ناول📚
💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖
رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰
Don’t copy without my permission
Episode 7 part (2)
دریاب آپ آرام سے یہ کمبل مجھے دیدے کل بھی اس میں میں سوئی تھی ، اگر آپ نے مجھے کمبل نہیں دیا تو اچھا نہیں ہوگا آپ کے ساتھ
قندیل نے اتراتے ہوئے دریاب کو دھمکی دی ۔۔۔۔۔ اچھا ہمت ہے تو کمبل لے کر دکھاؤ مجھے ، دریاب نے قندیل کے نازک وجود کو دیکھتے ہوئے ہنسی چھپاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ جو اپنی حالت کی پرواہ کی بغیر لڑنے کے لیے تیار تھی ، اوہ
چیلنج آئی لائک اٹ ، قندیل نے ایک ادا سے کہا اور کمبل کے کونے کو پکڑ کر پوری طاقت سے کھینچا تو وہ آدھا کمبل حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی جبکہ دریاب بڑے ہی آرام سے کمبل کا ایک سرا ہاتھ میں دبا کر قندیل کے بچپنے کو انجوائے کر رہا تھا قندیل کی حالت پر دریاب کو بہت ہنسی ا رہی ہے وہ کمبل کھینچنے کے چکر میں سانسوں سانس ہوچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ماسی کہیں کے بس ایک بار یہ کمبل میں حاصل کرلو پھر دیکھتی ہوں ہنستا کون ہے اور روتا کون ہے قندیل نے کمبل کھینچتے ہوئے ہنستے ہوئے دریاب دیکھ کر جلتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ مسز یہ لو جاؤ عیش کرو دریاب نے کمبل کا سرا ہاتھ سے چھوڑ دیا ، دوسری طرف قندیل جو بیڈ کے کنارے پر بیٹھی کھینچا تانی کر رہی تھی ، دریاب کے اچانک ہی کمبل چھوڑ دینے سے اپنا توازن کھو بیٹھی بے ساختہ اسکا سر بیڈ کراؤن پر لگا ساتھ ہی وہ گرنے والی تھی کہ دریاب نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اسے ہاتھ پکڑ کر زمین پر گرنے سے بچایا۔۔۔۔۔۔ امی بچاؤ قندیل کے منہ سے نکلا ، سر پر بیڈ لگنے سے قندیل کی انکھوں میں پانی بھر گیا وہ ایک ہاتھ سے سر پکڑی ہوئی تھی جبکہ اسکا دوسرا ہاتھ دریاب کی گرفت میں تھا۔۔۔۔۔۔۔
چچچ پہلی بار دیکھا ہے کوئی جیت کے بھی روتا ہے۔۔۔۔ شکر کرو میں نے تمھیں گرنے نہیں دیا
دل تو کر رہا تھا تمھیں وہی تکلیف دو جو میں محسوس کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب نے ہنسی کو روک کر کہا ، چیٹنگ کی ہے آپ نے دریاب اور آپ مجھے گرنے دیتے سچ میں
قندیل نے اپنا ہاتھ دریاب سے چھڑاتے ہوئے اپنا سر کے متاثرہ حصے کو مسلتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ دریاب چاہ کر بھی اسکے ساتھ برا سلوک نہیں کر پا رہا تھا ، سوچا تو یہی تھا۔۔۔۔۔ اب سوچو یہیں ایک بچہ روز رات کو سکون سے کمبل میں سونے کے لیے اتنی ہی جدوجہد کرتا ہے ، اور اس ایک کمبل کو پانے کی وجہ سے وہ نجانے روز کتنے زخم کھاتا ہے ، قندیل یہ صرف ایک چیز کی بات نہیں ہے وہ ہرچیز سب کو ملتی تھی پر اس سے چھین لی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب سہا ہے میں نے ہر دن صرف تمہاری وجہ سے ، دریاب
یہ سب سہا ہے میں نے ہر دن صرف تمہاری وجہ سے ، دریاب نے قندیل کے ہاتھ پر سختی کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ قندیل حیرت سے دریاب کا منہ تکتے رہ گئی ، اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا دریاب سے وہ ہمدردی کرے یا پوچھے کیا اس سب کے پیچھے وہ کیسے ، ابھی تو یہ چھوٹی سی شروعات ہے مسز قندیل آگے میں نہیں جانتا اور کون سی مشکلات ہیں جن سے تمہیں گزرنا پڑیگا۔۔۔۔۔۔ دریاب قندیل کا ہاتھ چھوڑ کر بیڈ پر لیٹ چکا تھا ۔ ۔ تھوڑی دیر تک قندیل اسی کشمکش میں رہی ۔۔۔۔۔۔ کیا سوچ رہی ہو ، میں آج تمھاری کوئی ہیلپ نہیں کروانے والا یہ سب اتارنے میں دریاب نے قندیل کی بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ مجھے آپ کی ہیلپ چاہیئے بھی نہیں میں آج ایسے ہی سوؤگی ، قندیل نے اپنے دونوں ہاتھوں سے انسو صاف کیے تو اسکا کاجل مسکارا پھیل گیا ۔۔۔۔۔۔ سچ میں قندیل آج تو قسم سے تم کل سے بھی زیادہ حسین لگ رہی ہو میری تو نظر ہی نہیں ہٹ رہی تھی ، آج کی ہم دونوں کی پیاری سی ایک سیلفی تو بنتی ہے قندیل کا پھیلے ہوئے کاجل والا منہ دیکھتے ہی دریاب کو شرارت سوجھی تھی باتیں تو اس نے سب سچ کہی تھیں ، مگر اس وقت وہ شرارت کے موڈ میں تھا
دریاب نے سائیڈر سے موبائل اٹھایا اور کیمرہ آن کیا ، تھوڑا سا کھسکتے ہوئے قندیل کے پاس ہوگیا ، قندیل کو سمجھ نہیں آرہا تھا دریاب کی بات سن کر شرماؤ یا تصویر بناؤں ، قندیل سوچ میں تھی دریاب ایک پک کلک کر چکا تھا , اوپر دیکھو قندیل ، دریاب کی آواز کے ساتھ ہی وہ اپنی سوچ سے باہر آئی اور اسکی نظریں موبائل اسکرین پر گئی، تو یک دم قندیل کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی ، آہہہہہہہہہہ قندیل کی چیخ کیساتھ دریاب نے قہقہہ لگایا
بدتمیز
اڑا لے آپ میرا مذاق امی کو بتاؤ گی آپ بتا نہیں سکتے تھے میرا کاجل خراب ہوگیا ہے ، اوپر سے آپ میری فنی تصویریں بنا رہے ہیں ، دریاب مسلسل ہنسے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو گی نہیں میں آپ کو قندیل نے ہنستے ہوئے دریاب کے سر کے بال پکڑنے ہی لگی تھی دریاب نے فوراً اسکے دونوں ہاتھ کلائی سے پکڑ کر اپنی گرفت میں لے لئے ، پہلے ہی وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب تھے اب اور ہوگئے تھے قریب ۔۔۔۔۔۔۔ ڈونٹ ٹچ مائے ہیر ،(don’t touch my hair ) ورنہ میں نے تمھارے بال بھی کھینچ لینے
اسلئے مجھے ہاتھ سوچ سمجھ کر لگانا ، مسسز قندیل ویسے سچ بتاؤ اب بھی ایسے ہی سونا بنا منہ دھوئے ، میں تو اپنے دل کو سنبھال لو گا ، بس تم شیشے سے دور رہنا ، دریاب نے سیریس انداز میں کہا اور قندیل کے ہاتھ چھوڑ کر واپس ہنسنے لگا ،دریاب آپ میسنے ماسی بدتمیز کہیں کے مجھ سے بات نہیں کرئیے گا آئی سمجھ
قندیل رونی صورت بناتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر باتھ روم میں جا کر بند ہوگئی ، کافی دیر تک دریاب اسکی باتوں پر ہنستا رہا اور اسکا انتظار کرتا ہوا سوگیا ۔۔۔۔ قندیل تقریباً پینتالیس منٹ بعد فریش ہو کر باہر ائی دریاب سویا ہوا تھا ، کیا کروں نیچے ہی جا کے سو جاتی ہوں اس کا منہ دیکھنے سے اچھا ہے قندیل دل میں سوچا اور بیڈ پر سے تکیہ اور کمبل لے کر اٹھ کر کل والی جگہ پر کمبل تکیہ رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم بی جان آپ کیسی ہیں آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے بی جان کے کمرے میں داخل ہو کر کہا وعلیکم السلام الحمدللہ ٹھیک ہوں بی جان نے محبت بھرے لہجے میں کہا ، آپ نے ناشتہ کیا ، دوائی وغیرہ کھائی ، شاہ ویر نے کمرے میں نظروں سے در ثمین کو ڈھونڈتے ہوئے کہا ، ہاں درے ہے ناں وہ مجھے ٹھیک سے بیمار بھی نہیں ہونے دیتی بہت پیار کرتی ہے مجھ سے میری پوتی بی جان نے کمرے میں داخل ہوتی درثمین کو دیکھتے ہوئے کہا بی جان کی نظروں کے تعاقب میں شاہ ویر نے بھی مڑ کر دیکھا تو در ثمین گرین کلر کے کاٹن کے سوٹ میں گرین ہی کلر کا شیفون دوپٹہ اوڑھے بہت اچھی لگ رہی تھی ، اور میں جو اپ کی ایک آواز پر سب کام چھوڑ کر سات سمندر پار سے یہاں آ جاتا ہوں وہ کچھ نہیں شاویر نے مصنوعی خفگی دکھاتے ہوئے کہا ہاں تو تم دونوں ہی ہو پر در ثمین تو ہر وقت میرے ساتھ رہتی ہے ناں اور ہمیشہ ساتھ ہوتی ہے میرا خیال کرتی بی جان نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان یہ نا انصافی ہے اپ نے ٹیم بدل لی شاہ ویر نے در ثمین کو دیکھتے ہوئے کہا در ثمین خاموش بی جان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی بی جان باتیں ہوتی رہیں گی آپ پہلے یہ انڈے کھا لیں در ثمین نے بی جان کو انڈا کھلانے لگی ، ویر بیٹا تم بھی میرے پاس رہنے لگ جاؤ بی جان نے انڈا کھا کر کہا ۔۔۔۔۔۔
بس کچھ مہینوں کی بات بی جان پھر دیکھتا ہوں میں کہ کون میری جگہ لیتا ہے شاہ ویر نے در ثمین کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بی جان کو کہا ، بی جان ان سے کہہ دے میں اپ کی خدمت ان کی جگہ لینے کے لیے نہیں کرتی اب میری بھی تو بی جان ہے اور کیا میرا آپ پر کوئی حق نہیں
در ثمین کو شاہ ویر کی بات بری لگی اس کی انکھیں پانی سے بھر گئی تھی، دیکھا میری پوتی کو رلا دیا تم نے ۔۔۔۔۔ بی جان نے شاہ ویر کو دیکھتے ہوئے کہا بی جان میں آتی ہوں ، در ثمین خالی پلیٹ کو اٹھا کر کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔۔میں نے کیا کیا بی جان
ایسے ہی چھیڑ رہا تھا آپ کی پوتی کو دیکھ رہا تھا آنکھوں میں جو پانی کی ٹنکی ہے اب بھی چلتی یا نہیں ۔۔۔۔۔ شاہ ویر نے بی جان کے پاس بیٹھ کر انکی گود میں سر رکھ کر ہنستے ہوئے کہا بہت شرارتی ہو رہے ہو اب جاؤ جا کر چپ کراؤ میری پیاری ہوتی کو ۔۔۔۔۔ بی جان نے شاہ ویر کے بالوں میں شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے حکم صادر کیا ، میں کیسے بی جان بچپن سے آپ کی پوتی کو ایک ہی کام تو آتا اچھے سے
شاہ ویر نے اسکے بچپن سے رونے والی بات کو یاد کر کے کہا مجھے نہیں معلوم ، کیسے کروانا چپ بچے تو نہیں ہو تم جو سب کچھ بتانا پڑے گا۔۔۔۔۔۔ بی جان نے پیار بھرے لیجے میں منہ پھلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بی جان کی بات کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے ایک پل کے لئے شاہ ویر سرخ ہوا تھا ، بی جان آپ جانتی تو اسکا اور میرا تعلق کیسا
بی جان آپ جانتی تو اسکا اور میرا تعلق کیسا ہے پھر بھی آپ مجھے ایسے بھیج رہی جیسے ہم بہت ہیپی کپلز ہے ، شاہ ویر نے بی جان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ، ہاں سب جانتے ہیں کل ہمارے ولیمے سے جانے کے بعد کی تصویر دکھائی ہمیں فائز نے ،اس میں تو تم خاصکر کے بہت ہی ہیپی لگ رہے تھے بی جان نے فوراً کل کی بات یاد دلائی۔۔۔۔۔ کون سی تصویر ۔۔۔۔۔اوہ وہ ، وہ تو سب نے کہا تھا اسلئے میں بیٹھا تھا شاہ ویر نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا اور بی جان کو اپنی باتوں میں لگالیا ۔۔۔۔۔۔۔