ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 15 part (2)
کیسا لگا سرپرائز در ثمین نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے قندیل کو کہا ۔۔۔۔۔ مطلب آپ سب جانتے تھے ایک میں ہی بے خبر تھی قندیل نے مسکراتے ہوئے کہا ، کیا کریں دریاب کی مرضی تھی سرپرائز دینا چاہتا تھا تمہیں۔۔۔۔۔ یو نو امپورٹنٹ پرسن در ثمین نے اپنا کندھے قندیل کے کندھے پر مارتے ہوئے کہا ہاں ۔۔۔۔ امپورٹنٹ یا ایکسٹرا قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اچھا مس ایکسٹرا ، ایک اور سرپرائز آپ کے لیے ہے ، اب بھی کیا آپ مس ایکسٹرا ہے۔۔۔۔۔ در ثمین نے شرارات بھرے لہجے میں کہا کیا ایک اور سرپرائز آپ کو پتہ ہے آپی کیا کرے گے وہ ، قندیل نے انکھوں کو بڑی کرتے ہوئے شوق سے پوچھا ، ایسے نہیں ۔۔۔۔تم ناشتے پر چلو تمہیں بھی پتہ چل جائے گا ، در ثمین ناشتے کی ٹرالی میں کھانا رکھ کر باہر چلی گئی۔۔۔۔۔ میرے لیے وہ بھی سرپرائز ، کیا ہو سکتا ہے کیا میری سالگرہ ہے ۔۔۔۔ نہیں اس میں تو ابھی دو مہینے باقی ہیں اور پھر کیا ہو سکتا ہے کہیں اس کی سالگرہ تو نہیں ، پر اس کی سالگرہ میں میرے لیے کیسے سرپرائز ہوگا ، قندیل نے اپنے دماغ پر زور دیتے ہوئے سوچا ، قندیل جا جا کے سن لے اپنے کانوں سے اور دیکھ لے اپنی آنکھوں سے قندیل نے اپنے فضول سوچوں پر بریک لگاتے ہوئے خود کلامی کی اور ڈائننگ ٹیبل پرسب کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی جہاں ناشتے کے لئے سب پہلے سے موجود تھے قندیل نے ایک نظر دریاب پر ڈالی جو در ثمین سے بات کرنے میں مصروف تھا ہمیشہ کی طرح ، قندیل اسے نظر انداز کر کے ناشتہ کرنے میں لگ گئی ۔۔۔۔۔۔ قندیل بیٹا تم نے پیکنگ کر لی انجمن بیگم نے پوچھا ، تائی امی کس لیے پیکنگ قندیل حیران ہوئی۔۔۔۔۔ دریاب بیٹا آپ نے اب تک قندیل کو کچھ نہیں بتایا ، شبانہ بیگم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ، اگر وہ بتا دیتے تو کیا میں حیران ہو رہی ہوتی قندیل نے دریاب کو گھورتے ہوئے دل میں سوچا ۔۔۔۔ نہیں چاچی دریاب قندیل کو سرپرائز کے طور پر خود بتانا چاہتا تھا ہم سب کے سامنے در ثمین نے دریاب کو کہنی مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔سو رومانٹک دریاب بھائی صبا نے مزید دلچسپی لیتے ہوئے کہا ، نہیں چاچی ایسی
کوئی بات نہیں آپ خوف بتا دیں قندیل کو ، میری بات کو وہ شاید اگنور کر دے ۔۔۔۔۔۔
دریاب نے معصومیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا نہیں بیٹا ۔۔۔۔ قندیل تو بہت فرمانبردار بچی ہے انجمن بیگم نے پیار بھرے لہجے میں کہا ، بیٹا قندیل دریاب تمہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے تیاری کر لینا کل صبح تم نے بھی جانا ہے دریاب کے ساتھ ۔۔۔۔۔ بی جان نے قندیل کے سر پر بن پھوڑا ، ک۔۔۔۔ کیا مجھے۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔۔ پر میں اکیلی کیسے رہوں گی وہاں بی جان ۔۔۔۔۔ اور ابھی ان کا ٹرانسفر ہونے والا تو ہے قندیل نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ، ہاں ہونے والا تھا پر اب چھ ماہ بعد ہوگا میں تو دادا جان اور اپ سب کے کہنے پر اور قندیل کی وجہ سے کر رہا تھا ۔۔۔۔اگر قندیل نہیں جانا چاہتی میرے ساتھ تو کوئی بات نہیں دریاب نے معصومیت سے کہا ۔۔۔۔۔ قندیل تم جا رہی ہو سنا تم نے دریاب کو ہم سب نے ہی مل کر کہا تھا تمھیں اپنے ساتھ لے جانے کو شبانہ بیگم نے قندیل کو گھورتے ہوئے کہا ، پر یوں اچانک امی اگلی بار چلی جاؤں گی نا میں ان کے ساتھ قندیل نے رونی صورت بنائی ۔۔۔۔۔ اس دن تو مجھے جانے نہیں دے رہی تھی اور اب میرے ساتھ چلنے کے لیے راضی نہیں ۔۔۔۔۔ دریاب نے دل میں سوچا ، رہنے دے چاچی بس چھ ماہ کی تو بات ہیں پھر مجھے یہی آنا ہے دریاب نے شبانہ بیگم کو غصہ دلانے کے لیے کہا نہیں بیٹا ایسی بات نہیں ہے قندیل تمہارے ساتھ ہی جائے گی تھوڑا بچپنا ہے اس میں اس لیے ایسے کر رہی ہے کیوں قندیل بیٹا جاؤ گی نا تم دریاب کے ساتھ ، شبانہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا ، ہاں ۔۔۔۔۔۔ امی شبانہ بیگم کے ناراضگی سے ڈرتے ہوئے قندیل نے نا چاہتے ہوئے بھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ، بی جان میں ایک شرط پہ جاؤں گی کہ اگر اپ سب مجھ سے ملنے آئیں گے وعدہ کریں، سب قندیل نے خود کو سنبھالتے ہوئے رونی صورت بناتے ہوئے کہا ، ہاں بیٹا ضرور آئیں گے پہلے تم جا کر اپنا شوہر اور گھر سنبھا لو اس کے بعد بی جان نے مسکراتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل اٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ بی جان کی شوہر والی بات پر قندیل نے ایک نظر دریاب پر ڈالی جو اس کو ہی فاتحانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا قندیل تلملا کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر جگہ پر آپ کو اپنا بدلہ لینا ہوتا ۔۔۔۔۔ میں آج آپ کو چھوڑو گی نہیں ، دریاب پورا دن قندیل کی غصیل نظریں خود پر محسوس کر چکا تھا ، ابھی رات کو کمرے میں قدم ہی رکھا تھا کہ ایک کشن اڑتا ہوا دریاب کی طرف آیا جو اس نے بہت ہی مہارت سے کیچ کرلیا ، تب ہی دوسرا کشن بھی آیا اور پھر تیسرا کشن ، دو تو دریاب نے کشن کیچ کرلیے مگر تیسرا اسکے منہ پر لگا ، قندیل یہ کیا حرکت ہے دریاب نے قندیل کو گھورا تو قندیل نے ایک اور کشن دریاب کی طرف پھینکا ۔۔۔۔۔ جو دریاب کے فوراً ہٹنے کے باعث دروازے پر لگا تھا ، قندیل کشن ختم ہونے کے بعد اب تکیوں کی طرف بڑھی تھی ، رکو ابھی بتاتا ہوں تمہیں دریاب کُشنز قالین پر پھینکتا ہوا فوراً قندیل کی طرف آیا ۔۔۔۔۔۔۔قندیل تکیہ بازوؤں میں اٹھائے بیڈ پر کھڑی ہوگئی ، جیسے ہی دریاب اسکے پاس آیا تو اس نے تکیے سے دریاب پر وار کیا یہ پتہ ہوتے ہوئے بھی کہ اس مضبوط جسامت والے انسان پر ان تکیوں کی مار کا کیا اثر ہونا ، تکیہ لگنے سے دریاب کے بال خراب ہو گئے جسے دیکھ کر قندیل کی ہنسی چھوٹ گئی ، قندیل نے ہنستے ہنستے دریاب کو ایک اور تکیہ مارنے لگی تھی دریاب نے ایک جست سے تکیے کو پکڑ کر کھینچا تو قندیل تکیے سمیت دریاب کی طرف کھینچتی ہوئی آگئی اگر وہ بروقت دریاب کے کندھوں پر اپنے ہاتھ نا رکھتی تو وہ ضرور دریاب سمیت زمین بوس ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔۔ اب ایک ہاتھ میں دریاب کے تکیہ تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے دریاب قندیل کو تھامے ہوئے تھا ، دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے کافی نزدیک آ چکے تھے قندیل کے چہرے پر غصے کی جگہ حیا سمٹ آئی تھی جبکہ دریاب بہت ہی فرصت سے اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات کو دیکھ رہا
قندیل کے چہرے پر غصے کی جگہ حیا سمٹ آئی تھی جبکہ دریاب بہت ہی فرصت سے اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات کو دیکھ رہا تھا ، شرم نہیں آتی اتنے حسین خوبصورت معصوم شوہر کو مارتے ہوئے ، دریاب قندیل کے گلابی چہرے پر پھونک مارتے ہوئے اسے حال میں لایا ، دریاب کی بات سنتے ہی قندیل فوراً سیدھی ہوئی ، آپ کو آتی ہے شرم اپنی اکلوتی بیوی سے بدلے لیتے ہوئے ۔۔۔۔۔ قندیل نے فوراً منہ بناتے ہوئے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا ، میں نے کیا کیا ۔۔۔۔تم ہی رو رہی تھی یاد کرو دریاب مت جاؤ تو میں نے سوچا تمھیں بھی ساتھ لے کے چلتا ہوں ، دریاب نے قندیل کی نقل اتاری ، اتنے بھی برے طریقے سے نہیں کہا تھا آپ بہت بد تمیز ہے دریاب ، قندیل نے خفا ہوتے ہوئے کہا بات تو وہی ہوئی ناں جیسے بھی کہا ہو دریاب اپنے ہاتھوں سے اپنے بکھرے بال سنوارتا ہوا بیڈ پر بیٹھ گیا تھا ، می۔۔۔۔۔۔میرا مطلب تھا ۔۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔۔۔آپ یہیں رہے ، ہمارے ساتھ ، قندیل نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا ، اب تو چلنا ہے ویسے کرلی ہے تم نے تیاری کرلی اپنی ، کوئی چیز کی ضرورت ہے تو بتاؤ میں لے آتا ہوں ، دریاب نے کمرے میں نظریں دوڑائی تو قندیل کے دو لگیج نظر آ گئے تھے ، جی کرلی ہے ، کچھ نہیں چاہئے سب کچھ ہے ، قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اور بیڈ سے اٹھ کر قالین پر پڑے کشن اٹھانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل کو سمجھ آگئی تھی دریاب سے بحث کرنا فضول دریاب تو اسے چھوڑ بھی جاتا مگر باقی سب گھر والے کو کیسے بولتی جو سب اسکی اتنی فکر کررہے تھے اوپر سے شبانہ بیگم کی ناراضگی ، اسلیے اس نے چپ چاپ صبا اور اجالا کی مدد سے اپنی پیکنگ کرلی تھی بس دریاب پر تو اپنا غصہ نکال رہی تھی باقی سب کو تو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلی صبح دس بجے وہ سب سے مل کر سب کی دعاؤں میں سفر کے لیے روانہ ہوئے ۔۔۔۔۔
اتنا تو تم رخصتی پر بھی نہیں روئی تھی جتنا اب تو رہی ہو دریاب نے روتی ہوئی قندیل کے سسکتے ہوئے وجود کو دیکھتے ہوئے کہا وہ پچھلے آدھا گھنٹے سے رونے میں مصروف تھی گھر پر شبانہ بیگم نے رونے نہیں دیا تھا تو اب وہ گاڑی میں اپنی کسر پوری کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ ہاں تو تب میں اپنے۔۔۔۔۔ گھر ہی جا رہی تھی پر اب یہاں اتنی دور کوئٹہ ۔۔۔۔۔ قندیل پھر سے رونے لگی ، آپ ، آپ کو تو بہت خوشی ہو رہی ہوگی ناں مجھے سب سے دور کر کے قندیل نے روتے ہوئے کہا اچھا اب چپ ہو جاؤ ڈرائیور کیا سوچے گا ، اور ویسے بھی تمھاری میرے علاؤہ کسی سے شادی ہوتی تو وہ بھی تمھیں اپنوں سے دور ہی کے کر جاتا اپنے گھر ، یہ تو میرا احسان مانو ، دریاب نے اپنی مونچھوں کو سیٹ کرتے ہوئے کہا ، جی جی بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو دریاب ہنس کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔ ۔ تھکان بھرے سفر کے بعد وہ رات کے سات بجے کوئٹہ کینٹ پہنچے ۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو کوارٹر میں لانے سے پہلے ہی کوارٹر کی سیٹنگ اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر کروالی تھی اب سیڑھیاں بھی چڑھنی ہے قندیل نے منہ بناتے ہوئے دریاب کی طرف دیکھا جی مسسز تیسری منزل پر ہمارا کواٹر(فلیٹ)ہے ۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کے دونوں لگیج اٹھائے ہوئے تھے دریاب اپنی بات مکمل کرتے ہی آگے کی طرف بڑھ گیا تو قندیل بھی دریاب کے پیچھے اپنا پرس لئے چل پڑی ۔۔۔۔۔۔۔