ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 1 part (2)
جہانگیر شاہ اپنی بےلوث محبت کرنے والی بیگم مہتاب اور تین فرماانبردار بیٹوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔۔ بڑے بیٹے منور اور بڑی بہو انجمن دوسرے بیٹے حیدر اور بہو راحیلہ سب سے چھوٹے بیٹے مظفر اور بہت شبانہ نے ان کا گھر اور دل اپنے سلیقہ مندی سے سنوارا اور محبت سے جیتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ راحیلہ اور شبانہ دونوں اپس میں کزن بھی تھی انجمن نے اپنی خوش اخلاقی اور سادگی سے سب کو اپنا محور بنا رکھا تھا پھر بچوں کی چہچہاہٹ سے ان کا انگن اور بھی مہک گیا یہ ہے جہانگیر شاہ کی بےمثال فیملی۔
وہ نماز پڑھ کے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ کمرے کی صفائی کرنے میں لگا ہوا تھا ایک تو تم فوجیوں کی یہ عادت مجھے بہت بری لگتی ہے مسکرا رہی تھی کون سی عادت اس حسین مرد نے مڑ کر کہا ساتھ ہی بکس ریک میں رکھنے لگا یہی عورتیں پنے والی یعنی کہ اپنا کام خود کر کرنے کی وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔ وہ تو ہے اب ٹریننگ ہی ایسی ملتی ہے کیا کریں وہ ہنسا تھا ویسے درے اپ کے جناب ا رہے ہیں یا نہیں شادی میں اس نے اس کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا میں تم سے پورے تین منٹ بڑی ہوں اپی کہا کرو مجھے ویسے بی جان فون کرنے کا کہہ تو رہی تھی اور ۔۔۔۔۔ اور اچھا تم بتاؤ خوش تو ہونا تم ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ تم دونوں کی بچپن میں بالکل ہی نہیں بنتی تھی اور اب تم دونوں کو سب چیزیں شیئر کرنی پڑے گی۔۔۔۔ در ثمین نے اپنی طرف سے دھیان ہٹاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ یہ تو اپ ٹھیک کہہ رہی ہیں کافی پرانے حساب برابر کرنے ہیں مسز سے اس نے انکھ مارتے ہوئے کہا اور ہنس کر بات کو مذاق میں ٹالنے لگا ۔۔۔۔۔ چلو بہت ہو گئی باتیں نیچے سب ناشتے پر ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے در ثمین نے اس کی بات پر ہنستے ہوئے کہا اپ روئی تھی درے میں اپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں اس کے ہنستے ہوئے چہرے پر نظر ٹکائے تو اس کی بڑی بڑی انکھیں ابھی بھی نم تھی بتاؤ درے کیا تم روئی تھی اس نے اس کی نم آنکھوں کی وجہ پوچھی ۔
ہاں وہ امی ابو خواب میں نظر ائے تھے تو بس تھوڑا سا رونا آگیا وہ آنکھیں جھکائے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ ویسے بنتی تو اپ مجھ سے بڑی ہے اور دل تو دیکھیں چڑیا سی بھی چھوٹا اس نے در ثمین کو اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر کہا چلیں درے آپی اس نے اسے اپنی بات پر مسکراتا دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔اوکے چلو در ثمین نے اس سے الگ ہوتے ہوئے کہا اور وہ دونوں ناشتے کیلے نیچے کچن ایریا کی طرف چل پڑے۔
ارے کیا ہوا میری چھوٹی سی پری کا منہ کیوں سوجھا ہوا ہے منور صاحب نے صبا کو اکیلے بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس چلے آئے ۔۔۔۔۔تایا ابو وہ اپ اپنے بیٹوں کو سمجھا لیں ایک بدتمیزی کرتا مجھ سے دوسرا ڈانٹتا ہے یہ سارے گھر کے افراد مجھ پر ہی کیوں اپنی فرسٹریشن نکالتے ہیں کیا میں کوئی کچرے کا ڈبہ ہو جو ہر کوئی اپنا کچرہ مجھے پھینک کر چلا جاتا ہے منور صاحب کے سامنے وہ اپنے سارے دکھ کھول کر رکھ دیتی تھی بقول بی جان کے ایک وہی تو اس کے اپنے ہیں منور صاحب صبا کی بوندی مثال پر گال پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگے اپ ہنس رہے ہیں نہ تایا ابو صبا نے منور صاحب کا چہرہ کھوجتے ہوئے کہا ارے نہیں نہیں میں ہنس کہاں رہا ہوں وہ تو میری داڑھ میں درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔ اسی لیے ۔۔۔۔۔ آنے دو میں ان دونوں کو ڈانٹوں گا انور صاحب نے منہ پر ہاتھ رکھ کر دوبارہ سے ہنسی کو چھپاتے ہوئے کہا تایا ابو اپ میرا نام نہیں لینا ورنہ ان کو شک ہو جائے گا اور میری اور زیادہ شامت ا جائے گی فائض سے تو میں نے نمٹ لوں گی لیکن ۔۔۔با۔۔۔۔ بابر بھائی وہ تو مجھے ہی نمٹا دیں گے صبا نے ڈرتے ہوئے کہا تم فکر نہ کرو منور صاحب نے صبا کے سر پر پیار اور شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر تسلی دی
مما نوڈلز کھانے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بچے نے اپنی ماں سے لاڈ سے کہا ارے میرے شہزادے کو نوڈلز کھانے مما ابھی بنا کر دیں گی اپنے شہزادے کو انہوں نے اپنے بچے کو پچکارتے ہوئے کہا اور فٹافٹ نوڈلز بنا دیے۔۔۔۔۔ بچے نے نوڈلز رغبت سے کھانے ہی شروع کیے تھے۔۔۔ مما۔۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔۔ تائی امی۔۔۔۔۔ تائی۔۔۔۔ امی تبھی ایک بچے نے آ کر انکا دوپٹہ کھینچ کر کہا۔۔۔۔۔ بوبی بیٹا ۔۔۔ایسے نہیں روتے مما اجائیں گی آپ چپ ہو جاؤ۔۔۔ اپی کہاں ہیں انہوں نے بچے کو چپ کراتے ہوئے پوچھا۔۔۔ وہاں ہیں۔۔۔۔۔ بچے نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا اچھا چلو تم یہاں بیٹھو بھائی کے ساتھ نوڈلز کھاؤ میں آپ کی آپی کو لے کر اتی ہوں۔۔۔۔۔ ویر چھوٹے بھائی کو بھی کھلاؤ نوڈلز دیکھو کتنا رو رہا ہے۔۔۔ انہوں نے کہا اور چلی گئی۔۔۔۔ اور ویر نوڈلز کی چمچ ہاتھ میں تھا میں روتے ہوئے بوبی کو دیکھ رہا تھا۔۔
اجالا تم کب سدھرو گی تمہارا فون کب سے بج رہا ہے ادریس کال کر رہا ہے اسے بات تو کر لو انجمن بیگم نے موبائل اجالا کو دیتے ہوئے کہا جو ڈائننگ ٹیبل پہ ناشتہ سیٹ کروا رہی تھی تائی امیر رہنے دیں انہیں ۔۔۔۔۔بار بار بہانے سے کال کر کے مجھے تنگ کرتے ہیں اور کچھ نہیں۔۔۔۔ صبا یہ جوس وہاں رکھو جالا نے ناشتہ سیٹ کرواتے ہوئے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔۔ اجالا آپی اپ ایک بار بات تو کر لیں ہو سکتا ہے ادریس بھائی کو واقعی کوئی کام ہو صبا نے مسکراتے ہوئے در ثمین اور دریاب کو ناشتے کی طرف آتے دیکھ کر کہا۔۔۔۔ ارے یہ تمہاری طرح فارغ ہے اس لیے بار بار پوچھ رہے ہیں اج مایوں میں کیا پہنو ۔۔۔۔۔۔ جیسے اج مایوں ان کا ہی ہو
جو ان کا سجنا سنورنا ضروری ہے اجالہ نے صبا اور ادریس کا ایک ساتھ مذاق اڑاتے ہوئے کہا اپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اپی کچھ لوگوں کو فضول میں بھاگ دور کرنے کی زیادہ عادت ہوتی ہے بابر نے اجالا کی اخری بار سنتے ہی صبا پر طنز کیا۔۔۔۔۔ بابر بری بات ہوتی ہے وہ تمہاری بہنوئی ہے اجالا کچھ بھی کہہ سکتی ہیں لیکن تم انجمن بیگم نے بابر کو گھورتے ہوئے کہا امی میں نے یہ ادریس بھائی کے لیے تھوڑی کہا ہے بابر نے دریاب کو انکھ ماری