہو بی جان نے فوراً اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے پیار سے کہا ، تھینک یو بی جان در ثمین نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ درے بیٹا چاہے دیر سے ہی سہی پر دلہن تمہیں میرے شاہ ویر کی ہی بننا ہے ۔۔۔۔ بی جان کی جان ، بی جان نے اپنی پوتی کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا ۔۔۔۔۔۔ تو در ثمین کے چہرے پر حیا بکھر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود کو دریاب کے سامنے ثابت کرنے کے لیے قندیل دریاب کے جانے کے بعد کام نپٹا کر ڈراؤنی فلمیں دیکھنے لگ جاتی اور اب اسکا روز کا یہی معمول ہوگیا تھا ۔۔۔۔ دن گزر رہے تھے پر دریاب اب روز رات کو فلم دیکھنے کی بجائے کتاب پڑھنے بیٹھ جاتا تھا یا موبائل پر فیس بک یا ٹک ٹاک پر اسکرولنگ کرنے ، دن میں تو قندیل فلم جیسے تیسے دیکھ لیتی تھی پر جب اکثر مغرب کے بعد دریاب کی غیر موجودگی میں لائٹ چلی جاتی تھی اور کوارٹرز کا جنریٹر چلنے میں پانچ سے دس منٹ لگ جاتے تھے تو قندیل کا خوف سے برا حال ہو جاتا ۔۔۔۔ خود کے دماغ کی ایسی پوزیشن ہونے کے بعد بھی وہ خود سے لڑتی ہو فلمیں دیکھتی فلمیں اس کے ذہن پر برا اثر چھوڑ رہی تھی روز کے حساب سے۔۔۔۔۔۔ یہ دریاب اب تک نہیں آئے کہاں رہ گئے۔۔۔۔۔۔ قندیل نے فکر مند ہوتے ہوئے سوچا ، ایسا کرتی ہوں دروازے کے پاس ہی کھڑی ہو جاتی ہوں دریاب ڈور بیل بجائے گے تو فوراً دروازہ کھول دوں گی قندیل نے دروازے کے پاس چکر لگانے شروع کر دیے ، دریاب کہاں رہ گئے آپ ۔۔۔۔۔ ایسا کرتی ہوں دروازہ کھول کر دیکھتی ہوں کہاں رہ گئے ہیں ۔۔۔۔۔ قندیل دروازہ کھول کر باہر سیڑھیوں پر جھانکے ہی والی تھی کہ لائٹ چلی گئی۔۔۔۔۔ اب لائٹ کے چلے جانے کی وجہ سے قندیل کو ڈر لگنے لگا ، وہ کبھی سورہ الناس تو کبھی آیت الکرسی کا ورد کرتی ہوئی اندازے سے کچن میں پہنچی ، ماچس ملی تو تھوڑی جان میں جان آئی قندیل کا خوف سے برا حال ہو رہا تھا ہاتھ کانپنے کی وجہ سے اس سے ماچس بھی نہیں جل رہی تھی ، تبھی دریاب کوارٹر میں داخل ہوا موبائل کی بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے اس نے موبائل جیب میں ہی رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ پہلے تو دریاب دروازہ کھلا دیکھ کر حیران ہوا لیکن کچن میں سے آتی ہوئی چوڑیوں کی آواز سن کر وہ سمجھ گیا کہ قندیل کچن میں ہے تو اس کے دماغ نے قندیل کو ڈرانے کا منصوبہ بنایا دریاب آہستہ آہستہ بنا آواز کئے قندیل کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔ قندیل دریاب کی موجودگی سے انجان آیت الکرسی کا ورد کرتی ہوئی کانپتے ہاتھوں سے ماچس جلانے میں مصروف تھی قندیل کی حالت دیکھ کر دریاب کو ہنسی آنے لگی ۔۔۔۔۔۔ کواٹر میں ہلکی ہلکی روشنی تھی جو باہر سے آرہی تھی کھڑکیوں کے ذریعے ۔۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی روک کر سنجیدہ ہوتے ہوئے اپنے منصوبے کے مطابق بنا کچھ کہے قندیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ، دریاب کی سوچ کے مطابق قندیل ڈر کی وجہ سے چیخے گی پر یہاں تو قندیل نے فوراً دریاب کا نام لیا ۔۔۔۔۔۔۔ ماچس جلاتی ہوئی قندیل کو اچانک اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا یہ لمس تو وہ ہزاروں میں بھی پہچان سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
آج اپنی یہ ڈر ڈر کے مرنے والی حالت بھی تو قندیل نے اس کی محبت میں ہی بنائی تھی قندیل کے لبوں سے دریاب کا نام ادا ہوا اور اس کے ساتھ ہی وہ پلٹ کر دریاب کے گلے لگ گئی جیسے اب اسے کسی کا ڈر نہ ہو دریاب جو یہ سوچ کر حیران تھا کہ قندیل نے اسے بنا دیکھے کیسے پہچان لیا ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ڈر لگ رہا ہے دریاب نے آہستہ سے کہا ، ہاں پر آپ کے آنے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے صاف گوئی کی ، دریاب کو قندیل سے اس قدر سچائی کی امید نہ تھی کہ تب ہی لائٹ آگئی ، قندیل لائٹ آگئی دریاب نے قندیل کو یاد دلایا ، اچھا۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کے سینے پر سے سر اٹھا کر دریاب کا چہرہ دیکھ کر واپس ویسے ہی کر لیا ۔۔۔۔ قندیل یار لائٹ آگئی ہے ، مجھے چینج بھی کرنا ہے ، دریاب نے کہا۔۔۔۔ ہاں تو آپ جائیں ، اجازت کیوں لے رہے ہیں ۔۔۔۔ قندیل نے معصومیت سے کہا ، تم چھوڑو گی مجھے تو جاؤں گا ناں ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا اوہ سوری قندیل نے دریاب کی بات سنتے ہی فورا پیچھے ہٹتے ہوئے کہا دریاب روم کی طرف بڑھ گیا ، وہ اپنی بے خودی پر شرمندہ ہوتے ہوئے سر جھکا کر کچن میں کھانا گرم کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔
