ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 16 part (1)
کواٹر دو کمروں پر مشتمل تھا جسمیں ایک بیڈ روم ساتھ ہی اٹیچ باتھروم اور ایک کھلی ٹیرس تھی ، جسکا دروازہ بیڈروم میں تھا ٹیرس کے ایک سائیڈ پر گلاب ، موتیا ، سورج مکھی اور گیندوں کے پھولوں کے گملے تھے ، اور دوسرے روم کی سیٹنگ گیسٹ روم ٹائپ تھی اس میں بس ایک قالین ، چند کشنز تھے ، گیسٹ روم کے ساتھ ہی چھوٹی سی گیلری تھی ہوا کے لیے ۔۔۔۔۔۔ ایک کچن اور ایک بڑے باتھروم کے علاؤہ گیسٹ روم اور کچن کے درمیان ایک ہال ٹائپ جگہ تھی جہاں دریاب نے آرام دہ میرون ویلویٹ کے صوفے دیوار ساتھ لگائے ہوئے تھے اور درمیان میں ہی ایک ڈائینگ ٹیبل تھی جسکے آس پاس چھ عدد جدید ڈیزائن کی کرسی رکھی گئی تھی ۔۔۔۔۔ کوارٹر کے تمام کونوں والی جگہ پر فینسی آرٹیفیشل بڑے سائز کے گلدستے تھے۔۔۔۔۔۔ بیڈروم میں فل سائز بیڈ دیوار پر نصب اسکرین اور ایک جدید قسم کا فل سائز وارڈروب جسمیں قد آدم آئینہ اور ساتھ ہی ڈریسنگ ٹیبل ، اور کرسی ساتھ ہی اٹیچ تھی ، وارڈروب میں ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گھومنے والا ڈور بھی نصب تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کو کوارٹر میں چھوڑنے کے بعد خود باہر سے کھانا لینے چلا گیا تھا ، قندیل فرصت سے کوارٹر کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔۔دریاب کی تمام کوارٹر کی سیٹنگ دیکھ کر ایک بار دل میں قندیل نے دریاب کے دماغ کو داد دی تھی ۔۔۔۔۔ موصوف ماسی کہیں کے عورتوں سے بھی زیادہ نفاست اور صفائی پسند ہے ۔۔۔۔۔۔ ۔
مجھ سے نہیں رہا جائے گا یہاں مجھے اپ گھر بھیج دیں دریاب ۔۔۔۔۔ میں نے آپ کا کیا بگاڑا جو آپ مجھ سے بدلے لیتے رہتے ہیں ، یہاں سب سے دور کا کر مجھے اکیلا کردیا ۔۔۔۔۔ جب سے قندیل کراچی سے آئی تھی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا سفر میں بھی سارا ٹائم وقفے وقفے سے روتی رہی پھر کھانا بھی بے دلی سے کھایا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ بے چین ہو رہی تھی اور دریاب کو سکون سے رہتا دیکھ ، وہ پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔۔ اسکی چپ اور بے چینی دریاب نے بھی نوٹ کی تھی ۔۔۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے شاہ حویلی جانے کی مسسز ، اور میں نے کیا بگاڑا نہیں کہو قندیل۔۔۔۔۔ تم نے پورے کے پورے دریاب کو ہی بگاڑ دیا ہے۔۔۔۔ بہت رونا آرہا ہے نا تمھیں یہاں آ کر ، وہ وقت بھول گئی جب میں تمہاری وجہ سے اپنوں سے دور ہوا تھا ، دریاب نے استہزایہ لحجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔ دریاب پلیز آپ آج وضاحت کر ہی دیں ، یہ آپ کون سے وقت کون سے زمانے کی باتیں کرتے رہتے ہیں ، تمہاری وجہ سے یہ ہوا تمہاری وجہ سے وہ ہوا قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا ، آج نہیں مسز ، آج میں بہت تھک گیا ہوں اور ویسے بھی چھ مہینے ہیں تمھیں بتانے کے اور تم سے بدلہ لینے کے دریاب نے اتراتے ہوئے کہا اور بنا رکے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔ بدتمیز میسنا انسان قندیل نے دل تلملاتے ہوئے کہا وہ بھی دریاب کے پیچھے کمرے میں آگئی ، دریاب تو لیٹتے ہی سوگیا تھا مگر قندیل کو نئی جگہ اور کچھ اپنوں کی یاد ، اور شاہ حویلی کی یاد ستارہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب کو دیکھتے اور اسکو کوستے ہوئے کب جا کر آنکھ لگی قندیل کو پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔
یہ تو بہت اچھا کیا دریاب نے جو قندیل کو اپنے ساتھ لے گیا ، شاہ ویر نے کال پر بی جان کی بات سننے کے بعد کہا۔۔۔۔ ہاں بس بیٹا ، قندیل کا وہاں دل لگ جائے جاتے وقت بہت اداس تھی ، بچی رو بھی رہی تھی۔۔۔۔۔ بی جان نے کہا ، اداس تو ہوگی نا بی جان کبھی چاچا چاچی اور آپ لوگوں سے دور جو نہیں رہی۔۔۔۔ انشاء اللہ ٹھیک ہو جائے گی کچھ دنوں میں دریاب بہت خیال رکھنے والا لڑکا ہے ۔۔۔۔ ہاں بیٹا ماشاءاللہ بہت اچھا سمجھدار ہے دریاب تو ، بس قندیل کی وجہ سے فکر مند سب ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ، اچھا ویسے باقی سب ٹھیک ہے نا شاہ ویر نے تیسری بار پوچھا تھا ۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔ بیٹا ۔۔۔ الحمدللہ سب ٹھیک ہے میری جان ۔۔۔۔ بی جان نے پیار بھرے لہجے میں کہا وہ دل ہی دل میں سمجھ رہی تھی شاہ ویر کس کا پوچھنا چاہ رہا ، بی جان یہ اسپغول والی دہی کھا لیں بہت اچھی رہتی ہے پیٹ درد میں در ثمین نے موبائل پر بات کرتی بی جان کے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ درے بیٹا میرا دل نہیں کر رہا ، در ثمین کو معلوم نہیں تھا کہ بی جان شاہ ویر سے بات کر رہی ہے نہیں بی جان آپ کو کھانی پڑے گی ورنہ وہ جو ہے ناں آپ کا غصیل اکڑو لاڈلا پوتا ۔۔۔۔۔ وہ کہے گا درے میں تم سے زیادہ بی جان کا خیال رکھتا ہوں ، در ثمین نے بھاری آواز بنا کر شاہ ویر کی نقل اتاری ، جو شاہ ویر نے بھی براہ راست سنی شاہ ویر نے اپنی مسکراہٹ کو ضبط کیا ۔۔۔۔۔ در ثمین کو شاہ ویر کی نقل اتارتا دیکھ بی جان کو ہنسی آگئی ، اچھا ۔۔۔۔اچھا بھئی میں کھا لیتی ہوں لو تم تب تک موبائل پر بات کر لو۔۔۔۔۔ بی جان نے جان بوجھ کر دہی کی پیالی پکڑتے ہوئے در ثمین کو موبائل پکڑا دیا ۔۔
آجائیں دریاب ناشتہ کر لیں ۔۔۔۔ توبہ بدتمیز ۔۔۔۔ قندیل نے روم میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر دوسرے ہی پل شرمندہ ہو کر اپنا رخ موڑ لیا ، دریاب ابھی باتھروم سے فریش ہو کر ٹاول میں نکلا تھا ۔۔۔۔۔ آ رہا ہوں ، اور میں نے کونسی بدتمیزی کردی میں نے زرا یہاں میری طرف دیکھ کر بتاؤ ۔۔۔۔ بنا ناک کیے تم آئی کمرے میں ، دریاب نے بیڈ سے وردی کی شرٹ اٹھا کر پہنتے ہوئے کہا ، جی ۔۔۔ جی ، میں کیوں ناک کر کے آؤ میرا بھی کمرہ یہ ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اور وہاں گھر میں تو آپ نے کبھی ایسے بے شرمی نہیں کی ، قندیل نے رخ موڑے ہی کہا، کونسی بے شرمی ، سب ہی لڑکے ایسے آتے باتھ لے کر ، اور میری بھی شروع سے یہی عادت ۔۔۔۔۔ یہ بات الگ شادی کے شروع میں ، میں تمھارا لحاظ کرکے اپنے کپڑے باتھروم میں لے جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔ اب ساری زندگی تو ایسے نہیں کرسکتا ، اسلئے عادت ڈال لو مجھے ایسے دیکھنے کی دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے قندیل کے سامنے آ کر کہا ، اسے پتہ قندیل کتنی شرم و حیا والی لڑکی ہے ، دریاب نے شرٹ پہنی ہوئی تھی ٹاول کے اوپر ہی ۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کا اوپر سے نیچے جائزہ لیا تو دوبارہ رخ موڑ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے ، توبہ استغفار دریاب آپ کتنی گندی باتیں کرتے ہیں ہٹیں میرے سامنے سے مجھے باہر جانا ہے ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے شرم کے باعث کہا ، پہلے دیکھ لیا سب اب باہر جانا ہے۔۔۔۔ ہاں جاؤ جلدی مجھے بھی ریڈی ہونا ڈیوٹی کے لیے ۔۔۔ دریاب نے ہنستے ہوئے قندیل کو چھیڑا ، دریاب ۔۔۔۔ ک۔۔۔۔کچھ نہیں دیکھا میں نے ، قندیل نے اپنے آپ کو کوسا کہ میں نے دریاب کا جائزہ لیا کیوں ، پہلے ہی باہر نکل جانا تھا ، قندیل دریاب کے ہنستے ہوئے چہرے کو غصے میں گھورتی ہوئی کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کی ہوگی کال در ثمین نے دل میں سوچا ، السلام علیکم جی کون ۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے موبائل کان پر لگا کر کمرے سے باہر آتے ہوئے کہا ، وعلیکم السلام جی میں بی جان کا اکڑو لاڈلہ پوتا بات کر رہا ہوں۔۔۔۔ کیسی ہیں اپ شاہ ویر نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ، آ ۔۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہوں میں در ثمین کی زبان اٹکنے لگی ، بہت ظالم ہو تم درے ، میری ذرا بھی یاد نہیں آتی تمہیں اور میں یہاں سات سمندر پار تمہاری ایک بار آواز سننے کے لیے ترس رہا ہوں تم جھوٹے سے بھی مجھ سے بات نہیں کرتی شاہ ویر نے شکوہ کیا۔۔۔۔۔۔ در سمین خاموش رہی درے آئی لو یو سو مچ duray ….. I love you so much , اینڈ ائی مس یو ہاؤ مچ and I miss u how much , ائی کانٹ سے پلیز انڈراسٹینڈ مائی فیلنگ ۔۔۔۔ I can’t say please understand my feeling , ائی کانٹ لیو وتھ آؤٹ یو ، I can’t leave without you ……. بس شاہ ویر میں کال کاٹ رہی ہوں مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر کی بات کاٹتے ہوئے کہا درے میں سچ کہہ رہا ہوں قسم سے میری بات تو سنو ۔۔۔۔۔ خدا حافظ در ثمین نے شاہ ویر کی بات سنے بغیر کال ڈسکنکٹ کر دی اور اپنی انکھوں میں سے گرتے موتیوں کو اپنے گالوں پر سے بے دردی سے ہٹاتے ہوئے بی جان کے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔