ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 8 part (1)
اسے وہ دن اچھے سے یاد ہے جب شاہ ویر اس کی زندگی میں خوبصورت حقیقت کی طرح اس کے ذہن پر سوار تھا لمبا قد گہری انکھیں لمبی مڑی ہوئی گھنی پلکیں کشادہ پیشانی۔۔۔۔۔۔ مغرور سی ناک ساحرانہ آواز ، وہ اس میں ایسی گم تھی کہ اسے شاہ ویر کی اکتاہٹ نظر ہی نہیں آتی تھی ۔۔۔۔۔ پہلے تو وہ صرف اسے اچھا لگتا تھا لیکن نکاح کے بعد وہ اس پر دل و جان سے فدا ہو گئی تھی شاید یہ بات ویر بھی جانتا تھا۔۔۔۔۔۔ ایک بار در ثمین کی کلوز فرینڈ نے اس سے کہا اگر تم شاہ ویر کو پسند کرتی ہو تو اسے کہہ دو ایک بار آخر وہ تمہارا ہسبینڈ بھی تو ہے ورنہ تمھاری اسی شرم کے چکر میں وہ چلا جائے گا ۔۔۔۔۔۔ تو تم تھوڑی سی تو ہمت کرو در ثمین ، فریال نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ اور نہ جانے اس میں فریال کی باتیں سن کر کہاں سے ہمت آ گئی اور وہ شاہ ویر کے کمرے میں آگئی ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر جو باہر ملک جانے کی تیاریوں میں مگن تھا اسے اپنے کمرے میں پہلی بار دیکھ کر حیران ہوا ، کیوں آئی ہو یہاں ، کیا کام ہے شاہ ویر نے بیزاری سے کہا ، و۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ شا۔۔۔۔۔۔ شاہ ۔۔۔۔۔۔و ۔۔۔۔۔۔۔ویر در ثمین کی زبان ہکلانے لگی ۔۔۔۔۔۔ دیکھو میرا ٹائم ویسٹ مت کرو مجھے اور بھی بہت کام ہے شاہ ویر نے پیپرز ایک طرف رکھ کر در ثمین کو گھورا ۔۔۔۔۔۔ وہ شاہ ویر پتہ نہیں ۔۔۔۔ ک۔۔۔۔۔۔کب سے مگر م۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے آپ بہت اچھے لگتے تھے ۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔ اور اب تو ن۔۔۔۔۔۔۔ نکاح کے بعد سے میں آپ کو۔۔۔۔۔۔۔پ۔۔۔۔۔۔پسن۔۔۔۔۔۔ پسند بھی کرنے لگی ہوں ، آئی لو یو شاہ ویر ، در ثمین مین نے آخری جملے پر انکھیں بند کر کے فوراً کہا ، اور پھر آہستہ آہستہ انکھیں کھول کر شاہ ویر کا ری ایکشن دیکھنا چاہا
لیکن دوسری طرف شاہ ویر اسی پوزیشن میں بیٹھا ہوا اسے غصے سے ہی دیکھ ہی رہا تھا، کیا کہا شاہ ویر نے غصے سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آئی لو یو ویر
در سمین نے بنا اس کے غصے سے ڈرے قدرے ٹھنڈے لہجے میں کہا ، بٹ آئی ہیٹ یو سنا تم نے ائی ہیٹ یو در ثمین شاویر نے دانت پیستے ہوئے اپنی بات دہرائی ۔۔۔۔۔۔نو ویر ۔۔۔۔۔ در ثمین کی آنکھیں بھرنے لگی ، آئی ہیٹ یو شاہ ویر نے طنزیائی لہجے میں تیسری بار کہا نو شاہ ویر پلیز ، در ثمین کی ہمت اب ٹوٹنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ یس تم اسی لائق ہو تڑپتی رہنا ساری زندگی میرا نام تو ہوگا تمہارے ساتھ لیکن میں نہیں ہوں گا جیسا کہ تم نے میرے ساتھ کیا۔۔۔۔۔۔۔ ماں میری تھی لیکن وہ میرے ساتھ نہیں تھی میرے پاس نہیں تھی کتنا تڑپا ہوں میں ، کتنا رویا ہوں ایک بات کہوں در ثمین ماں مر جائے تو ایک نہ ایک دن آپ یہ بات تسلیم کر لیتے ہیں لیکن اگر ماں زندہ ہو اور وہ اثپ سے زیادہ کسی اور کو اہمیت دے وہ بھی اس ایج میں جب اپ کو اپنی ماں کی بہت زیادہ ضرورت ہو۔۔۔۔۔۔ اور وہ اپ کو اگنور کرے تو یہ برداشت نہیں ہوتا دل جلتا ہے اندر ہی اندر تو پھر ایسی حالت میں بندہ یا تو اس وجہ کو ہی ختم کر دیتا ہے یا جل جا کر لاوے کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کا انتقام کوئی نہیں جانتا کب ٹھنڈا ہو اور تمہیں تو پتہ ہوگا لاوا جب پگھلتا تو سب کچھ بہا لے جاتا ہے کچھ نہیں چھوڑتا اور نہ کچھ بچتا اس کے بعد ۔۔۔۔۔
شاہ ویر نے اپنی آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو چھپاتے ہوئے کہا ، ائی ایم سوری ریلی ریلی سوری شاہ ویر ۔۔۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے شاہ ویر کا دکھ سمجھتے اور محسوس کرتے ہوئے دو قدم آگے بڑھ کر کہا کوئی سوری نہیں بس اب تم یہاں سے چلی جاؤ اور ہو سکے تو میرے سامنے کبھی مت آنا ۔۔۔۔۔ اور میری ماں تمھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مبارک ہو کیونکہ اب مجھے اور میری ماں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مبارک ہو کیونکہ اب مجھے ان کے بغیر رہنا آ گیا ہے شاویر نے اپنے انسو صاف کر کے روتی ہوئے در ثمین سے کہا وہاں ایک پل اور رکنا در ثمین کو بھاری لگا وہ جیسے ہی شاویر کے کمرے سے باہر نکلی تو سامنے انجمن بیگم حیران سی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔ روتے ہوئے در ثمین بھاگ کر انجمن بیگم کے گلے لگ گئی ، در ثمین کو خود سے زیادہ انجمن بیگم کے لیے برا لگا کہ وہ یتیموں کا خیال کرتے کرتے اپنے بیٹے کے لیے اجنبی ہو گئی ، اور انجمن بیگم کو در ثمین کے لیے برا لگا کہ در ثمین ان کی وجہ سے ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئی جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا اور پھر اس بات کے دس دن بعد شاہویر چلا گیا ۔۔۔۔۔ شاہ ویر کی بے پرواہی نے آہستہ آہستہ در ثمین کی آنکھوں کی چمک اور ہونٹوں کی ہنسی چھین لی تھی ، بی جان کے بہت کہنے کے بعد وہ باہر ملک جانے کے تین سال بعد پہلی بار ایا تھا اور دوسری بار بھی تین سال کے عرصے میں ہی آیا تھا اس بار بھی اگر دریاب اور قندیل کی شادی کی مجبوری نہ ہوتی تو وہ یقینا تین سال کا عرصہ مکمل کر کے ہی آتا ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر جب بھی آتا سب کے لیے تحفے لاتا اور اس نام کے رشتے والی کے لیئے ہمیشہ ڈائری ہی لاتا ، اس بار نجانے کیوں در ثمین کو ایسا لگ رہا تھا کہ شاہ ویر اسے دیکھ رہا ہے ، اسکی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔۔۔ اس پر حق جتا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
دریاب یہ قندیل کہاں ہیں صبح سے کمرے سے باہر نہیں آئی اس کی طبیعت ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے ٹیبل پر ناشتہ رکھ کر دریاب سے پوچھا ۔۔۔ جی تائی امی بالکل ٹھیک ہے قندیل میں ابھی بلا کر لاتا ہوں ، دریاب نے مسکرا کر کہا اور اٹھنے لگا رکو دریاب میں بلا کر لاتی ہوں مجھے اوپر کام بھی ہے شبانہ بیگم نے فورا کہا اور سیدھے قندیل دریاب کے کمرے میں پہنچی۔۔۔۔۔۔ جہاں قندیل بیڈ پر لیٹی کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھی کیا حرکت ہے قندیل تم صبح سے نیچے کیوں نہیں آئی شبانہ بیگم نے غصے سے کہا وہ امی کل درے آپی اور سب ہنس رہے تھے تو میں نے سوچا قندیل فوراً اٹھ کر اپنی صفائی دینے لگی ، بہت عقل آگئی ہیں نا تمہارے پاس کیوں مجبور کر رہی ہو کہ میں تم
بہت عقل آگئی ہیں نا تمہارے پاس کیوں مجبور کر رہی ہو کہ میں تم سے غصے سے پیش آؤں ۔۔۔۔۔۔ پہلے تو تم نے کبھی کوئی ایسی حرکت نہیں کی تو اب کیا ہوتا جا رہا ہے شبانہ بیگم نے دانت پیستے ہوئے قندیل کی بات کاٹ کر کہا سوری ۔۔۔۔ سوری امی قندیل نے کہا اب چلو نیچے شبانہ بیگم نے قندیل کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ کتنے دن کے لیے آئے ہیں آپ ویر بھائی دریاب اور شاہ ویر لان میں بیٹھے تھے ، زیادہ نہیں اگلے اٹھ دن میں میری واپسی ہے ، اور تمہاری چھٹیاں کب ختم ہوں گی شاویر نے پوچھا ، شادی تھی نا اس لیے مہینے کی چھٹی تھی دس دن گزر گئے تھے باقی بیس دن باقی ہیں ، ویسے میں نے کراچی کی پوسٹنگ کے لیے درخواست کی ہے دیکھتے ہیں کب منظور ہوگی اور نکاح نامہ بھی جمع کروا دیا ہے تاکہ ابھی میری کوئٹہ پوسٹنگ ہے تو وہاں کوارٹر مل جائے ، پھر قندیل کو ساتھ لے جاؤنگا ، دریاب نے سنجیدگی سے کہا اچھی بات یہی دن ہوتے اکٹھا رہنے کے ، ابھی دن ہے چھٹیوں میں ہنی مون پر چلے جاؤ قندیل کو لیکر شاہ ویر نے ہنسی دبائی جی ویر بس دل نہیں اکیلے کہیں جانے کا پھر پہلے ایک دوسرے کو سمجھ لے ، ہم دونوں گھومنے گھمانے کے لیے تو زندگی پڑی ، بس مجھے درے کی ہوتی فکر کہیں میں اسکے ساتھ زیادتی نا کر جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔
کیسی زیادتی ماشاءاللہ ٹھیک ہے وہ ، شاہ ویر نے فوراً اپنی حیرانی کو چھپاتے ہوئے کہا ، در ثمین پر دریاب سے زیادہ شاہ ویر کا حق تھا اسلئے دریاب کی فکر کرنے وہ فوراً چوکنا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی مطلب ایسا ہی سنا سب سے شادی کے بعد انسان بس اپنی ہی فکر کرتا باقی سب رشتے بھول جاتا تو میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میری شادی کے بعد وہ اکیلی نا ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ہی وہ اپنی باتیں مجھ سے بھی چھپاتی کہیں اب اور فاصلے نا ہو جائیں ہمارے درمیان ، قندیل سے شادی کی ایک وجہ یہ بھی تھی میری کہ وہ در ثمین کو سمجھتی ہے اسکا احساس ، باقی کوئی اور لڑکی آتی تو وہ مجھے دور کر دیتی در ثمین سے ، اب مسئلہ یہ ویر اگر مجھے کواٹر ملتا تو قندیل بھی ساتھ ہوگی تو درے اور اکیلے ہو جائے گی صبا تو چھوٹی نادان ویسے ہی ، تو سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں ۔۔۔۔۔ دریاب نے ٹھہر کر اپنی بات مکمل کی ، تم فکر مت کرو کواٹر ملے تو آرام سے جانا قندیل کو لے کر ، میں آجاؤنگا ، بلکہ میں جلد ہی آنے کی کوشش کرونگا دو چار مہینے کا کام ہے ، اور پھر بی جان کی بہت ہی لاڈلی بنی ہوئی
میری امی اور دادا جان اور چاچو بابا سب کی لاڈلی ہے در ثمین شاہ ویر بولتا جارہا تھا لیکن دریاب کا دماغ شاہ ویر کے پہلے دو جملوں میں اٹک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اندر ہی اندر بہت خوش تھا پہلی بار شاہ ویر نے در ثمین کی اتنی فکر کی اور وہ صرف اس کے لئے آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ قندیل کہاں گم ہے بھئی ۔۔۔۔۔۔ بی جان نے وضو کر کے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے شبانہ بیگم سے پوچھا کیا کروں بی جان لڑکی کا تو دماغ ہی خراب ہو گیا ہے اب اتنی بڑی کو مجھے ہر بات سمجھانی پڑ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ شادی والے دن صبح کچن میں پہنچ گئی ، ولیمے والے دن اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گئی کہ آج یہی سوؤگی ، آج صبح کمرے سے باہر نہیں آئی کہ درے آپی اور سب ہنسے گے ، شبانہ بیگم نے بی جان کو چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے کہا اب تم ڈانٹنا شروع مت کر دینا ، بچاری بچی کو ، خیر سے وہ اعجاز میاں کا فون آیا تھا ، معذرت کر رہا تھا ساتھ ہی شرمندہ بھی بہت تھا کہہ رہا تھا اگر دارالامان میں ایمرجنسی نہ ہوتی تو وہ ضرور شادی میں شرکت کرتا ، اور ایک درخواست بھی کی ہے اس نے۔۔۔۔۔۔ بی جان نے کہا ، درخواست کیسی بی جان شبانہ بیگم کو حیرانی ہوئی ، میں اور تمہارے ابو جان پہلے سوچ لیں پھر سب کو بتائیں گے ، ابھی سے بتادے گے تو بچوں کا ذہن بن جانا بی جان نے چائے پی کر خالی کپ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔