Episode 1  part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

Episode 1 part (1)�💖محبت میں جلتے دل�💖

ناول📚

💖🔥 محبت میں جلتے دل🔥💖

رائیٹر ✍️مشی علی شاہ🫰

Don’t copy without my permission

Episode 1 part (1)

ارے ثمامہ اور کتنی چاکلیٹس کھاؤ گے۔۔۔ بس کرو بس بھی کرو ورنہ صبا انٹی کی طرح سارے دانتوں میں کیڑے لگ جائیں گے😏 فائز نے سیڑھیوں سے اترتی صبا کو دیکھ کر چھیڑا صبا جو اپنی دھن میں اتر رہی تھی اچانک سے اپنی برائی سنتے ہی طیش کے عالم میں ا کر فائز کو گھورا جو پانچ سالہ ثمامہ کو ہدایت دے رہا تھا اوہ ائی سی۔۔۔۔۔ ثمامہ میرے تو دانتوں میں کیڑا ہے لیکن تمہارے تو ماموں خود ایک کیڑا ہے اب دیکھو جب کیڑے کے منہ پر مکا لگے گا تو کیا جڑھے گا 😏 اب دیکھو صبا یہ کہتے ہی فائز کے پیچھے مکہ بنا کر بھاگی صبا ۔۔۔ صبا۔۔ یہ کیا کر رہی ہو بچے کی جان لو گی فائز ہول میں یہاں وہاں دورتے ہوئے بول رہا تھا جب کہ صبا پر تو ایک ہی دن سوار تھی کہ کسی طرح سے اس کے دانت توڑ دے۔۔۔۔۔۔۔

فائز صبا یہ کیا چل رہا ہے بابر جو ابھی جوگنگ سے فریش موڈ میں ایا تھا ہال میں ان دونوں کے کھیل کو دیکھ کر اسے غصہ اگیا😡 ہٹلر کب ایا صبا نے پھولتی ہوئی سانسوں کو اندر ہی روکتے ہوئے دل میں سوچا بھائی۔۔۔۔۔ بھائی میں نے کچھ نہیں کیا یہ صبا ہی میرے پیچھے بھاگ رہی تھی پاگلوں کی طرح فائز نے بابر کے غصے سے بچنے کے لیے صفائی دی ،،،صبا فائز کے جھوٹ پر اندر ہی اندر کھول کر رہ گئی اور انکھوں میں پانی امڈ ایا اسے پتہ تھا بابر کے سامنے اس کا بولنا بےکار تھا ماموں فائض مامو انٹی کو تنگ کر رہے تھے ثمامہ جو کب سے فائض اور صبا کا ٹام جیری والا درانی دیکھ رہا تھا بیچ میں بولا صبا کو ثمامہ کے بولنے سے تھوڑی تسلی ہوئی غلطی کسی کی بھی ہو تم کب بڑے ہو گے مجھے دن تاریخ لکھ کر دے دو تاکہ تم دونوں کو سمجھانے سے تو جان چھوٹے گی بابر نے غصے سے گھورتے ہوئے دونوں کو کہا اور سیڑھیوں سے چڑھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا صبا بھی دانت پیستی ہوئی ثمامہ کا ہاتھ پکڑ کر اوپر اپنے کمرے میں اگئی

وہ بہت خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھ رہی تھی دعا مانگتے ہوئے ہر روز کی طرح اس کی انکھیں انسو بہا رہی تھی اور وہ اپنی گہری پلکوں والی انکھیں بند کے دعا مانگنے میں مصروف تھی انسو دو طرح کے ہوتے ہیں ایک خوشی کے دوسرے دکھ کے جانے یہ کون سے والے انسو بہا رہی تھی

آپی یہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں تھوڑا ارام ہی کر لیں اب شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔ صبا نے کچن میں کام کرتی قندیل سے خفا ہوتے ہوئے کہا ارے بابا کام کہاں کر رہی ہوں وہ ت تمہیں پتہ ہے نا دادا جان کو میرے ہاتھ کا سوپ بہت پسند ہے اور اج سردی بھی ہے تو میں نے سوچا۔۔۔۔۔۔ مانے گے نہیں صبا نے قندیل کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے بات کاٹی اور ویسے بھی میں کون سا شادی کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔ صبا تم کتنی سست ابھی تک چائے کا پانی بھی نہیں رکھا ابلنے کے لیے شبانہ بیگم نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے کہا تو قندیل کی بات ادھوری رہ گئی امی چائے بن گئی ہے وہاں تھرماس میں رکھی ہے قندیل نے تھرماس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کتنی سگھڑ ہے میری بیٹی اس سے کچھ سیکھ لو تم بھی شبانہ بیگم نے قندیل کی تعریف کر کے صبا کو گھورا اور ٹرالی میں تھرماس کپ وغیرہ لے کر کچن سے چلی گئی ۔۔۔اپ تو کہہ رہی تھی اپ بس سوپ بنا رہی ہیں تو یہ چائے کیا جنات نے بنائی ہے صبا نے قندیل کو گھورتے ہوئے کہا میں نے ہی بنائی ہے پر تم یہ جنات کا نام مت لیا کرو معلوم ہے نہ مجھے کتنا ڈر لگتا ہے جنوں سے چڑیلوں سے قندیل نے منہ بناتے ہوئے کہا اچھا اچھا اب آپ جائے یہاں سے اور دوبارہ کچن کا رخ مت کرنا ورنہ میں ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔ہوہوہوہو۔۔۔۔۔۔ صبا نے قندیل کو ڈرایا بہت بدتمیز ہو تم قندیل نے سوپ کو ڈش میں رکھتے ہوئے کہا اور کچن سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔

ارے بی جان نے اتنی مسکالز دی ہیں۔۔ کہیں کوئی ارجنٹ کام تو نہیں۔۔۔ اس خوبرو نوجوان نے موبائل کا سائلنٹ موڈ اف کرتے ہوئے سوچا اور دوبارہ کال کی۔۔۔۔جو پہلی بیل میں ہی ریسیو کرلی گئی۔ السلام علیکم بی جان کال یس ہوتے ہی اس نے کہا وعلیکم السلام کیسے ہو بی جان کی جان انہوں نے تسبیح کے دانے گھماتے ہوئے اپنی بوڑھی انکھوں میں خوشی سموتے ہوئے کہا الحمدللہ بی جان اپ سنائیں اپ کیسی ہیں دادا جان امی جانو ، ابو جان ، چاچو جان ، کیسے ہیں سب اللہ کے فضل و کرم سے سب ٹھیک ہیں ایک ایک کا نام لے کر جتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تمہیں ہماری کتنی فکر ہے بی جان تھوڑی خفا سی ہوئی۔۔۔۔۔۔ بی جان ایسا تو مت کہیں ٹھیک ہے بس میں اگلی فلائٹ سے ا رہا ہوں پاکستان اوکے اس نے بھی مصنوعی خفگی دکھاتے ہوئے کہا وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔۔۔۔۔ انا ضرور انا لیکن پانچ دن بعد بی جان مسکرائ۔۔۔ اوہ تو تاریخ رکھ دی ہے اپ سب نے مل کر اس نے بات سمجھتے ہو کہا ہاں چھ دن بعد اپٹن ہیں گھر میں ڈبل شادی ہے ایک دو دن پہلے تو ا ہی سکتے ہو تم ویسے بھی میں سوچ رہی تھی کہ تم اؤ گے تو سہی تو لگے ہاتھوں تمہاری بھی۔۔۔۔۔ بی جان اپنے وعدہ کیا تھا اپ اس معاملے میں میری سنیں گی اور اب اپ خود۔۔۔۔ اس نے بھی جان کی بات کاٹ کر سختی سے کہا اچھا بی جان کی جان ناراض مت ہو بس تم خیریت سے پاکستان آ جاؤ اور سنو ڈائیٹ وائٹ تو نہیں کر رہے ناں تم بی جانے اس کی خفگی مٹانے کے لیے کہا وہ بھی بی جان کی بات سن کر ہنسنے لگا اس کے ہنسی کی اواز سن کر بی جان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی اور وہ بی جان کے ساتھ کافی دیر باتوں میں لگا رہا۔۔۔۔۔۔۔

جہانگیر شاہ اپنی بےلوث محبت کرنے والی بیگم مہتاب اور تین فرماانبردار بیٹوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔۔ بڑے بیٹے منور اور بڑی بہو انجمن دوسرے بیٹے حیدر اور بہو راحیلہ سب سے چھوٹے بیٹے مظفر اور بہت شبانہ نے ان کا گھر اور دل اپنے سلیقہ مندی سے سنو

Author Photo
مصنف کے بارے میں
رائیٹر: مشی علی شاہ

مشی علی شاہ ایک تخلیقی لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی سامنے آتی ہے۔ ان کے بیانیے میں نرمی، درد اور امید کا حسین امتزاج ملتا ہے جو پڑھنے والوں کو گہرائی تک متاثر کرتا ہے۔

مشی علی شاہ ہر کردار کو زندہ اور حقیقت کے قریب لکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں پلاٹ کی مضبوطی، کرداروں کی کیمسٹری اور جذبات کا قدرتی بہاؤ قاری کو شروعات سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔

“لفظ تب ہی دل تک پہنچتے ہیں جب وہ دل سے نکلیں۔”

آپ کی آراء اور محبت ان کے لیے سب سے قیمتی ہیں۔ اگر آپ کو تحریر پسند آئے تو براہِ کرم کمنٹ کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

— رائیٹر: مشی علی شاہ

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *