ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 1 part (3)
بابر بری بات ہوتی ہے وہ تمہاری بہنوئی ہے اجالا کچھ بھی کہہ سکتی ہیں لیکن تم انجمن بیگم نے بابر کو گھورتے ہوئے کہا امی میں نے یہ ادریس بھائی کے لیے تھوڑی کہا ہے بابر نے دریاب کو انکھ مارتے ہوئے کہا انجمن بیگم سے ۔۔۔۔۔تو پھر کس سے کہا ہے در ثمین نے دریاب اور بابر کو باری باری دیکھتے ہوئے کہا در اپی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہے جسے کہا ہے اسے سمجھ آ جائے باقی خیر ہے۔بابر نے ایک نظر در ثمین کو دیکھ کر صبا کو دیکھتے ہوئے کہا اس بندے کو اخر ہے کیا مسئلہ باقی سب کے ساتھ اچھے سے رہتا ہے بس میرا خون چوسے رکھتا ہے ہٹلر کہیں کا صبا نے دل میں کہا۔۔۔۔ بھلے دیر سے ہی صبا کو بات سمجھ اگئی تھی۔۔۔۔۔۔ بی جان اور دادا جان نہیں ائے ناشتے کے لیے دریاب نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا ہاں وہ بی جان اور دادا جان اپنے کمرے میں ہی ناشتہ کر رہے ہیں قندیل آتی ہو گئی انہیں ناشتہ کروا کر شبانہ بیگم نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا شبانہ ۔۔۔۔۔۔ مظفر صاحب نے گھڑی دیکھتے ہوئے کچن ایریا میں آ کر شبانہ بیگم کو آواز دی ۔۔۔۔اور اپنی گھڑی کی ٹائمنگ پانچ منٹ اگے سیٹ کرنے لگے۔
جی۔۔۔۔۔ ناشتہ کرلیں شبانہ بیگم نے مظفر صاحب کے پاس آ کر کہا اج میں میٹنگ کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں تو ڈنر سب کے ساتھ کروں گا مظفر صاحب نے گھڑی پر سے نظر ہٹاتے ہوئے کہا آج جلدی اپ ا جائیے گا شام کو قندیل کو مایوں میں بٹھانا ہے سب کہہ رہے تھے مایوں شادی سے پانچ دن پہلے رکھ لیں گھر میں تھوڑی رونق لگ جائے گی بچوں کی بھی خواہش تھی تو بھابھی جان اور میں نے پھر صحیح کیا شبانہ نے وضاحت کے ساتھ کہا ۔۔۔۔۔۔ جیسی بھابھی اور تمہاری مرضی بابر یہاں اؤ مظفر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا جی چاچو بابر نے فورا پاس آ کر تابعداری سے کہا اج تمہاری چاچی اور امی گھر میں کوئی رسم کرنے والی ہے تھوڑا ڈیکوریشن وغیرہ دیکھ لینا کسی چیز کی کمی نا رہے خیال رکھنا ٹھیک ہے۔
مظفر صاحب نے بابر کو سمجھاتے ہوئے کہا چاچو میرے لیے بھی کوئی کام ہو تو بتائیں دریاب نے مظفر صاحب کے پاس آ کر کہا ابھی تمہارے عیش کے دن ہیں انجوائے کرو بابر کی شادی میں اپنے یہ شوق پورے کر لینا مظفر صاحب نے دریاب کے مضبوط کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جی چاچو بات تو اپ نے صحیح کی شادی کے بعد تو بندہ جوڑوں کا غلام بن جاتا ہے اور پھر غلام کو تو کہاں ارام ملتا ہے
اس لیے تو میں نے سوچ اس لیے میں نے تو سوچا میں شادی کروں گا ہی نہیں بابر نے مظفر صاحب کی بات پر دریاب کا مذاق بناتے ہوئے اپنی سوچ ظاہر کی۔
اچھا ہے تم نے پہلے اپنی سوچ ظاہر کر دی ورنہ تم بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح ہمیث بے وقوف بناتے رہتے قندیل نے آتے ہوئے باہر بابر کی بات سن لی تھی جو بات اس کے دل میں کب سے کھٹک رہی تھی وہ اج اس نے ظاہر کر دی وہ ایسی ہی تھی کسی کو برا کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتی تھی شاید اسی وجہ سے وہ چاروں لڑکیوں میں زیادہ ذہین اور صاف گو کہلاتی تھی۔۔۔۔۔ انجمن بیگم کو ایک پل قندیل کی بات ناگوار گزری لیکن وہ اس کی فطرت سے واقف تھی اس لیے وہ بس سر جھکائے لب بھینچ کر رہ گئی اس کی کسی بھی بات کا مطلب کسی کو دکھی کرنا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ ویل ڈن قندیل آپی کیا شارٹ مارا اسے ہٹلر سے تو میرا بدلے اپ ہی لیں گی صبا نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے دل میں سوچا۔
تم سب اپنی باتیں جاری رکھو میں جا رہا ہوں مجھے دیر ہو رہی ہوں مظفر صاحب نے پھر سے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا اور خدا حافظ کر کے چلے گئے ایسی بات ہے تو انے دو اس بار بھی میں اپ لوگوں کے ساتھ ہوں بابر نے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔۔ریلی خود جو خود شادی نہیں کرنا چاہتا وہ دوسرے کی شادی کروائے گا قندیل نے بابر پر طنز کیا
۔۔۔ تو کیا مطلب اپ مجھے اجالا آپی کا ثمامہ اٹھانے کے لیے اپنے بچے دنیا میں لانے پڑیں گے بابر نے قندیل کی بات کا برا نہ مانتے ہوئے مذاق کیا اور زور زور سے ہنسنے لگا باقی بات باقی سب بھی بابر کی بات پر ہنسنے لگے شکر کرو قندیل تم مجھ سے بڑی ہو گئی دو مہینہ ورنہ اج تمہارا حال بھی صبا کی طرح ہوتا بابر نے صبا کے خود سے ڈرنے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا اچھا یہ تمہاری بھول ہے میں تم سے چھوٹی بھی ہوتی تو تب بھی تم سے تو کم از کم خوف نا کھاتی قندیل نے مسکراتے ہوئے صاف گوئی سے کام لیا تو پھر کیا دریاب بھائی سے ڈرتی اجالا نے مذاقا کہا۔
اجالا کی بات پر دریاب اور قندیل کی نظریں ملی قندیل جو کب سے دوسروں کو لاجواب کی جا رہی تھی اب چپ تھی۔۔۔۔ مجھ سے جھوٹ برداشت نہیں ہوتا اور سچ کہنے میں ۔۔۔۔۔ میں کسی سے ڈرتی نہیں قندیل نے ایک پل سوچا اور دریاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور نظر کو جھکا لیا اور اگر جو تم نے دیکھا ہو وہ ادھا سچ ہو تو دریاب نے مسکراتے ہوئے قندیل سے بات بڑھائی ۔۔۔۔۔۔ جانے وہ کون سی بات کر رہا تھا قندیل کی سمجھ نہیں ائی ۔۔۔۔۔جہاں تک میری بات ہے جو سچ ہے وہ سچ ہے آدھا ہو یا پورا کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔ قندیل نی ایک نظر دریاب پر ڈالتے ہوئے کرسی کو کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ اوہ ہو
بہانے بہانے سے باتیں ہو رہی ہیں سو رومنٹک۔۔۔۔۔ صبا نے پاس بیٹھی قندیل کو کندھا مارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ چاچی میں نے کہا تھا نا صبا کا دھیان اسٹڈی میں نہیں ہے قندیل کو چھوڑے پہلے آپ اس کی شادی کروا دے بابر نے شبانہ بیگم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
کیوں تم کرو گے اس سے شادی جو ائیڈیا دیتے پھر رہے ہو انجمن بیگم نے بابر کو گھورتے ہوئے کہا میں۔۔۔۔۔ اور وہ بھی اس سے ویسے بھی میں تو شادی کرنا ہی نہیں چاہتا اور اتنے بیڈ اپشن سے تو بالکل بھی نہیں۔۔۔ بابر نے اپنی ماں کی بات پر حیران ہوتے ہوئے صبا پر طنز کیا۔۔۔۔۔۔ آئے بڑے بول تو ایسے رہے ہیں جیسے میں ان سے شادی کرنے کے لیے مری جا رہی ہوں ویسے ہی ہٹل مجھے اتنا برا لگتا ہے اور شادی ہو گئی تو ہر وقت میرے سر پر سوار رہے گا صبا یہ نہیں کرو صبا وہ نہیں کرو ڈانٹے گا الگ پیار نام کی تو کوئی چیز نہیں ان کے پاس ۔۔۔۔۔
نعوذ باللہ صبح نے دل میں سوچا اور اپ