ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Don’t copy without my permission
Episode 11 part (2)
چائے لے لو در ثمین نے سائیڈر پر چائے کا کپ رکھ کر کمرے سے جانے لگی درے شاہ ویر نے آواز دی تو در ثمین رک کر پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔۔ جی ، بہت درد ہو رہا ہے سر میں تھوڑا سر دبا دو گی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے سرخ آنکھوں سے در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ م ۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ در ثمین شش و پنج میں مبتلا ہو گئی ، شاہ ویر جب بھی آتا تھا تو اس کے سارے کام تائی امی بہت خوش ہو کرتی اسکی تمام ضروریات کا خیال رکھتی خود ہی کھانا دیتی دیر تک جاگتی شاہ ویر کے لیے ، ایک دو بار شاہ ویر کی طبیعت خراب بھی ہوئی تو انجمن بیگم پورا پورا دن شاہ ویر کے کمرے میں گزارتی تھی ۔۔۔۔ مجھے پتہ میں نے تمھارے ساتھ بہت غلط کیا اگر نہیں دبانا تو جا سکتی ہو کمرے سے کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔ اسے یوں سوچ میں مبتلا دیکھ شاہ ویر کو اپنے ظلم یاد آگئے جو اس نے در ثمین پر کیے ، شاہ ویر کی آواز سے در ثمین اپنے پرانے خیالات سے باہر آئی اور اسکی بات سننے لگی ۔۔۔۔۔۔ سر میں درد کی شدت سے شاہ ویر نے آنکھیں بند کرلی ۔۔۔۔۔ تبھی اسے اپنے تپتے سر پر نرم اور ٹھنڈا سا لمس محسوس ہوا ، شاہ ویر نے فوراً آنکھیں کھولی ۔۔۔۔ در ثمین اس کے سرہانے پر تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھی اپنے نرم ہاتھوں سے اسکا سر دبا رہی تھی ، اس کی انکھیں بند تھی ۔۔۔۔۔ وہ سر دبانے کے ساتھ دم بھی کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
شاہ ویر آ سے ایک نظر دیکھے جا رہا تھا ، در ثمین کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی ، پھر یہ تو اس کا عشق تھا محبت تھی پوری کائنات تھی اور ان سب سے بڑھ کر وہ اس کا مزاجی خدا تھا ۔۔۔۔ وہ اپنی ساری باتیں بھلا کر اس کا سر دبا رہی تھی دم کر کے پھونک مارنے کے لیے در ثمین نے آنکھیں کھولی تو شاہ ویر نے اپنی آنکھیں فوراً بند کر لی ، شاویر کی آنکھیں بند تھی تو در ثمین نے تھوڑا جھک کر شاہ ویر کے پورے چہرے پر پھونک ماری ۔۔۔۔۔ در ثمین کی پھونک سے شاہ ویر کے اندر سکون اترا ، وہ آنکھیں بند کیے در ثمین کو محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ کئی بار یہ عمل کرنے کے بعد در ثمین کو تھوڑی تسلی ملی شاہ ویر کا سر کچھ حد تک ٹھنڈا ہوا تھا اور وہ نیند میں جا چکا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اس کے آرام کا سوچ کر کر کمرے سے چلی گی ، تھوڑی دیر بعد شاہ ویر کی انکھ کھلی تو اس سے ایسا لگا کہ جیسے اسں نے کوئی خواب دیکھا ہو اپنا اور در ثمین کا ۔۔۔۔۔۔اس کے سر میں کافی حد تک آرام تھا موبائل لینے کے لئے اس کی نظر سائیڈر پر گئی تو وہاں رکھی چائے دیکھ کر اسے یقین آگیا کہ وہ سب خواب نہیں حقیقت تھی یہ سوچتے ہی ایک خوشگوار سے احساس نے اسکو اپنے حصار میں لے لیا ۔۔۔۔۔۔۔ کیا واقعی وہ در ثمین کی طرف مائل ہو رہا ہے کیا واقعی وہ اس کے لئے ضروری ہوتی جارہی اس نے خود سے سوال کیا ۔۔۔۔۔۔ کیسا چل رہا ہے اپ کا دارالامان ماموں دریاب نے اعجاز صاحب سے پوچھا۔۔۔۔۔ بہت اچھا چل رہا ہے بس ایک کیس آ گیا تھا تو اس میں بزی تھا اس لیے دریاب تمہاری شادی میں شرکت نہیں کر سکا۔۔۔۔۔۔
ناراض تو نہیں ہو ناں اپنے ماموں سے برخودار ، اعجاز صاحب نے نرم لہجے میں کہا نہیں نہیں ماموں میں نے کیوں ناراض ہونا آپ سے آپ تو ہماری جان ہے ۔۔۔۔۔ بلکہ میں تو بہت خوش ہوتا ہوں آپ ایسے بے سہارا اور غریب طبقے کے لوگوں کی مدد کرتے بنا کسی اُجرت کے ، اللّٰہ آپ کو اور ہمت دے بھلائی کے کام کرنے کے لئے امیین ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے خوش ہوتے ہوئے کہا آمین اور بابر ، صبا تم سناؤ کیا کررہے ہو ، اعجاز صاحب بابر اور صبا کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔۔ بس ماموں سوچ رہا ہوں آپ کا بزنس جوائن کروں گا ۔۔۔۔۔ زندگی میں تھوڑے بھلائی کے کام بھی ہو جائے ۔۔۔۔۔۔ بابا نے مسکرا کر اپنا ارادہ بتایا ، بہت نیک ارادے ہیں صاحبزادے کے اعجاز صاحب نے انجمن بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بھائی اپ کب کریں گے شادی انجمن بیگم نے مسکرا پوچھا ، انجمن آپا اب تو میری شادی قبر سے ہی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل بیٹا کچھ تم بھی بول لو اتنی چپ چپ کیوں ہو خیریت تو ہے دریاب تنگ تو نہیں کرتا ۔۔۔۔۔ اعجاز صاحب نے قندیل کو مخاطب کیا ۔۔۔۔۔۔ تو دریاب نے بھی قندیل کو دیکھا ، ماموں میں آپ سب کی باتیں سن رہی ہوں ۔۔۔ ن۔۔۔۔ نہیں دریاب تو کچھ نہیں کہتے ۔۔۔۔۔ قندیل نے ہنستے ہوئے اعجاز صاحب کی بات کا جواب دیا ، دریاب کا نام لیتے ہوئے قندیل اور دریاب کی نظریں ملی ، اب آپ سب آئے ہیں اتنی دور مجھ سے ملنے تو میں نے بھی آپ لوگوں کے لیے خاص چھٹیاں لی دارالامان سے۔۔۔۔ آج آپ یہی ریلیکس کریں ، کل میں آپ سب کو مظفرآباد کی سیر کرواؤں گا فلحال آپ سب آرام کریں تھک گئے ہوں گے اعجاز صاحب نے مسکرا کر کہا وہ سب ڈنر کے بعد کافی دیر سے باتوں میں لگے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ تھینکس درے ۔۔۔۔۔۔شاہ ویر نے لان میں ٹہلتی ہوئی در ثمین کے پاس آ کر کہا کس لیے ۔۔۔۔
در ثمین نے بلیک پینٹ کے اوپر بلیک شرٹ میں ملبوس شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا اور آگے کی طرف چلنے لگی وہ جانتی تھی شاہ ویر آج دوپہر کی بات کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ کس لیے بتاؤں ۔۔۔۔ شاہ ویر نے در ثمین کے راستے میں حائل ہو کر اس کے انکھوں میں جھانکتے ہوئے اسکا راستہ روک کر کہا۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جنون تھا جس کے تاب نا لاتے ہوئے در ثمین نے نظریں جھکا لی ۔۔۔۔ مہربانی ہوگی شاہ ویر اپ ایک بات واضح کر دیں ، آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں اور کس کے کہنے پر کر رہے ہیں ہاتھ جوڑ رہی ہوں آپ کے سامنے میں بہت خوش ہوں اکیلے آپ کے دیے ہوئے نام کے ساتھ در ثمین نے ہاتھ جوڑتے ہوئے روہانسی ہو کر کہا ۔۔۔۔۔۔ درے۔۔۔۔۔۔۔ یہ میں۔۔۔۔ اپنی ۔۔۔۔۔۔۔ مہربانی ہوگی شاہ ویر پلیز آپ مجھ سے دور رہیں شاہ ویر نے اگے آ کر کچھ کہنا چاہا تھا مگر در ثمین نے دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے شاہ ویر کی بات کاٹ کر کہا ، اور اگر نہ ہوؤں تو دور تو۔۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر کو در ثمین کا لہجہ اور بات بری لگی ، اس لیے اب وہ اپنی ضد پر اتر آیا ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے گھومیے آپ لان میں ، میں اپنے کمرے میں جا رہ
ٹھیک ہے گھومیے آپ لان میں ، میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں ۔۔۔۔ در ثمین نے غصے میں کہا تو تم کیا سمجھتی ہو میں تمہارے کمرے میں نہیں آ سکتا شاہ ویر نے در ثمین کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے چھیڑا ۔۔۔۔ شاہ ویر ہر بار وہ نہیں ہوگا جو آپ چاہتے ہیں ، در ثمین نے جل کر کہا ، ہاں یہ تو ٹھیک کہا ہے تم نے اس بار وہ نہیں ہوگا جو میں چاہتا ہوں بلکہ اس بار وہ ہوگا جو میرا دل چاہتا ہے اور دل میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ائی ایم ناٹ انٹرسٹڈ I m not interested کہ آپ اور آپ کا دل کیا چاہتا ہے اس لیے میں جا رہی ہوں ، مجھے اور بھی کام ہے ۔۔۔۔۔۔در ثمین نے شاہ ویر کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ صبح کا منظر یہاں بہت ہی حسین اور خوبصورت تھا ۔۔۔۔ آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا چاروں طرف پہاڑ اور پہاڑوں پر یہ سبزہ اس سے بہترین کوئی نظارہ نہیں دیکھنے والی آنکھوں کے لیے ۔۔۔۔۔۔ یہاں رہنے والے لوگوں کو اگر خوش نصیب کہے تو غلط نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔ اعجاز صاحب اور باقی سب اس وقت ناشتے کی میز پر تھے ۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی یہاں کے موسم سے لطف اندوز ہورہے تھے ، اعجاز بھائی ناشتے کے بعد ہمیں آپ کہاں لے کر جائیں گے کیا پروگرام ہے ۔۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے چائے کا سپ لیتے ہوئے پوچھا ، آج ہم سب پیر چناسی جائیں گے اور راستے میں بھی کہیں خوبصورت نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔۔۔۔۔۔
اعجاز صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ، پہلے کیوں نہیں آئی میں یہاں پر ۔۔۔۔ صبا نے مسکراتے ہوئے کہا ، ہم تو آپ کو ابھی بھی نہیں لانے والے تھے اگر ماموں جان اسرار نا کرتے کہ ٹرپ پر ایک پاگل کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔ بابر نے صبا کا مذاق اڑایا ، ہہہہے ماموں سچ میں آپ نے یہ کہا تھا ایک پاگل ضروری ہے آپ بھی مجھے پاگل سمجھتے
صبا نے منہ بنایا ، ارے نہیں صبا بیٹا ماموں کی جان ، مذاق کررہا ہے بابر تو ۔۔۔۔۔۔ بابر کیا تم بچاری بچی کے پیچھے لگے رہتے ہو ، ماشاءاللہ بہت سمجھدار بیٹی میری ، اعجاز صاحب نے صبا کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا آخری جملے پر بابر کو ڈانٹ لگنے پر تو صبا خوش ہوگئی ۔۔۔۔۔ یہ ہر کوئی صبا کا گرویدہ کیوں ہو جاتا سوائے میرے مجھے کیوں اسکی خوبیاں نظر نہیں آتی ، مجھے کیوں ہمیشہ یہ پاگل لاابالی سی لگتی بابر نے سب کے ساتھ ہنستے ہوئے دل میں سوچا ۔۔۔۔ اس بار انجمن بیگم کو بابر کو ڈانٹنے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ وہ کمی اعجاز صاحب نے پوری کردی ۔۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر بیٹا کل کی تمہارے فلائٹ ہے بی جان بتا رہی ہے ، کوئی دھونے کے کپڑے وغیرہ ہیں تو دے دینا میں دھو دوں گی جو لے جانے ہو تمہیں۔۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے شاہ ویر کے سامنے ناشتہ رکھتے ہوئے کہا ، وہ سب ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کے لیے جمع تھے ۔۔۔۔۔ نہیں چچی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر ہوئی بھی تو در ثمین دھو دے گی آپ پریشان نہیں ہو ، شاہ ویر نے مسکراتے ہوئے در ثمین کو دیکھ کر کہا، جبکہ در ثمین نظریں جھکا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جان بوجھ کر اپنے کام در ثمین سے کروا رہا تھا تاکہ در ثمین اور اسکے رشتے میں جو پیچیدگیاں ہے وہ ختم ہو جائے ۔۔۔۔ صحیح کہہ رہا ہے ویر بیٹا کب تک تم دونوں دیورانی جیٹھانی شاہ ویر کے کام کرتی رہو گی در ثمین ہے نا ۔۔۔۔۔ در ثمین بیٹا جا کر دیکھ آنا ویر کے کمرے کپڑے وغیرہ ، بچے کو تیاری بھی کرنی ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے خوش ہوتے ہوئے کہا وہ شاہ ویر کی پیش قدمی سے خوش تھی کہ چلو شاہ ویر کو اپنے رشتے کا احساس تو ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔ جی بی جان میں دھو دوں گی ، در ثمین نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔