Episode 6 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 6 part (2)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 6 part (2)

بہت پاگل ہے قندیل ، در ثمین ہنس ہنس کر سب کو قندیل کے صبح والے کارنامے کے بارے میں بتا رہی تھی۔۔۔۔ واقعی مجھے تو یقین نہیں آرہا ابھی بھی ، اجالا نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ کس بات پر صبح صبح ہنسا جا رہا ہے ، شاہ ویر نے در ثمین کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ، شاہ ویر کے یک ٹک خود کو دیکھتا پا کر در ثمین نے فوراً اپنی مسکراہٹ سمیٹی ۔۔۔۔۔۔۔بھائی یہ بات تو اپ کو درے آپی ہی بتائیں گی، کیونکہ اس بات کی وہ اور تائی امی ہی واحد گواہ ہیں ، اجالہ نے فوراً درے پر ساری بات ڈالدی وہ اجالا تم بتاؤ وہ مجھے بہت کام کچن میں ، آلو رکھے چولہے پر ۔۔۔۔۔۔ در ثمین نے بہانہ بناتے ہوئے کہا اور کچن میں چلی گئی۔۔ دریاب بھائی اپ کتنے رومینٹک ہیں کاش مجھے بھی اپ جیسا ہینڈسم ہسبینڈ ملے ۔۔۔۔۔۔ صبا نہیں قندیل کے ہاتھ میں ہیرے کی انگوٹھی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔ اللّٰہ نہ کرے قندیل نے دل میں سوچا باقی۔۔۔۔۔۔ واااااااہ قندیل تمھاری تو قسمت ہی کھل گئی اجالا نے بھی خوش ہوتے ہوئے کہا بہت خوبصورت رنگ ہے لیکن اْس سے زیادہ تو میری بہن خوبصورت ہے ، شاہ ویر کب سے موبائل چلا رہا تھا سب کی بات سنکر اس نے موبائل ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے ایک نظر رنگ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ سالے صاحب آپ تو بازی لے گئے آپ کا کوئی جواب نہیں ، ادریس نے چائے کا کپ اٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا یہ چیزیں تو دکھاوے کی ہوتی ہیں دریاب بس بیٹا آپ دونوں ایک ساتھ خوش رہو۔۔۔۔ مل کر ایک دوسرے کا خیال رکھو یہ ہمارے لیے بہت ہوگا ۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے باری باری دریاب اور قندیل کا ماتھا چوم کر کہا جی چاچی دریاب مسکرا کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔

 

میسنا ، ماسی کہیں کا قندیل نے منہ بنا کر دریاب کو ایک اور لقب سے نوازتے ہوئے دل میں سوچا اللّٰہ تعالیٰ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔۔ بی جان نے بھی دعا دی۔۔۔۔۔ اب لگ رہی ہوں نا میرے بھائی کی دلہن در ثمین مین نے قندیل کا سر چوم کر کہا ، اگر میری بھابھی کو تنگ کیا نہ تو میں تم سے بات نہیں کروں گی دریاب در ثمین نے دریاب کا ہاتھ پکڑ کے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ اچھا ایک دن بھی نہیں ہوا قندیل کو اور تمہیں مجھ سے زیادہ بھابی عزیز ہو گئی ایسا کیا جادو کردیا 😏 دریاب نے در ثمین کے گرد پیار سے بازوؤں کا گہرا بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ اور نہیں تو کیا ، قندیل میری پہلے بہن ہے پھر بھابھی۔۔۔۔۔۔ آئی سمجھ در ثمین نے ہنس کر کہا ، بہت اچھے لگ رہے ہو قندیل اور دریاب نظر نا لگے کسی کی میرے بچوں کو ۔۔۔۔۔ انجمن بیگم نے فوراً ہزاروں کے نوٹوں کے بنڈل کا ان دونوں پر سے صدقہ دیا ۔۔۔۔ فائز یہ باہر چوکیدار کو دے آؤ وہ باہر غریبوں میں تقسیم کردے گا انجمن بیگم نے صدقے کے پیسے فائز کو پکارتے ہوئے کہا ، آپ سب سکون سے بیٹھے آج ولیمہ ہے بھائی کا ۔۔۔۔ مون پیلس (شادی ہال) میں ، وہاں جانے کا بھی ایک گھنٹہ لگنا ، اور پھر کراچی کی ٹریفک ۔۔۔۔۔ تیاری کریں سب چلنے کی بابر نے ڈرائنگ روم میں آتے ہی کہا ، ہاں بیٹا بس کر رہے ہیں تیاری دریاب تم ایسا کرو قندیل کو پارلر چھوڑ آؤ ۔۔۔۔۔۔۔ شبانہ بیگم نے فکر مند ہوتے ہوئے کہا ، وہ۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔۔ امی میں پارلر نہیں جاؤں گی🙂، قندیل نے دریاب سے بدلہ لینے کی سوچتے ہی شبانہ بیگم کو کہا، قندیل کی بات سنتے ہی دریاب کو کھانسی لگ گئی۔۔۔۔۔

 

کیوں بیٹا کیا ہوا تمھاری طبیعت ٹھیک ہے انجمن بیگم نے بڑے پیار بھرے لہجے میں پوچھا قندیل سے ، کیا ہوا بھائی در ثمین نے دریاب کی کمر تھپتھپائی، میں ٹھیک ہوں بس ایسے ہی الرجی سی ہوئی ، سچ میں چاچی قندیل کل بہت ہی خوبصورت لگ رہی ہے قندیل تم اپنا سامان پیک کرو ، جو لے کر جانا پارلر میں تب تک گاڑی نکالتا ہوں۔۔۔۔۔ دریاب نے بات سنبھالتے ہوئے کہا، بولو بیٹا کیوں نہیں جا رہی تم پارلر طبیعت ٹھیک ہے کیا ہوا اچانک شبانہ بیگم نے اب کی بار پوچھا ۔۔۔۔۔۔ دریاب کو پھنسانے کے چکر میں قندیل خود پھنس چکی تھی ، جی امی۔ ۔۔۔ میں ایسے ہی بول رہی تھی کیا ضرورت ہے اتنا تیار ہونے کی پیسے خرچ کرنے کی 🙂 دولہا اور گھر والے بھی نا پہچان سکے آپ کون ہو۔۔۔۔۔ قندیل تم اتنا فضول کیوں سوچتی ہو چپ چاپ جاؤ اور جا کے سامان پیک کرو اپنا ، شبانہ بیگم نے قندیل کو تھوڑا سا گھورتے ہوئے کہا ، شبانہ ڈانٹ کیوں رہی بچی کو ، قندیل بیٹا تیار ہونا ضروری ہے ، پھر آج تمھارا اور دریاب کا ولیمہ ہے یہی دن تو ہوتے ہیں تیار ہونے کے بی جان نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔قندیل ن

 

بی جان نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔قندیل نے بی جان کی بات سنتے ہی رونی صورت بنا کر دریاب کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔ قندیل کو دیکھتے ہی دریاب نے اپنی ہنسی کو ضبط کیا ، اور باہر گاڑی نکالنے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ جو کہ در ثمین نے بھی نوٹ کیا ، آجاؤ قندیل میں تمھاری مدد کرتی ہوں در ثمین قندیل کا ہاتھ پکڑ اسے اپنے ساتھ لے گئی ، باقی سب بھی ولیمے کی تیاری کے غرض سے اٹھ گئے۔۔۔  ڈرائیونگ کے دوران دریاب کی نظریں فرنٹ مرر سے قندیل پر ہی تھی وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ کیا ہوا مسز دریاب نے قندیل کو چھیڑا 🤭 نا مجھے دیکھنے کی نا مجھ سے بات کرنے کی ، آپ کو کوئی ضرورت نہیں ، مہربانی ہوگی سامنے دیکھ کر گاڑی چلائیں 😏 قندیل نے خفا ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ اوہ میں نے کیا کیا ،،، سچ میں قندیل تم کل بہت پیاری لگ رہی تھی دریاب نے معصومیت سے کہا ، مجھے بول رہے تھے آپ کل رات کہ اصلی روپ میں آؤ ۔۔۔۔دریاب میں سچ میں آپ سے کہتی ہوں اپ اپنے اصلی روپ میں آئیں ، مجھے تو سمجھ ہی نہیں آتا آپ کا اصلی روپ ہے کون سا ہے 😐 اکیلے میں تو مجھ سے بدلہ لیتے ہیں اور سب کے سامنے کیوٹ لوونگ شوہر بننے کا ڈرامہ کرتے قندیل نے دریاب کی بات پر حیران ہو کر کہا ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے آہستہ آہستہ سب سمجھ آ جائے گا۔۔۔۔۔۔ دریاب ہنسا تھا ، بدتمیز ، ماسی ، میسنا نا ہو تو ، قندیل بڑبڑائی تھی ، آج میں تمھاری کوئی مدد نہیں کرنے والا آئی سمجھ کل تو تم نے میری معصومیت کا فائدہ اٹھایا تھا۔۔۔۔۔ مگر آج نہیں ، دریاب نے بیک مرر سے قندیل کو دیکھتے ہوئے کہا ،، نہیں کیجئے گا مجھے آپکی مدد کی کوئی ضرورت بھی نہیں 😏 بلکہ آج تو میں آپ کے کمرے میں بھی نہیں آؤ گی ۔۔۔۔۔۔ قندیل نے اتراتے ہوئے کہا ، اوہ مسز ایسی بات آج تو تم میرے کمرے میں ہی آؤ گی ولیمے کے بعد اگر ایسا نا ہوا تو ٹھیک ہے شرط لگاتے ہیں بتاؤ کیا کرو گی 😁۔۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے فوراً شرط کی بات رکھی ، تو ٹھیک ہے اگر میں شرط ہارتی ہوں تو میں آج بھی نیچے زمین پر سوؤں گی اور اگر اپ شرط ہارتے ہیں تو آپ زمین پر نیچے سوئیں گے اور میں اوپر بیڈ پر اور آپ میرے سامنے نیچے ٹھیک ہے قندیل نے کچھ سوچتے ہوئے فورا ہاں کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

آج خاص ولیمے کے لیے کراچی کا سب سے بڑا شاندار اور جدید (شادی ہال) زین پیلس بک کروایا تھا دریاب نے ۔۔۔۔۔ آج کے دن اس کے سینٹر کے نئے پرانے دوست اور آفیسرز انوائیٹڈ تھے ، سارے انتظامات زین پیلس کی ٹیم نے باخوبی سنبھال رکھے تھے ۔۔۔۔۔۔ جہانگیر صاحب منور صاحب اور مظفر صاحب شاہویر بابر اور فائز سب آئے ہوئے گیسٹس کو اٹینڈ کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اج کی تھیم کے مطابق (پرپل) لائٹ جامنی کلر سب نے پہنا ہوا تھا ….. جبکہ دادا جان نے وائٹ شلوار سوٹ پر پرپل کلر کی شال لی ہوئی تھی جب کہ منور اور مظفر صاحب نے وائٹ سوٹ پر پرپل کلر کے کوٹ پہنے ہوئے تھے جو کہ اس عمر بھی انکے رعب کا باعث بن رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ دریاب نے اسٹائلش تھری پیس سوٹ (جیکٹ +ویسٹ+ پینٹ+وائٹ شرٹ+بلیک ٹائی+ بلیک لیدر شوز ) پہنا تھا ڈسٹی روز کلر کا (لائٹ پرپل)۔۔۔۔۔۔۔ دریاب کہیں کا شہزادہ معلوم ہو رہا تھا ، جو بھی دریاب کو دیکھ رہا تھا وہ دوبارہ پھر دیکھ رہا تھا ، شاہ ویر نے فارمل ڈریس ( ڈارک پرپل پینٹ اور لیونڈر کلر کی شرٹ) پہنی ہوئی تھی ، بابر اور فائز نے (پرپل شرٹ اور بلیک پینٹ پہنی ) ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ ادریس نے (بلیک پینٹ شرٹ کے ساتھ لیونڈر کلر کا کوٹ ) پہنا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ جینٹس اور لیڈیز کا انتظام ہمیشہ کی طرح الگ کیا گیا تھا جینٹس کی طرح لیڈیز میں بھی تھیم پرپل کلر ہی تھی بی جان نے وائٹ کلر کا سوٹ پہنا تھا جس پر پرپل کالر کا بہت نفیس سا کام تھا انجمن بیگم اور شبانہ بیگم نے بھی پرپل کلر کے بہت ہی خوبصورت ڈیزائن کے سوٹ پہنے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

 

اجالا نے پرپل اوپن شیڈ ڈیزائن لہنگا پہنا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جسکی شرٹ پر بہت عمدہ کام تھا ، صبا نے بھی پرپل کلر کی بہت خوبصورت لانگ فراک پہنی ہوئی تھیں ، جبکہ در ثمین نے پرپل کلر کی نیٹ میں سٹیپ فراک پہنی ہوئی تھی جسمیں در ثمین نازک سی گڑیا لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور قندیل نے پرپل کلر کی لانگ میکسی پہنی ہوئی تھی جس کا فرنٹ فل ایمبرائڈڈ تھا اور اس کے اوپر قندیل کا نفیس سا میک اپ ، قندیل آج بھی کل سے زیادہ حسین نظر ارہی تھی۔۔۔۔۔۔ آج قندیل کے چہرے کو ڈھکا نہیں گیا تھا ، کھانے کے بعد شادی میں آئے تمام مہمان عزیز و اقارب شاہ فیملی کی خوبصورتی اور رکھ رکھاؤ دیکھ کر متاثر ہو رہے تھے لیڈیز پورشن میں صرف گھر کے مردوں کا آنا الاؤڈ تھا اس لیے بابر اور فائز تو ہزاروں چکر کاٹ چکےتھے……   ولیمے کی تقریبات کے لیے سب فیملی ممبرز نے خاص دریاب اور قندیل کے لیے گفٹ بنائے تھے ۔۔۔۔۔۔ جینٹس پورشن میں کافی جنٹس تو الودا کر کے جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔ گفٹ دینے کی وجہ سے دریاب کو لیڈیز پورشن میں بلایا گیا اور دریاب کو قندیل کے برابر بٹھا دیا گیا دونوں کی جوڑی دیکھ کر سارے حال کی انکھیں چمک گئی تھی ماشاءاللہ وہ دونوں ایک ساتھ بہت ہی پیارے لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ قندیل نے دریاب کو ایک نظر دیکھنا گوارا نہیں کیا وہ اسے انظر انداز کر رہی تھی ، جب کہ قندیل کے حسین چہرے کو دیکھتے ہی دریاب کو اپنی نظریں قابو کرنا مشکل لگ رہا تھا ، قندیل کے برابر بیٹھے دریاب کی نظریں بار بار قندیل کی طرف بھٹک رہی تھی ، ماشاءاللہ کہیں میں غلط جگہ پر تو نہیں آگیا دریاب نے قندیل کی طرف تھوڑا جھکاؤ کرتے ہوئے سرگوشی کی ، قندیل کی طرف سے کوئی رسپانس نا پاکر ، دریاب جان بوجھ کے قندیل کے تھوڑا نزدیک ہو کر بیٹھا ، جو کہ سب نے نوٹ کیا بابر ، فائز ، ادریس ، اور اجالا صبا نے شور مچایا اووووووووو 🤭 جبکہ قندیل دریاب کی اس حرکت پر دریاب کو گھورتے ہوئے جھینپ کر رہ گئی وہ بلکل اس سے لگ کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ ارے غلط مت سمجھیں آپ

 

 

ارے غلط مت سمجھیں آپ سب ، صوفے پر آپ لوگوں کے لیے جگہ بنائی ، گفٹ دینے ناں دریاب نے ہنستے ہوئے کہا باقی سب بھی دریاب کی بات سن کر ہنسنے لگے شاہ ویر بھی آ چکا تھا سب کے درمیان دریاب کی شرارت اسے سمجھ آگئی تھی ، سب جوڑی میں آ کر قندیل اور دریاب کو گفٹ دے رہے تھے بی جان اور دادا جان گھر جا چکے تھے بی جان کی طبیعت خراب ہو گئی تھی تو منور صاحب ان کو گھر لے گئے تھا ۔۔۔۔ پہلے انجمن بیگم اور شبانہ بیگم نے تحفے دیے پھر اجالا اور ادریس نے ا کر اپنا تحائف دیا ، اس کے بعد صبا نے آ کر اپنا تحفہ دیا پھر بابر اور پھر فائز نے اب بس در ثمین اور شاہ ویر بچے تھے ۔۔۔۔۔

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *