ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Don’t copy without my permission
Episode 12 part (2)
ہیلو ۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم بی جان شاہ ویر نے کال ریسیو ہوتے ہی کہا ہاں وعلیکم السلام خیریت سے پہنچ گئے بیٹا تم۔۔۔۔ بی جان نے مسکرا کر کہا ، جی بی جان پہنچ گیا ہوں گھر پر سب ٹھیک ہے نا آپکی طبیعت کیسی ہے ۔۔۔ مجھے مس تو نہیں کررہی آپ شاہ ویر نے پوچھا ہاں سب سب ٹھیک ہیں میں بھی الحمدللہ ٹھیک ہوں ہاں بھئی بہت یاد آ رہی ، آج دریاب والے بھی کشمیر کے لیے روانہ ہو گئے ہیں بی جان نے پانی کا جگ لاتی ہوئی در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ بی جان میڈیسن کھا لیں در ثمین نے جگ کو سائیڈر پر رکھ کر کہا اور میڈیسن ہاتھ میں لے کر کھڑی ہو گئی در ثمین کی اواز شاہ ویر کو بھی سنائی دی اچھا بی جان آپ دوائی کھا لے میں بھی تھک گیا ہوں پھر میں تھوڑا فری ہو کر بات کروں گا کسی دن۔۔۔۔ ابھی تھوڑا ریسٹ کر لیتا ہوں اللّٰہ حافظ سب کو میری طرف سے سلام دینا آپ بی جان ۔۔۔۔ شاہ ویر نے کہا وعلیکم السلام اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ بھی جان نے کال ڈسکنکٹ ہونے کے بعد موبائل سائیڈر پر رکھ کر دیا اور در ثمین سے میڈیسن لے کر کھانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جگہ ایل او سی (LOC) کے نام سے مشہور ہے اعجاز صاحب نے کہا اس ایل او سی کا کیا مطلب ہے ماموں صبا نے اپنی سویٹر کی جیبوں میں دستانے والے ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔ صبا انپڑ سامنے نظر نہیں آرہا ہے ایل او سی یعنی کہ لائن اف کنٹرول مطلب پاکستان اور انڈیا کے درمیان کے بارڈر اس کو ایل اوسی کہتے ہیں بابر نے ہنستے ہوئے صبا کو بورڈ دکھاتے ہوئے کہا تو صبا بھی منہ بنا کر بورڈ کو دیکھنے لگی بابر۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے بابر کو گھورا اور یہ ٹریڈنگ چیک پوائنٹ ہیں یہ سب جیپ میں سوار تھے کافی دیر جیپ کو چلانے کے بعد دریاب نے اشارے سے بتاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ ہاں بیٹا جہاں سے انڈیا سے پاکستان اور پاکستان سے انڈیا دونوں کی طرف جانے والے ٹرک لوڈ ہوتے ہیں اپ کی بار اعجاز صاحب نے معلومات دی۔۔۔۔ اب دل تھام لو وادی کشمیر شروع ہونے والی ہے بابر نے اندازہ لگایا جو کہ درست نکلا۔۔۔۔ وادی کشمیر کے بے حد خوبصورت اور حسین راستوں سے گزرتے ایل او سی کے قریب پہنچے تو پاک فوج کے جوان ملک کے حفاظت کے لیے پہرہ دے رہے تھے جنمیں دریاب کا عزیز دوست حمزہ بھی تھا ڈیوٹی پر , دریاب نے حمزہ کا بابر اعجاز صاحب سے بھی تعارف کروایا ، انٹری ہو گئی ہے تم چلو میں اپنی جیپ لے کر اتا ہوں حمزہ نے کہا ۔۔۔۔ ارے نہیں یار تم اپنی ڈیوٹی پر ہو فلحال ہم ہوٹل میں رکیں گے تم تکلف مت کرو دریاب نے فورا کہا اچھا اپنے دوست کا گھر ہوتے ہوئے بھی ہوٹل میں رکے گا چل آرام سے نہیں تو گن پوائنٹ پر لے کر جاؤں گا حمزہ نے دھمکی دی اچھا بابا ٹھیک ہے دریاب نے مسکراتے ہوئے کہا اور واپس جیپ میں جا کر بیٹھ گیا اور اپنی جیپ حمزہ کی جیپ کے پیچھے لگا لی ۔۔۔۔۔۔ دریاب کی گاڑی ایل او سی پر پہنچی تو ایک عجیب سا دل کش نظارہ تھا دریا کے اس پار بھی کشمیر اور اس بار بھی کشمیر فرق یہ تھا۔۔۔۔ وہاں انڈیا کا جھنڈا تھا اور یہاں پاکستان کا وہاں ایک پل ہے جسے امن برج کہتے ہیں ۔۔۔۔
2005 میں جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوستی کے راستے کھلے تھے تو چکوٹی کے مقام پر یہ برج بنا تھا اور اب اس برج کے ذریعے دونوں ملک کے درمیان تجارت ہوتی ہے کشمیر کے دلفریب راستوں سے گزر کر وہ سب حمزہ کے گھر پہنچے۔۔۔۔ جو بہت خوبصورت تھا جہاں حمزہ کی بیوی ثانیہ کے ساتھ ساتھ اس کی چھوٹی بہن آئمہ اور اس کے والدین سے ملاقات ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ انہوں نے بہت اچھے طریقے سے سب کی خاطر تواضع کی ، اعجاز صاحب تو سب سے معزرت لے کر کچھ گھنٹوں میں واپس جا چکے تھے دارالامان کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔ حمزہ نے بھی دو دن کی چھٹی لے لی تھی دریاب کی خاطر قندیل اور ثانیہ کی بہت اچھی دوستی ہو گئی جبکہ صبا اور آئمہ میں اتنی خاص دوستی نہیں ہو سکی اور وجہ بابر تھا۔۔۔۔۔ صبا کو آئمہ کی بابر میں دلچسپی اچھی نہیں لگ رہی تھی ، آئمہ بابر کے ساتھ ساتھ انجمن بیگم کے بھی آگے پیچھے ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ پھر یونہی باتوں باتوں میں ہلے گلے ، اور گھومنے گھمانے میں تین دن گزر گئے ۔۔۔۔ دریاب اور انجمن بیگم نے حمزہ کے گھر والوں سے اجازت لی اور انکو کراچی آنے کی دعوت دی ۔۔۔۔۔ اسکے بعد وہ سب مظفرآباد پہنچے اعجاز صاحب کے گھر۔۔۔۔۔ قندیل اپنا اور دریاب کا سامان وغیرہ پیک کر لینا کل ہم اسلام اباد کے لیے روانہ ہوں گے اور وہاں سے ڈائریکٹ ہی کراچی جائے گے کہیں رکے گے نہیں ۔۔۔۔۔ شاہ ویر بھی چلا گیا ہے بی جان بہت یاد کررہی ہے ہم سب کو اور ویر کے ابو جان خاص صبا کو انجمن بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا جی تائی امی۔۔۔۔۔ قندیل انجمن بیگم کی بات سنتے ہی اپنے روم میں آ کر پیکنگ کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ شاہ ویر جس دن سے یہاں آیا تھا اسے اس دن سے عجیب سی بی چینی ہو رہی تھی ، اسکا کسی بھی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، کبھی کہیں تو کبھی کہیں در ثمین کا عکس نظر آنے لگتا۔۔۔۔ اس کی باتیں یاد آنے لگتی ، اسکا نظریں جھکانا ، جو بھی پل ابھی ان دونوں کے درمیان گزرے تھے وہ سب سائے کی طرح اس کے پیچھے چل رہے تھے ۔۔۔۔۔ ان سب کیفیت سے پریشان ہو کر اخر کار اس نے گھر کی لینڈ لائن پر فون کیا اسے معلوم تھا کہ در ثمین ایسے جان کر تو اس سے بات کرے گی نہیں۔۔۔۔ گھر کی روٹین کے حساب سے وہ اس وقت ہال میں یا کچن کی صفائی وغیرہ کر رہی ہوگی۔۔۔۔ ہال میں ٹیلی فون کی بیل دو بار بج چکی تھی ، تنگ آ کر در ثمین نے فون اٹھا کر کان پر لگایا۔۔۔۔۔ السلام علیکم کون در ثمین نے فوراً کہا ، وعلیکم السلام میں شاہ ویر بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ و۔۔۔۔۔ وہ آپ ۔۔۔۔ میں بی جان کو بلا کر لاتی ہوں ، در ثمین سمجھی شاید کسی کا موبائل نمبر لگا نہیں ہوگا اس لئے شاہ ویر نے لینڈ لائن پر کی کال ، سنو در ثمین مجھے بی جان سے نہیں تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔ شاہ ویر نے ہمت جمع کر کے کہا ۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔۔ م
شاہ ویر نے ہمت جمع کر کے کہا ۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔۔ مجھ سے۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔ کیا کہنا ہے۔۔۔۔۔ آپ کو ، یہ ان چھ سالوں میں پہلی بار ہوا تھا کہ شاہ ویر نے در ثمین کے لیے فون کیا ۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔ کیسی ہو تم ، شاہ ویر نے اٹکتے ہوئے کہا جی ٹھیک ہوں الحمدللہ ، بس یہی کہنا تھا آپ نے ۔۔۔۔ در ثمین نے روکھے لہجے میں کہا، ہاں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ مطلب وہ۔۔۔۔۔ وہ میں کہنا چاہتا تھا درے ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے ایک لمبی سانس لی ، اپنی بات مکمل کرنے کے لئے۔ جو در ثمین نے بھی سنی ۔۔۔۔۔ میرے ساتھ کچھ عجیب ہو رہا ہے درے ہر جگہ تم دیکھائی دیتی ہو ۔۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی ہر وقت تمہیں سوچتا رہتا ہوں پتہ نہیں کیوں ۔۔۔۔ جب سے یہاں آیا ہوں قسم سے مجھ سے کوئی کام نہیں ہو پا رہا۔۔۔۔۔ سن رہی ہو نا ۔۔۔۔۔ تم شاہ ویر اپنے دل کی کیفیت بتا رہا تھا در ثمین حیرت کا بت بنے بس سنے جا رہی تھی۔۔۔۔۔ اس کی چہرے کی بیزاری کہی اڑن چھو ہو چکی تھی۔۔۔۔ کس کا فون ہے شبانہ بیگم نے پوچھا اس سے پہلے وہ شاہ ویر کی بات کا جواب دیتی۔۔۔۔ شبانہ بیگم کی آواز نے اسے چونکا دیا ، ک۔۔۔۔ کسی کا بھی نہیں چاچی شاہ ویر جو در ثمین کے جواب کے انتظار میں تھا وہ اچانک چاچی کی آمد اور در ثمین کے فون بند کرنے پر سخت بدمزہ ہوا۔۔۔۔ اوہ شٹ کتنی مشکل سے کہا تھا سب ، درے پتہ نہیں کیا سوچ رہی ہوگی میرے بارے میں شاہ ویر نے موبائل صوفے پر غصے سے پھینکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔