ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 14 part (2)
کیا کروں ۔۔۔۔۔ کیسے بات کروں در ثمین سے ، کہیں میں اسے چاہنے تو نہیں لگ گیا ، اوہ مائے گاڈ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے اپنے موبائل میں شادی کی در ثمین کی خود کے ساتھ والی تصویر کو بڑی کر کے در ثمین کو محبت سے دیکھتے ہوئے سوچا ، واقعی در ثمین تم چاہے جانے کے لائق ہو ۔ تمھاری آنکھیں کتنی حسین ہے شاہ ویر نے در ثمین کی آنکھوں کو غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ تمھارے لب ، رخسار ، زلفیں ، تم تو سراپائے محبت ہو ، ائی تھنک آئی ایم ان لو ۔۔۔۔۔یس ۔۔۔۔۔ یس، یس۔۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔۔۔ ائی لو یو در ثمین ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے موبائل کو اپنے سینے پہ رکھ کر انکھیں بند کر کے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
قندیل پچھلے آدھے گھنٹے سے دریاب کو تیار ہوتا دیکھ رہی تھی ، اس کے جانے میں بس آخری ایک گھنٹہ بچا تھا ، وہ ہمیشہ ہی تو ایسے آتا اور جاتا مگر اب نکاح کا اثر تھا یا اسکے ساتھ گزارے ہوئے بیس دن کا ، قندیل کا دل بے چین ہورہا تھا وہ کیوں جا رہا ہے اسے چھوڑ کر ، سب گھر والے اسکے اپنے ہی تھے پھر بھی پتہ نہیں کیوں ایک دریاب کا جانا آسکو اداس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کی کیفیت کو سمجھ رہا تھا ، وہ پچھلے دو دن سے اب تک دریاب کے جانے کا سن کر اداس ہورہی تھی ۔۔۔۔ ان دو دن میں وہ دریاب کو کچھ بھی نہیں کہ سکی تھی وہ تو بس خاموشی سے اسکا عکس اپنے دل میں اتار رہی تھی ، قندیل کہا گم ہو یار ، ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا قندیل خاموشی سے اب نظریں جھکائے انگوٹھی سے کھیل رہی تھی ، قندیل ۔۔۔ قندیل نہیں بولنا کچھ میں جاؤ نیچے سب انتظار کر رہے ہیں ، دریاب نے قندیل کو چھیڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ ہاں جائے آپ نیچے کسی کو بھی میری فکر نہیں ہے نا گھر والوں کو اور نا آپ کو ، قندیل جو کب سے خاموش تھی دریاب کے چھیڑنے پر بول پڑی ، اوہ میں نے کیا کیا میں تو آرام سے تمھیں بنا کچھ کہے ڈیوٹی پر جارہا ہوں ، میرا سارا کمرہ تمھارے حوالے جیسا چاہو رہنا جو فلم وغیرہ دیکھنی ہو دیکھ لینا دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا فلم وہ بھی ڈراؤنی ۔۔۔۔۔ میں مر کر بھی نہیں دیکھوں گی ، بلکہ میں تو آپ کے کمرے میں بھی نہیں رہو گی ، اپنا کمرہ خود سنبھالے ۔۔۔۔ اور آپ نے کیا کیا ، بتاؤ ، بتاؤ آپ ہر وقت بدلے جو لیتے رہتے مجھ سے وہ کم ہے اور ابھی مجھ سے دور جارہے یہ بھی تو بدلہ ہی ہوا ناں۔۔۔۔۔
۔ قندیل رونی صورت بناتے ہوئے ساری بات روانی میں کہہ گئی ۔۔۔۔۔۔ قندیل کی بات سن کر دریاب کا ایک جاندار قہقہہ بلند ہوا ، دریاب کے ہنسنے پر قندیل شرمندہ سی ہو کر مزید سر جھکا گئی مسز قندیل دریاب بدلہ جو ہے پاس رہ کر لیا جاتا ۔۔۔۔۔۔ اور میرے دور جانے سے تو تمھیں سکون ہونا چاہیے اور تم رو رہی ہو ، اب منہ صحیح کرو نیچے چلنا ہے ۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کا جھکا چہرہ دو انگلیوں کی مدد سے اٹھا کر کہا۔۔۔۔۔ ن۔۔۔ نہیں آ رہا سکون ، دریاب کی پیش قدمی کی دیر تھی قندیل باقاعدہ سوں سوں کر کے رونے لگی۔۔۔۔۔۔ ارے قندیل یار کیا ہوا ، دریاب نے قندیل کے بازو پر ہاتھ رکھا تو وہ فورا روتی ہوئی دریاب کے سینے سے آ لگی ، قندیل اچھا بس ، رونا تو بند کرو ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو چپ کروانے کے لیے کہا , قندیل چپ ہونے کے بجائے اپنے ہاتھ دریاب کے گرد باندھ گئی ، دریاب اپنی ہنسی ضبط کیے ، کچھ دیر کے لئے قندیل کو ایسے ہی رہنے دیا دریاب کا ایک ہاتھ قندیل کے سر کے پاس تھا اور ایک اسکے بازو پر ، وہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں کے لمس سے اسکو دلاسہ دے رہا تھا ۔۔۔۔۔ کچھ لمحے دریاب کے قندیل کی سوں سوں سننے میں گزر گئے ، قندیل کی حالت اب کچھ بہتر ہوئی تو وہ آہستہ سے نظریں جھکائے خود دریاب سے الگ ہوگئی ، مل گیا سکون دریاب نے تھوڑا سا ہنستے ہوئے کہا ، تو قندیل نے شرماتے ہوئے دریاب کے سینے پر مکا مارا ۔۔۔۔۔ تو دریاب زور سے ہنستا ہوا کھڑا ہوگیا ، اب چلیں نیچے یا اور رکنا روم میں دریاب مسلسل قندیل کو چھیڑ رہا تھا ، اور قندیل کچھ دیر پہلے والی حرکت کی وجہ سے شرمائی سی چپ تھی ، اپنا خیال رکھنا ٹھیک ہے ، کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو پیسے رکھے لاکر میں ، اور ڈرنا نہیں کوئی بھوت نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔ بس یہ انسان کا ڈر ہوتا اور اگر زیادہ ڈر لگے صبا کے پاس چلی جانا ، چاچا چاچی کو رات میں ڈسٹرب نہیں کرنا ، پہلے کی بات اور تھی اب تم خود شادی شدہ سمجھا کرو بات کو ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے آخری جملے پر ہنسی روکتے ہوئے کہا ، بہت بدتمیز ہیں آپ ، دریاب میں کونسا جارہی تھی میں تو آپ کو تنگ کر۔۔۔۔۔ر۔۔۔۔۔۔ دریاب کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے قندیل نے فوراً کہا مطلب تمھیں ڈر نہیں لگ رہا تھا جان بوجھ کر کیا وہ سب ۔۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی کو ضبط کر کے مصنوعی خفگی دکھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ سچ ۔۔۔۔ سچ میں مجھے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔و۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔ بس امی ابو والی بات ایسے کہی آپ کو تنگ کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔ قندیل نے شرماتے ہوئے منہ بنا کر کہا ، دریاب آپ ہر مہینے آ جائے گے ، قندیل کے دل میں چھپی بات زبان پر آگئی۔۔۔۔۔ نہیں تو ، ابھی کافی چھٹی کی تو کم از کم دو مہینے بعد دینی چھٹی ، آدھا گھنٹہ رہ گیا نیچے بھی ملنا سب سے چلیں نیچے ۔۔۔۔۔ دریاب نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا ، تو قندیل اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔
دریاب کوئٹہ کے لیے روانہ ہوتے ہوئے سب سے مل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے درے چچی چچا صبا فائز میں چلتا ہوں، پھر ملاقات ہوگی دریاب باری باری سب سے گلے ملتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے ایک نظر قندیل پر ڈالی ، خدا حافظ بی جان ، دادا جان دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ، دریاب نے بی جان دادا جان سے مل کر شاہ حویلی سے باہر قدم باہر رکھا اور بابر کے ساتھ کار میں بیٹھ کے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔ اللہ میرے بچے کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھے ، بی جان دعائیں کرتی ہوئی ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئی ، باقی سب بھی وہیں آ کر بیٹھے سوائے قندیل کے ، قندیل اپنے روم میں آ گئی تھی ۔۔۔۔۔ سب کے سامنے وہ ضبط کر کے بیٹھی تھی مگر روم میں آتے ہی اسکی آنکھوں سے موتی گرنا شروع ہوگئے ، کافی دیر اداس رہنے کے بعد اسے اپنے اور دریاب کے کچھ دیر پہلے کے لمحے یاد آ گئے ، دریاب چاہے اس سے محبت نہیں کرتا مگر کبھی اس نے قندیل کو اپنے سے دور بھی نہیں کیا ، دریاب کو یاد کرکے قندیل کے چہرے پر شادابی سی گھل گئی ۔۔۔۔۔بدتمیز ، میسنا ، ماسی کہیں کا۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل دل ہی دل میں دریاب کو اپنے من پسند لقبوں سے یاد کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بی جان آپ دریاب سے کس بارے میں بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ قندیل کو پتہ نہ چلے ، آخر ہے کیا بات ، انجمن بیگم نے تجسس سے پوچھا ۔۔۔۔ جی بی جان سب خیریت تو ہے ، شبانہ بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ ہاں ، سب ٹھیک ہے ، تمھارے دادا جان نے دریاب سے بات کی تھی کہ وہ قندیل کو اپنے ساتھ رکھے ، تو دریاب اب دوبارہ دس بارہ دن بعد آئے گا ۔۔۔۔۔ قندیل کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے ، کہہ رہا تھا قندیل کو بتانا مت ۔۔۔۔ وہ کیا ہوتا ہے ، وہ پر ۔۔۔۔ پرائز دے گا بی جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ بی جان سرپرائز ہوتا ہے سرپرائز ۔۔۔۔در ثمین نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔ اچھا۔۔۔۔۔ سرپرائز بی جان اور باقی سب بھی ہنسے تھے ۔۔۔۔۔ یہ تو بہت اچھا کیا ابو جان نے ، مجھے تو قندیل بہت اداس لگ رہی تھی ۔۔۔۔ انجمن بیگم نے کہا تو شبانہ بیگم نے بھی حامی بھری۔۔۔۔۔۔
دریاب کی کال آئی تھی بی جان کو خیریت سے پہنچ گیا ہے دریاب ۔۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے کچن میں آ کر بتایا ، پہلے کی بات اور تھی اب تو میں ان کی بیوی ہوں اب تو مجھ سے بات کر لیتے انجمن بیگم کی بات سن کر قندیل نے منہ بنا کر دل میں سوچا اور آٹا گوندھنے لگی۔۔۔۔۔ اتنا برا منہ کس کی یاد میں بنایا جا رہا ہے ، در ثمین نے قندیل کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ، تمہارے میسنے بھائی کی یاد میں ، قندیل نے مزید اور منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ایسا کیا کر دیا میرے بھائی نے جو لوگوں کے نقشے بگڑ گئے ، در ثمین نے قندیل کو چھیڑا ۔۔۔۔۔۔ ذرا سی بھی میری امپورٹینس نہیں ہے انہیں ، میں یہاں پورے دن سے جب سے وہ گئے ہیں ، اتنی پریشان ہوں پتہ نہیں ٹھیک ہے یا نہیں سے اور آپکے میسنے بھائی سے یہ بھی نہیں ہوا کہ مجھے بھی کال پر بلا کر بتا دیں کہ قندیل میں خیریت سے پہنچ گیا ہوں ۔۔۔۔ فکر نہیں کرنا ، قندیل نے رونی صورت بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ او ہو واقعی یہ تو بہت غلط بات ہے ، بہت غلط کیا یہ تو دریاب نے ، در ثمین نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے کہا ، کیوں کہ وہ جانتی تھی دریاب اب جان بوجھ کر قندیل سے بات نہیں کر رہا کیونکہ وہ اسکو سرپرائز دینا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ دریاب کے جانے کے بعد قندیل واپس اپنے اور صبا کے روم میں شفٹ ہوگئی تھی ، قندیل اکیلے رہنے سے ڈرتی اسلئے شبانہ بیگم نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔ صبا ایسا نہیں ہو سکتا ہم کسی سے محبت کریں تو بدلے میں وہ بھی ہم سے محبت کرے قندیل اور صبا اس وقت سونے کے لیے لیٹی ہوئی تھی ، نجانے کہاں سے قندیل کو بات یاد آگئی تو وہ صبا سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ ہاں یہ بات تو ہے ۔۔۔۔۔ ویسے اپ کس کی بات کر رہی ہے صبا نے الجھتے ہوئے کہا ، کسی کی بھی نہیں بس ویسے ہی پوچھ رہی ہوں قندیل نے بات چھپائی ۔۔۔۔۔ میرے خیال سے آپی آپ دریاب بھائی کو مس کر رہی ہیں۔۔۔۔ ہے نا۔۔۔۔ سچ بتائیں صبا نے قندیل کو چھیڑتے ہوئے کہا ، اچھا ان میں ایسا کیا ہے جو میں انہیں مس کروں گی۔۔۔۔۔ ہمیشہ میرا خون جلاتے رہتے ہیں اول فول باتیں کر کے قندیل منہ بناتے ہوئے بات کو ٹالنے لگی ۔۔۔۔۔۔ لگتا تو نہیں ہے ابھی دو دن بھی نہیں ہوئے دریاب بھائی کو گئے ہوئے ، اور اپنا ان کو مس کرنا دیکھو ہائے اللّٰہ جی ۔۔۔۔۔صبا نے ہنستے ہوۓ کہا ، صبا تم بہت بگڑ رہی ہو ، ہمارے اوپر غور کرنے کے بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دے لو۔۔۔۔۔۔ اور اب چپ کر کے سو جاؤ ، قندلث نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ تو صبا منہ بسورتی ہوئی آنکھیں بند کر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔