ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Episode 13 part (2)
تمھاری آپی شرما جائے گی ۔۔۔۔ شاہ ویر نے ہنستے ہوئے کہا ویڈیو کال کافی دیر تک چلتی رہی مگر در ثمین نے ڈرائنگ روم میں آنے کی گستاخی نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کتنے اچھے ہیں نا شاہ ویر بھائی اتنی دور بیٹھ کر بھی بہانے بہانے سے درے آپی کو تنگ کر رہے تھے۔۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا وہ انہیں مس کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ شاید دریاب آپ کو کیا لگتا ہے ، قندیل نے آنکھیں بند کر کے لیٹے ہوئے دریاب سے پوچھا ۔۔۔۔ بولو ۔۔۔۔۔۔ بولو نا۔۔۔۔۔ دریاب بول کیوں نہیں رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔ سو گئے ہیں کیا آپ ۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کے ہاتھ پر ہاتھ لگا کر چیک کرنا چاہا کہ وہ سو تو نہیں گیا ۔۔۔۔۔ ہاں سوگیا تھا ، پر اب نہیں ، اگر ویر بھائی درے کو مس بھی کر رہے ہیں تو میں کیا کروں قندیل کے ہاتھ لگانے پر دریاب نے آنکھیں کھول کر قندیل کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ غصہ کیوں کر رہے ہیں بات آرام سے بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ قندیل نے منہ بنا کر کہا اچھا تم صحیح ہو کسی کو بھی نیند سے اٹھا دو اور پھر بولو غصہ کیوں کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔ دریاب نے آخری جملے پر قندیل کی نقل اتارتے ہوئے کہا ، اب اتنا بھی برا منہ بنا کر میں نے نہیں کہا تھا
نیند نہیں آ رہی تھی تو میں نے سوچا دو بات کرلوں آپ سے لیکن بھئی صبح ہونے دو۔۔۔۔۔ میں امی کو بتاتی ہوں تم کیسے مجھے جھڑکتے ہو قندیل نے رونی صورت بنا کے کہا۔۔۔۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔ اچھا بولو ، میں سن رہا ہوں ویسے بھی نیند تو تم نے میری اڑا دی ہے دریاب نے بیڈ پر بیٹھ کر ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔مجھے نہیں کرنی کوئی بات آپ سے قندیل نے اتراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اب کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ ابھی مزہ چکھاتا ہوں اسے دریاب نے دل میں سوچا ، اچھا چلو ایسا کرتے ہیں کوئی اچھی
سی فلم دیکھتے ہیں میں سی ڈی پلیئر ان کر کے آتا ہوں ۔۔۔۔۔ دریاب نے ایک ڈراونی فلم کی سی ڈی لگا دی اور آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
دریاب ڈراؤنی فلم تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے ناں مجھے ۔۔۔۔ کوئی میں پاگل ہوں جو ڈراؤنی فلم لگاؤں گا مجھے پتہ ہے تم ڈرپوک ہو دریاب نے قندیل کی بات کاٹ کر کہا۔۔۔۔ اور یہ تم فلم کاٹ کیوں رہے ہو ، قندیل نے دریاب کو فلم فارورڈ کرتے دیکھا فلم کی کاسٹ کے نام چل رہا ہے اب کیا وہ بھی دیکھو گی ۔۔۔۔۔ دریاب نے کہا تو قندیل چپ ہو کر فلم دیکھنے لگے لائٹ بند کر دوں دریاب نے کہا ، ہاں کر دو فلم دیکھنے میں زیادہ مزہ اندھیرے میں تو آتا ہے قندیل نے فلم میں گم ہو کر کہا۔۔۔۔۔۔ دریاب لائٹ آف کر کے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں فلم دیکھنے میں محو ہوگئے ۔۔۔۔۔ یہ فلم کا ساؤنڈ ڈراؤنی فلموں جیسا کیوں ہے قندیل نے کہا یہ ڈراونی فلم تھوڑی ہے کسی پرانی حویلی کی کہانی چل رہی ہے دریاب نے کہا۔۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔۔یہ ڈراؤنا منہ کہاں سے آیا اس میں ، قندیل نے فلم میں ایک نہایت ہی خوفناک چہرے کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ ارے یہ تو جوکر ہے اس کے منہ پر میک اپ لگا ہوا ہے ، جیسے تم لڑکیاں لگاتی ہو ، بس اسکا تھوڑا سا میک اپ بگڑ گیا ہے دیکھو تو ۔۔۔۔ دریاب نے اپنی ہنسی کو روکتے ہوئے قندیل کا دھیان بٹاتے ہوئےکہا۔۔۔۔۔ ا۔۔۔۔۔ اچھا سچ بول رہے ہیں آپ نا۔۔۔۔ قندیل نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے کہا ، اور پھر وہ واپس فلم دیکھنے میں محو ہوگئی۔۔۔۔۔ در۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔۔ چڑیل ۔۔۔۔ بدتمیز آپ مجھے جان بوجھ کر ڈراؤنی فلم دکھا رہے ہیں ۔۔۔۔
قندیل نے ڈر کر کمبل میں منہ ڈال کر کہا ۔۔۔ ارے قندیل کہاں ہے چڑیل ہٹاؤ کمبل دیکھو تو دریاب نے قندیل کے اوپر سے کمبل کھینچتے ہو کہا ۔۔۔ ن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں۔۔۔۔۔۔ نہیں دیکھنی فلم ۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔ چھوڑو ۔۔۔۔۔ قندیل نے کمبل کو دریاب سے چھڑا کر اوڑھتے ہوئے کہا قندیل دیکھو تو بہت مزاحیہ سین چل رہا ہے ۔۔۔۔۔ دریاب نے بہانہ بناتے ہوئے کہا ، دریاب ۔۔۔۔ مجھے سچ میں ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ پلیز ، بند کرو فلم ، قندیل نے کمبل سے منہ نکال کر ایک اور ڈراؤنا چہرہ دیکھ کر ڈرتے ہوئے کہا وہ اب سچ میں رونے کو تھی ۔۔۔۔۔ اچھا تم مت دیکھو مجھے تو دیکھنے دو ، ایسا کرو تم سو جاؤ۔۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی دباتے ہوئے کہا ، مجھے آواز سے بھی ڈر لگ رہا ہے پلیز فلم بند کر دو۔۔۔۔ قندیل نے ڈر کی وجہ سے دریاب کے نزدیک ہو کر کہا ۔۔۔۔۔ سامنے اسکرین پر مسلسل فلم کے خوفناک سین نشر ہورہے تھے ، اچھا میں آواز میوٹ کر رہا ہوں فلم تو مجھے پوری دیکھنے دو۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کو نظر انداز کرتے ہوئے اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ آپ سن نہیں رہے ناں ۔۔۔۔ میں جا رہی ہوں صبا کے کمرے میں آپ دیکھتے رہیں اپنی فلم ۔۔۔۔۔ قندیل کو رونا آ رہا تھا وہ فوراً اپنے گرد کمبل کو سمیٹ کر اوڑھتی ہوئی بیڈ سے اتر گئی ۔۔۔۔۔۔ کمبل کو اپنے گرد لپیٹ کر وہ خود کو محفوظ تصور کر رہی تھی ، قندیل یار کمبل تو چھوڑتی جاؤ۔۔۔۔۔ دریاب نے قندیل کی حالت دیکھ ہنسی روکتے ہوئے کہا ، قندیل بنا دریاب اور فلم کو دیکھے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے روم سے باہر آنے کے بعد بنا پیچھے کی طرف دیکھے آہستہ آہستہ آگے کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔۔۔۔ اسے بار بار ڈراونی چڑیل کا عکس نظر آ رہا تھا وہ سورہ الناس کا دم کرنے کے باوجود بھی ڈر ڈر کے قدم بڑھا رہی تھی ۔۔۔۔۔ تبھی اس کو محسوس ہوا اس کے پیچھے کوئی ہے ۔۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے سوچا کہ دریاب ہوگا مگر جب پلٹ کے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔ اب تو اسکی جان سچ میں نکلی تھی ۔۔۔۔۔ تھوڑی ہی دور دریاب کے کمرے کا دروازہ ویسے ہی کھلا ہوا تھا جیسے وہ چھوڑ کے ائی تھی ۔۔۔۔۔۔ اسکا رخ دریاب کے کمرے کی طرف تھا وہ ڈر سے لرز رہی تھی ۔۔۔۔۔ اب پھر سے اسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اس کے پیچھے وہی بڑے دانتوں والی خوفناک چڑیل کھڑی ہے جو اس کے مڑنے کے انتظار میں ہے کہ یہ مڑے اور میں اسے دوچ کر اس کی گردن سے اس کا سارا خون پی جاؤں۔۔۔۔۔ قندیل کے لیے یہ سوچ بھی
یہ مڑے اور میں اسے دبوچ کر اس کی گردن سے اس کا سارا خون پی جاؤں۔۔۔۔۔ قندیل کے لیے یہ سوچ بھی جان لیوا تھی اس کی ساری ہمت جواب دے گئی قندیل پیچھے مڑنے کے بجائے کمبل چھوڑ کے سر پٹ دوڑی دریاب کے کمرے کی طرف ، دریاب جو جو ڈی وی ڈی اور اسکرین کو بند کر کے اسی ہی دیکھنے آ رہا تھا۔۔۔۔۔ قندیل دوڑتے ہوئے آئی دریاب سے لپٹ گئی ، بچا لو ۔۔۔۔۔۔بچا لو مجھے۔۔۔۔۔ و۔۔۔۔۔وہ چڑیل آ رہی ہے میرا خون پینے دریاب ، قندیل نے ڈر سے دریاب کے چوڑے وجود میں خود کو چھپاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ قندیل دیکھو تو۔۔۔۔۔۔ قندیل کوئی بھی نہیں ہے وہاں۔۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی کو روکتے ہوئے قندیل کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ نئی۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ قندیل نے دریاب پر اپنی گرفت کو مضبوط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اچھا مجھے چھوڑو میں دیکھوں کہاں چڑیل دریاب نے قندیل کی کمر سہلاتے ہوئے دلاسہ دیا۔۔۔۔۔ دریاب ۔۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔اور۔۔۔۔۔ اور یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا کیوں۔۔۔۔۔ دکھائی آپ نے مجھے اتنی ڈراؤنی چڑیل والی فلم۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کے سینے سے سر اٹھا کر دریاب کو چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ قندیل اپنی بات مکمل کرکے اس سے دور ہونے کے بجائے واپس دریاب کے سینے پر سر رکھ گئی ۔۔۔۔۔ تو اس کا مطلب تم ساری رات مجھ سے چپکی رہو گی دریاب نے قندیل کی حرکت دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ مجھے کوئی شوق نہیں آپ سے چپکنے کا مجھے بس ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔ اگر آپ کو اچھا نہیں لگ رہا تو ایسا کرے صبا تو مجھ پاس آنے نہیں دے گی آپ مجھے امی ابو کے کمرے کے پاس چھوڑ آئے میں امی کے پاس چپک کر سو جاؤ گی ، ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اور واپس وہی حرکت کی ۔۔۔۔۔ قندیل کی بات سن کر دریاب کو سمجھ نہیں آیا ، حیران ہونا کہ ہنسنا ، کہ قندیل کو اتنی بڑی ہونے کے بعد بھی چاچی کے پاس سونا ہے ۔۔۔۔۔۔ قندیل پہلی بار اتنی رات کو میں تمھیں چچا چچی کے روم میں چھوڑ کر آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیا سوچے گے کہ تم میرے ہوتے بھی ڈر رہی ہو اور ازخود میں تمھیں انکے کمرے تک پہنچا کے آوْ ۔۔۔۔۔۔ واااہ ۔۔۔۔۔ دریاب نے طنز کیا ۔۔۔۔۔