ناول

محبت میں جلتے دل

رائیٹر
مشی علی شاہ
Don’t copy without my permission
Episode 11 part (1)
قندیل بیگم ذرا اپنے میاں کو دیکھو کیسے لٹو ہورہا ہے غیر عورتوں پر بابر نے دریاب کی طرف انکھوں سے اشارہ کر کے بتایا۔۔۔۔۔۔ جہاں دریاب کسی گوری سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔ قندیل لب بھینچ کر رہ گئی کیونکہ اب تک ان کے درمیان ایسا کوئی خاص ریلیشن نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ دریاب پر اپنا حق جماتی ، جاؤ بیٹا سنبھالو اپنے شوہر کو انجمن بیگم نے قندیل کو دریاب کے پاس جانے کو کہا جی تائی امی ، قندیل مسکراتے ہوئے دریاب کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی ، مڑ کر دیکھا تو انجمن بیگم اور باقی سب کی نظریں اس پر ہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ہیلو hello قندیل نے مسکرا کے چھوٹے کپڑے والی انگریزی کو کہا ۔۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔ ہیلو ہاؤ آر یو ohh …. hello how r you انگریزنی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ آئی ایم فائن ۔۔۔۔ ہی از مائی ہسبینڈ he is my husband I m fine قندیل نے دریاب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ دریاب نے حیران ہوتے ہوئے قندیل کی پیش قدمی کو دیکھا ۔۔۔۔۔ او واؤ سو سویٹ کپل ohh wow so sweet couple انگریزنی نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔ بولو نا کچھ , باتیں کرو اب ہنسی کیوں بند ہوگئی ، قندیل نے دانت پیستے ہوئے دریاب سے کہا۔۔۔۔۔ واٹس یور نیم مسز دریب. What’s your name miss duryaab جینی نے خوش ہو کر پوچھا ۔۔۔۔ قندیل دریاب شاہ Qandeel duryaab shah قندیل نے فوراً اپنا نام بتایا ، سو گڈ قنڈیل دریب رائٹ so good Qandeel duryaab right جینی نےنام دہرایا۔۔۔۔۔ آئی تھنک یور نیو میرڈ کپل ہاؤ منتھ اولڈ یور ویڈنگ ٹیل می ۔۔۔۔۔ I think you r new married couple …. How month old your wedding tell me جینی نے اب کی بار دریاب سے پوچھا ، ایٹ ڈیز اونلی. Eight days only دریاب نے قندیل کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
انٹرسٹنگ لو میرج آئی ایم رائٹ ، interesting love marriage I m right جینی نے دریاب اور قندیل کا کنکشن نوٹ کرتے ہوئے کہا ، نو ۔۔۔۔۔ یس no ….. Yes قندیل اور دریاب دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔۔۔ نو قندیل نے کہا اور دریاب نے یس ۔۔۔۔ اوہ واٹ مین ۔۔۔۔ what’s mean اٹس مین ارینج اینڈ لو بوتھ ۔۔۔۔ it’s mean arrange and love both دریاب نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔ اوکے دوریب آئی گو آئی ایم گیٹنگ لیٹ بائے ۔۔۔۔۔ ok duryaab I go …. I m getting late انگریزنی نے مسکرا کر دریاب کے سامنے ہاتھ کیا ۔۔۔۔۔ تو دریاب کو بھی اس سے ہاتھ ملانا پڑے گا ابھی دریاب سوچ ہی رہا تھا کہ قندیل نے لڑکی کا ہاتھ تھام لیا بائے جینی bye jeeni قندیل نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا تو دریاب نے اپنا ہاتھ ہلا کر بائے جینی ٹیک کئیر bye jeeni take care کہہ دیا تو وہ جینی نامی انگریزی مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی انگریزنی کے جاتے ہی قندیل فوراً انجمن بیگم کے پاس آگئی دریاب بھی ساتھ ہی تھا ۔۔۔۔۔ چلو کیفے چلتے ہیں کافی پینے کا وقت ہو گیا ، دریاب بھائی کافی پیتے ہیں بابر نے کہا تو وہ سب مل کر کے وہیں کے جدید طرز کے کیفے ایریا میں آگئے ۔۔۔۔۔۔۔ آج تو کوئی بہت جل رہا تھا دریاب نے بیڈ پر بیٹھ کر قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا جو رسالہ پڑھنے میں مصروف تھی اچھا یہ خوش فہمی کیوں ہوئی آپ کو۔۔۔۔ اپنی بات بولنے کے بعد قندیل کو دوپہر والی بات یاد اگئی ، اچھا وہ۔۔۔۔۔ وہ میں نے تائی امی کی وجہ سے ڈرامہ کیا تھا۔۔۔۔ اب آپ کو تو شرم وہاں آ نہیں رہی تھی اس چھوٹے کپڑے والی سے بات کرتے ہوئے آپ پورا کا پورا ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔
قندیل نہ رسالہ ایک طرف رکھتے ہوئے کہا اوہ واقعی پہلی بات تو یہ میں اس کے پاس نہیں گیا تھا وہ میرے پاس آئی تھی اب اتنا ہینڈسم لڑکا دیکھ کر کوئی اپنے آپ کو کیسے روک سکتا ہے ۔۔۔۔۔ تم خود ہی کو دیکھ لو بہانے بہانے سے میرے پاس آتی ہو ، دریاب نے قندیل کو چھیڑا اور بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔ سمجھتے کیا ہے آپ خود کو دریاب زیادہ اترایا مت کریں میں کب آئی آپ کے پاس آپ ائے تھے میرے پاس قندیل نے برا مناتے ہوئے روانی میں کہا۔۔۔۔. میں اپنے آپ کو ایک بہت ہی خوبصورت نوجوان سمجھتا ہوں ، تم کیا کہتی ہو ۔۔۔۔ اور دوسری بات میں نیند میں تھا , کبھی جاگتے ہوئے آیا تمھارے قریب ۔۔۔۔۔ دریاب نے ایٹیٹیوڈ میں کہا اور خود کروٹ لے کر سو گیا۔۔۔۔۔ جبکہ قندیل کے اندر کچھ ٹوٹ کر رہ گیا ، واقعی وہ ان آٹھ دنوں میں کب خود اس کے قریب آیا اسے تو بس اپنا بدلہ یاد ، کب تک وہ دونوں ایسے رہے گے ، کیا کبھی وہ دونوں بھی نارمل ہسبینڈ وائف کی طرح رہ پائیں گے کبھی ایک دوسرے کے قریب آئینگے ۔۔۔۔۔ کل رات جب دریاب قریب آیا بھی تو وہ نیند میں تھا ۔۔۔۔۔ لیکن وہ نیند میں کس کو بول رہا تھا کیا چل رہا آخر دریاب کی زندگی میں قندیل پہلے ہی اپنے رشتے کو لیکر پریشان تھی اب کچھ اور دریاب کا سوچ کر پریشان ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
درے بیٹا ۔۔۔۔۔۔ یہ ویر ناشتے کے لیے ابھی تک نہیں آیا ، دوپہر ہونے کو ہوگئی ہے جاؤ ایک بار دیکھ کر تو آؤ کمرے میں ۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے بریانی دم پر لگاتے ہوئے کہا ، رائتہ بنا رہی ہوں چاچی در ثمین نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا ، تو بیٹا رائتہ بنا کے چلی جانا ۔۔۔۔۔۔ جی چاچی در ثمین شاہ ویر کی نظروں اور اسکے بدلے ہوئے مزاج کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اب چاچی کے زور دینے پر وہ رائتہ بنا کر شاہ ویر کے روم میں آگئی ۔۔۔۔ در ثمین نے باہر ہی کھڑے ہو کر دو تین بار دروازہ ناک کیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا ، در ثمین نے دروازے کو ہاتھ لگایا تو دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا ، در ثمین کمرے میں داخل ہوئی تو شاہ ویر اپنے بیڈ پر الٹا لیٹا ہوا تھا ، شاہ ویر۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر اٹھو ۔۔۔۔۔ شاہ ویر ۔۔۔۔۔ چاچی بلا رہی ہے نیچے کھانے پر در ثمین نے بیڈ کے قریب آتے ہوئے کہا شاہ ویر در ثمین نے شاہ ویر کے کندھے پر ہاتھ لگایا تھا اسکو اٹھانے کے لیے ۔۔۔۔۔ ہاتھ لگاتے ہی در ثمین کو شاہ ویر کی نیچے نا آنے کی وجہ سمجھ آگئی ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کا جسم بخار سے تپ رہا تھا ، ہممم ۔۔۔۔۔ درثمین کے ہاتھ لگانے پر شاویر نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا ، آ۔۔۔۔۔ آپ کھانا کھانے نیچے آجائیں چاچی بلا رہی ہیں ، در ثمین نے شاہ ویر کے بخار کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی ۔۔۔۔۔ درے میں کھانا نہیں کھاؤں گا چاچی کو بولنا ، بس ایک کپ چائے لا دو میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے بھاری سر اور سرخ آنکھوں سے در ثمین کو دیکھتے ہوئے ہوئے کہا ۔۔۔۔ ج ۔۔۔۔ جی اچھا لا رہی ہوں در ثمین کہہ کر روم سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔
۔ میں کار ڈرائیو کرتا ہوں آپ سب پیچھے بیٹھ جائیں دریاب نے گلاسز لگاتے ہوئے کہا ، قندیل بیٹا تم آگے بیٹھ جاؤ بابر ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھ جائے گا انجمن بیگم نے تو جیسے تہیہ کیا ہوا دریاب اور قندیل کو قریب کرنے کا ۔۔۔۔۔ نہیں تائی امی میں اپ لوگوں کے ساتھ بیٹھوں گی قندیل نے فوراً کہا ۔۔۔۔ بیٹھ جائیں آپی بہت حسین نظارے آنے والے ہیں آگے اور پھر آپ کے پاس تو دریاب بھائی جیسا حسین ہم سفر بھی ہے
۔۔۔۔۔ صبا نے خوش ہوتے ہوئے قندیل کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ گھر چلو بیٹا امی سے تمھارے ڈرامے دیکھنا بند کرواتی ہوں ، پتہ نہیں کیا چلتا رہتا دماغ میں خرافات ۔۔۔ قندیل نے صبا کے بازو میں ہلکی سی چٹکی بھری ۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔۔ آپی ۔۔۔۔۔ میں تو مذاق کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ صبا فوراً معصوم بنی ، سب کے بارے بار بولنے کی وجہ سے اور انجمن بیگم نے جب اسے سختی سے گھور کر آگے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو قندیل چپ چاپ آ کر دریاب کے برابر پیسنجر سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ پورا ٹائم تو اس ماسی نما میسنے کے ساتھ ہوتی ہوں ۔۔۔۔ بمشکل جان چھوٹتی تو زبردستی اس میسنے کے ساتھ سب چپکا دیتے ۔۔۔۔ ہائے میری قسمت ، قندیل دل میں کلس کر رہ گئی ، جبکہ دریاب اسے نظر انداز کیے اپنی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ تائی امی میں کھڑکی کی طرف بیٹھوں گی اچھا میری جان بیٹھ جاؤ ، انجمن بیگم نے صبا کی خواہش فوراً مانی ۔۔۔۔ بابر آؤ بیٹا انجمن بیگم نے بابر کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ہے امی میں۔۔۔۔۔ بابر نے کہا ہاں بیٹا تم کیونکہ میں بھی کھڑکی کے پاس بیٹھو گی ، انجمن نے ہنستے ہوئے کہا تو بابر صبا کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔ بابر کے بیٹھنے کے بعد انجمن بیگم نے سیٹ پر بیٹھ کر کار کا دروازہ بند کر لیا وہ سب مظفرآباد کے لیے روانہ ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔