Episode 16 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 16 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

 

Episode 16 part (2)

قندیل کی وجہ سے دریاب نے تین چار چکر لگائے کواٹر کے دوپہر کھانا بھی قندیل کے ساتھ کھایا اس سے بار بار پوچھتا بھی رہا ۔۔۔۔۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد دریاب اسکرین کا ریموٹ لے کر بیڈ پر بیٹھ گیا ، آپ کیا فلم دیکھ رہے ہیں قندیل نے پوچھا ہاں فلم دیکھ رہا ہوں وہ بھی ڈراؤنی آجاؤ مل کر دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو چھیڑتے ہوئے کہا ، دریاب پلیز بند کر دو آپ کو تو پتہ ہے نا قندیل روہانسی ہوئی تھی ، پتہ ہے پر مجھے تو اچھی لگتی ہے نا۔۔۔۔۔ پلیز اب بچوں کی طرح جا کر چاچی سے میری شکایت مت کر دینا دریاب نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا ، دریاب آپ پورا دن کے تھکے ہوئے ہیں ، نیند ارہی ہوگی نا آرام کریں ۔۔۔۔۔۔۔ فلم کیوں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔ قندیل نے جھنجھلاتے ہوئے کہا پہلی بات مجھے ابھی نیند نہیں آ رہی ۔۔۔۔اور دیکھو قندیل گھر میں تو تمہاری وجہ سے فلم نہیں دیکھتا تھا کہیں تم میری شکایت نہ کر دو ، لیکن اب یہاں تو کم از کم مجھے دیکھنے دو فلم ، ویسے بھی تمہاری وجہ سے میری پچھلی زندگی بہت ہی اذیت میں گزری ہے مہربانی کر کے مجھے کچھ وقت میری مرضی سے بھی گزارنے دو دریاب نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ تو وہ باہر آ کر صوفے پر بیٹھ کر اپنی لاعلمی کا رونا رونے لگی وہ دریاب کی وجہ سے شادی کی رات سے ہی ایک عجیب سی ذہنی اذیت سے دوچار تھی۔۔۔۔۔ ایک ایسے بدلے کا وہ خمیازہ بھگت رہی تھی ، جس وہ انجان تھی اس نے وہ کیا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔ صبح قندیل کی نماز کے لیے آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر تھی خود کو بیڈ پر پا کر وہ حیران تھی، تب ہی دریاب باتھ روم سے وضو کر کے باہر نکلا تھا ، اتنی مہربانی کس خوشی میں کی آپ نے۔۔۔۔۔ قندیل نے مصنوعی غصہ کرتے ہوئے کہا یہ روم تمہارا بھی ہے اور تم یہی سو گی سمجھ آیا دریاب نے کہا اور روم سے باہر چلا گیا دریاب کا رنگ بدلتا رویہ قندیل کی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔اس لیے وہ چپ چاپ اٹھ کر نماز پڑھنے لگ چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

اگلی صبح قندیل دریاب کو ناشتے کے لیے دروازہ کو ناک کر کے باہر سے ہی آواز دیکر واپس ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ پانچ منٹ بعد دریاب وردی میں فل تیار ہو کر ڈائننگ ٹیبل پر آ کر ناشتہ کرنے لگا ، کھانا کھاؤ قندیل کھانا کیوں نہیں کھا رہی دریاب نے پوچھا۔۔۔۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے قندیل نے دریاب کو دیکھتے ہوئے کہا وردی میں اسکی شخصیت بہت ہی شاندار لگ رہی تھی قندیل یک ٹک دریاب کو دیکھے جا رہی تھی ، اچھا ۔۔۔۔ مجھے کیوں دیکھ رہی ہو نظر لگاؤ گی کیا دریاب نے قندیل کو چھیڑتے ہوئے کہا اب اتنی بھی حسین نہیں ہیں آپ قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اچھا جی ۔۔۔۔۔ ویسے اکیلے گھر میں دل نہ لگے تو سارے ڈراؤنی موویز اندر روم میں رکھیں ان میں سے ایک لگا کر دیکھ لینا پھر دیکھنا کیسے تمہارا سارا ٹائم گزرے گا۔۔۔۔۔ ڈرتے ڈرتے یہاں بھی کوئی ۔۔۔۔ یہاں بھی کوئی ہے ۔۔۔۔۔ دریاب نے سنک پر ہاتھ دھوتے ہوئے قندیل کا مذاق اڑایا۔۔۔۔۔ آنے دو دریاب بی جان اور دادا جان کی کال آپکی تو میں شکایت لگا کے رہوں گی۔۔۔۔۔ قندیل نے دانت پیستے ہوئے کہا اچھا ٹھیک ہے ، لگا لینا شکایت۔۔۔۔۔ میں جیسے فری ہونگا چکر لگا لونگا ۔۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا ، خدا حافظ دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا اور ڈیوٹی پر چلا گیا۔۔۔۔۔۔ جب کہ قندیل دروازہ اچھے سے لاک کرکے کچن سمیٹنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان اور شاہ حویلی کے سب مکینوں سے بات کر کے آج اسکا دل کچھ ہلکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ شاہ حویلی میں کسی بھی لڑکی کو موبائل رکھنے کی اجازت نہیں تھی ، اور نا ہی شاہ حویلی کی بیٹیوں کو کبھی اسکی ضرورت ہوئی ۔۔۔۔۔۔ اسلئے دریاب کے موبائل سے ہی قندیل نے گھر والوں سے بات کی ، شاہ حویلی میں صرف بی جان کے پاس موبائل تھا قندیل نے شروع کے کچھ دن اپنی سیٹنگ میں گزارے لیکن اب سب کام اسکے ختم ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ اس لئے وہ پورا دن فارغ ہوتی تھی ، کبھی پودوں میں اپنا وقت گزارتی تھی تو کبھی کچن میں گھسی دریاب کے لئے کچھ نیا بنالیتی تھی ، دن تیزی سے گزر رہے تھے دریاب بھی معمول کے حساب سے دوپہر کا کھانا اسکے ساتھ ہی کھاتا تھا ، اسکے علاؤہ بھی درمیان میں باہر سے کچھ نا کچھ لے آتا تھا ۔۔۔۔۔ اس کے اور دریاب کے درمیان روز کے حساب سے معمول کے مطابق ہی بات ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اتنے سارے کپڑے چل بیٹا قندیل ہمت سے کام لے قندیل نے کپڑوں کا ڈھیر دیکھتے ہوئے خود کلامی کی۔۔۔۔۔۔ واشنگ مشین لگا کر کپڑے دھونے لگ گئی ، اوہ شٹ دریاب کی وردی تو بھول گئی ایک تو یہ سنڈے کیوں آتا ہے۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔ دریاب پچھلے ایک گھنٹے سے قندیل کپڑے دھونے میں مصروف تھی ، قندیل نے باہر سے ہی دریاب کو آواز لگائی تھی ، وہ سمجھی دریاب سو کر اٹھ گیا ہوگا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف بلکل خاموشی پا کر قندیل خود ہی کمرے میں آ گئی، جہاں وہ دریاب کو گھوڑے بیچ کر سوتا دیکھ جل کر رہ گئی یہاں میری ہڈیوں کو بے سکون کر کے اپنے آپ کو اور اپنی ہڈیوں کو سکون کروایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دل میں سوچا اور باتھروم کے وارڈروب میں سے وردی لینے گھس گئی وردی لے کر بڑبڑاتی ہوئ قندیل کمرے سے نکلنے ہی والی تھی کہ دریاب کی آواز سن کر اس کے قدم رک چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ام۔۔۔۔۔۔می ا۔۔۔۔۔۔۔می۔۔۔۔۔ ا۔۔۔۔۔۔۔۔بو۔۔۔۔۔۔۔ابوووو۔۔۔۔۔ بی۔۔۔۔۔بییییی۔۔۔۔۔۔ جان درد۔۔۔۔۔۔۔ درد۔۔۔۔۔۔ ہو رہا ہے بہت ۔۔۔۔۔۔۔۔ درد۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نیند میں بول رہا تھا ، دریاب کیا ہوا دریاب قندیل نے بیڈ کے پاس آتے ہوئے کہا ، نی۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مارو۔۔۔۔۔ نہیں بچا لو دادا ۔۔۔۔۔۔ دریاب نیند کی حالت میں سسک رہا تھا ، دریاب ، دریاب اٹھو کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔۔۔ قندیل کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی فرد میں مبتلا ہو ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے اس رات والی کی حماقت کے بارے میں سوچتے ہوئے دور ہی رہ کر دریاب کی ٹانگ کو ہلایا تاکہ اسے جگا سکے ۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ دادا بچا لو ۔۔۔۔۔۔مجھے در

 

قندیل نے بیڈ کے پاس آتے ہوئے کہا ، نی۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مارو۔۔۔۔۔ نہیں بچا لو دادا ۔۔۔۔۔۔ دریاب نیند کی حالت میں سسک رہا تھا ، دریاب ، دریاب اٹھو کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔۔۔ قندیل کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی فرد میں مبتلا ہو ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے اس رات والی کی حماقت کے بارے میں سوچتے ہوئے دور ہی رہ کر دریاب کی ٹانگ کو ہلایا تاکہ اسے جگا سکے ۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ دادا بچا لو ۔۔۔۔۔۔مجھے دریاب ابھی بھی گہری نیند میں ہی تھا۔۔۔۔۔۔ یہ ایسے نہیں اٹھے گا چٹکی بھرنی پڑے گی ، قندیل نے دریاب کی ٹانگ پر زور سے چٹکی بھری۔۔۔۔۔۔ آ آ آ آ آہ ۔۔۔۔دریاب کے آنکھ کھل گئی تھی وہ سب درد بھول کر پاؤں کی چٹکی کاٹنے کے درد کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ کیا ہے ۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو دیکھ کر کہا ، کیا بول رہے تھے آپ سوتے ہوئے بچا لو مت مارو نہیں امی ابو۔۔۔۔۔۔ قندیل نے ایک ساتھ ساری کی ساری بات کی ، یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا میرے ساتھ ، جو اب بھی وہ برے دن برا خواب بن کے میرا نیند حرام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ دریاب اٹھ کر بیٹھا تھا ، اچھا۔۔۔۔۔۔ میری وجہ سے ، میری وجہ سے میری خود کی زندگی حرام ہو رہی ہے اور مجھے ہی نہیں پتہ وہ وجہ ہے کیا ، سچ میں دریاب مجھے آپ کے بارے میں پتہ ہوتا کہ آپ مجھ سے جلتے ہیں ، اور اس جلن کا بدلہ لینے کے لیے آپ مجھ سے شادی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ تاکہ آپ مجھے ساری زندگی اپنے بدلے کی چکی میں پیس سکے تو میں آپ سے شادی کرنے سے ہی انکار کر دیتی۔۔۔۔۔۔ قندیل شادی کے بعد دریاب کا رویہ نوٹ کر رہی تھی وہ ہر کام کرتا تھا جس سے قندیل کو تکلیف پہنچے ، قندیل نے روہانسے لحجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔ بس بہت کر لی تم نے بکواس قندیل ، اتنی ہی ہمت ہے تم میں ، تو توڑ دو ناں یہ رشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے غصے میں بیڈ سے اتر کر قندیل کے مقابل کھڑے ہو کر قندیل کی آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ، قندیل کی بات سے دریاب کو اپنا آپ جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اتنا سب ہونے کے بعد بھی اس نے قندیل کے ساتھ اس سختی سے پیش نہیں آیا جس طرح اسے پیش آنا چاہیے تھا ، تب بھی قندیل کا ہر وقت کا رونا ختم نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔۔۔ میں اپکو بہت برا مارو گی قندیل نے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی وردی کو بیڈ پر رکھا اور اپنے دونوں نازک ہاتھوں سے دریاب کو دھکا دیا ۔۔۔۔

 

جس سے دریاب ٹس سے مس بھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی آپکی ایسی بات کرنے کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں آپ سے محب۔۔۔۔۔۔۔ ب قندیل نے غصے میں دریاب کے سینے پر مکوں کی بارش کرکے روتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی ، اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی شادی سے پہلے انکار کرنے کی دریاب نے قندیل قندیل کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے ہوئے کہا ، تو آپ ہی ہر وقت بدلے لیتے مجھ سے قندیل نے اپنے اور دریاب کے درمیان فاصلہ بنایا۔۔۔۔۔۔۔ اچھا سب غلطیاں میری تم تو جیسے بہت بڑی پارسا ہو پتہ ہے تمہاری وجہ سے میں نے کتنے سال تکلیف برداشت کی اور تمہیں ۔۔۔۔۔ تمہیں تو ابھی دو مہینے بھی نہیں ہوئے ، اور میں بس بولتا ہوں ابھی تک تم سے لئے نہیں بدلے یہ بات تم بھی جانتی ہو ۔۔۔۔۔ اور تم ابھی سے ہار گئی ، ویسے تو تم مجھ سے محبت کا دعویٰ بھی رکھتی ہو ، دریاب نے ایک ایک لفظ استہزایہ لحجے میں قندیل کے ہاتھوں کو چھوڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ اگر آپ ۔۔۔۔ میری محبت کو بیچ میں لا رہے ہیں تو ٹھیک ہے میں نہیں پوچھوں گی ۔۔۔۔۔۔ وجہ۔۔۔۔ پر ایک دن۔۔۔۔۔ ایک دن دیکھنا آپ خود مجھے بتائیں گے قندیل نے روتے ہوئے کہا اور وردی اٹھا کر پلٹ کر جانے ہی لگی تھی کہ تبھی دریاب نے قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ جھٹکے سے دریاب کے سینے سے آ لگی ۔۔۔۔۔ قندیل کی دھڑکنیں پہلے ہی رونے سے تیز ہورہی تھی اور اب دریاب کی قربت ۔۔۔۔۔۔ ا ۔۔۔۔۔ اب کیا ہے قندیل نے فاصلہ بناتے ہوئے کہا ، تم میری وردی کے بٹن کاٹنے جا رہی تھی ناں ۔۔۔۔ دریاب نے برہم ہو کر کہا ، کیا۔۔۔۔ کہا۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ میں تو ۔۔۔۔ اس دن تو میں شاہ حویلی میں تھا اس لیے لحاظ کرلیا تھا ۔۔۔۔ پر اب ایک شرٹ کا ایک بٹن کاٹنے کی سزا ساری شرٹس کے بٹن لگا کے دینی پڑے گی اس لیے اس غلطی کو دہرانا بھی مت دریاب نے قندیل کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور قندیل کہاں ہاتھ آہستگی سے چھوڑ دیا ۔۔۔۔

Author Image

مصنف کے بارے میں

رائٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *